عمران خان کے بھارتی فلم دیکھنے کے بیان پرافغان شہری نے اپنے  ملک کے صدرکوخط  لکھ کرکیا مطالبہ کیااورجواب کیا آیا؟ جان کریقین  کرنا مشکل

عمران خان کے بھارتی فلم دیکھنے کے بیان پرافغان شہری نے اپنے  ملک کے صدرکوخط  ...
عمران خان کے بھارتی فلم دیکھنے کے بیان پرافغان شہری نے اپنے  ملک کے صدرکوخط  لکھ کرکیا مطالبہ کیااورجواب کیا آیا؟ جان کریقین  کرنا مشکل

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک)عمران خان کی حکومت نے 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی کی طرف سے کرفیو کے نفاذ کے بعد پاکستان میں بھارتی فلموں پر پابندی لگا دی تھی لیکن یومِ عزم کی اس تقریب میں عمران خان نے بتایا کہ پچھلے دنوں انہوں نے ایک بھارتی فلم ’’پانی پت‘‘ دیکھی جس میں افغان حکمران احمد شاہ ابدالی کی کردار کشی کی گئی،عمران خان کے اس بیان پرایک افغان شہری نے بھی اپنی  حکومت کوخط لکھ دیا اورمطالبہ کیا کہ بھارت  سے احتجاج ریکارڈکروایاجائے  ،جس پرپتہ چلاکہ افغان حکومت اپنےموقف سے بھارت کو آگاہ  کرچکی ہے۔

روزنامہ جنگ میں سینئرصحافی حامدمیرنے لکھا کہ عمران خان نے بتایا کہ پانی پت کی تیسری جنگ میں ابدالی نے مرہٹا فوج کو شکست دے دی تھی لیکن بھارتی فلم میں یہ دکھایا گیا کہ یہ جنگ مرہٹوں نے جیت لی۔ عمران خان کی تقریر سنتے ہوئے مجھے یہ اطمینان ہو گیا کہ نیٹ فلیکس پر یہ فلم دیکھ کر صرف میں نے بھارتی فلموں پر پابندی کو نہیں توڑا بلکہ وزیراعظم صاحب بھی پیچھے نہیں رہے۔

عمران خان نے کہا کہ اس بھارتی فلم میں تاریخ کو اتنا زیادہ مسخ کیا گیا کہ انہوں نے یہ فلم ہی بند کر دی۔ تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ فلم آخر تک دیکھنا واقعی مشکل ہے کیونکہ اس فلم میں کہیں شاہ ولی اللّٰہ دہلوی کا ذکر نہیں جن کے بلاوے پر احمد شاہ ابدالی نے دہلی پر حملہ کیا تھا تاکہ مسلمانوں کو مرہٹوں کے ظلم سے بچایا جائے تاہم فلم میں مرہٹا فوج کے توپخانے کے کمانڈر ابراہیم خان گاردی کا کردار موجود ہے جس نے مرہٹا فوج کے ساتھ مل کر ابدالی کی افغان فوج کا مقابلہ کیا اور آخر میں ایک لاکھ مرہٹا فوجیوں کے ساتھ مارا گیا لیکن فلم میں اس کی موت میدانِ جنگ میں دکھائی گئی حالانکہ وہ میدانِ جنگ میں نہیں مرا تھا بلکہ اسے گرفتار کرکے ابدالی کے سامنے پیش کیا اور کہا گیا کہ اگر وہ افغان فوج میں شامل ہو جائے تو اسے معاف کر دیا جائے گا لیکن اس نے انکار کر دیا جس کے بعد وہ قتل کر دیا گیا۔

فلم ’’پانی پت‘‘ کا ڈائریکٹر ابراہیم خان گاردی کی مرہٹا فوج کے ساتھ وفاداری کو جان بوجھ کر چھپا گیا کیونکہ آج کل مودی کو خوش کرنے کیلئے مسلمانوں کو غدار کہا جاتا ہے لیکن اس فلم میں احمد شاہ ابدالی کو ایک ظالم، مکار اور سازشی انسان قرار دیکر ہمارے وزیراعظم عمران خان کو سخت ناراض کر دیا گیا۔احمد شاہ ابدالی آج کے افغانستان کے بانی ہیں۔ 1761میں پانی پت کی تیسری جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد وہ واپس قندھار لوٹ گئے۔ اگر وہ آگے بڑھتے تو شاید ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کا موقع نہ ملتا۔ جب برطانوی فوج نے ہندوستان میں سازشیں شروع کیں تو میسور کے حکمران ٹیپو سلطان نے ابدالی کے بیٹے شاہ زمان سے رابطہ کیا۔

ٹیپو نے شاہ زمان اور فرانس کے حکمران نپولین کے ساتھ مل کر انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن انگریزوں نے شاہ زمان کے بھائی محمود خان کو استعمال کیا اور اس نے بھائی کے خلاف بغاوت کر دی یوں شاہ زمان اپنی حکومت بچانے کیلئے ہندوستان سے واپس چلا گیا۔اگر محمود خان اپنے بھائی سے غداری نہ کرتا تو شاید انگریز اس خطے پر قبضہ نہ کر سکتے۔ بہرحال احمد شاہ ابدالی کو افغان اپنا بابائے قوم اور بہت سے پاکستانی اپنا محسن سمجھتے ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ صحافی مختار حسن مرحوم نے تو اپنی کتاب ’’افغانستان‘‘ میں احمد شاہ ابدالی کو تحریکِ پاکستان کا قائدِ اول قرار دیا کیونکہ انہوں نے قلات کے حکمران میر نصیر خان نوری کے ساتھ مل کر پانی پت میں مرہٹوں کی کمر توڑی تھی لیکن کچھ لوگ ابدالی کے بارے میں وہی رائے رکھتے ہیں جو وہ افغان طالبان کے بارے میں رکھتے ہیں۔

عمران خان کی تقریر میں فلم ’’پانی پت‘‘ کا ذکر آیا تو ہمارے ایک افغان دوست نے بھی فٹافٹ یہ فلم دیکھ ڈالی۔ اس فلم نے ان کے تن بدن میں آگ لگا دی اور انہوں نے اپنے صدر اشرف غنی کو پیغام بھیجا کہ اگر پاکستان کا وزیراعظم احمد شاہ ابدالی کی کردار کشی پر غصے کا اظہار کر سکتا ہے تو آپ کو بھی اس فلم کے خلاف ایک بیان دینا چاہئے۔ہمارے اس افغان دوست سے کہا گیا کہ افغان حکومت ایک خط کے ذریعہ بھارتی حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکی ہے۔ ہمارے یہ دوست افغان حکومت میں اہم عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ جو اشرف غنی بابائے افغانستان کی عزت کے تحفظ کیلئے اپنی زبان نہیں کھول سکتا وہ افغانستان کا تحفظ کیسے کر سکتا ہے اس لئے آپ اپنے کالم کے ذریعہ اس بھارتی فلم کے خلاف افغان عوام کے جذبات پوری دنیا تک پہنچا دیں۔

میں نے اپنے اس محترم افغان دوست سے کہا کہ میں آپ کی فرمائش پوری کر دوں گا لیکن آپ ایسا کالم کسی افغان صحافی سے بھی لکھوائیں۔ اس دوست نے فوری طور پر کال کی اور بڑے پیار سے کہا کہ کچھ سال پہلے ایک بھارتی فلم ’’کابل ایکسپریس‘‘ میں افغانوں کی کردار کشی کی گئی تو آپ نے کالم لکھا تھا اسی لئے ’’پانی پت‘‘ کے خلاف کالم کی فرمائش بھی آپ سے کر رہے ہیں کیونکہ آپ کو ہم اپنا سمجھتے ہیں۔

میں اپنے افغان دوست کی فرمائش پوری کر رہا ہوں لیکن میری گزارش ہے کہ محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور احمد شاہ ابدالی کے نام پر تو پاکستان نے میزائل بنا دیے لیکن آپ بھی کبھی اس علامہ اقبال ؒکا ذکر کر دیا کریں جس نے کہا تھا:

افغان باقی، کہسار باقی، الحکم للّٰہ، الملک للّٰہ

افغان طالبان اور امریکہ میں امن معاہدے پر اشرف غنی نے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ شاہ زمان کے بھائی محمود خان والا ہے۔ طالبان سے آپ کئی معاملات پر اختلاف کر سکتے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ انہوں نے ایک غیرملکی طاقت کے خلاف مزاحمت کی اور اسے شکست دی"۔

مزید : بین الاقوامی