”جرم میں ملوث ہونے کے ناکافی شواہد پرکسی کو گرفتارنہیں کیا جاسکتا“اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین نیب کے گرفتاری سے متعلق اختیارات کی تشریح کردی

”جرم میں ملوث ہونے کے ناکافی شواہد پرکسی کو گرفتارنہیں کیا جاسکتا“اسلام ...
”جرم میں ملوث ہونے کے ناکافی شواہد پرکسی کو گرفتارنہیں کیا جاسکتا“اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین نیب کے گرفتاری سے متعلق اختیارات کی تشریح کردی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے پی ٹی اے کے 2 افسران کی درخواست ضمانت کے تفصیلی فیصلہ میں چیئرمین نیب کے گرفتاری سے متعلق اختیارات کی تشریح کردی۔

نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہاگیا ہے کہ جرم میں ملوث ہونے کے ناکافی شواہد پرکسی کو گرفتارنہیں کیا جاسکتا،ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی پر گرفتاری اختیار کا غلط استعمال ہے ،فیصلے میں مزیدکہاگیا ہے کہ اسفندیار ولی کیس میں سپریم کورٹ گرفتاری سے متعلق اختیارات کی تشریح کرچکی ہے ۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری سے پہلے نیب کے پاس کچھ ٹھوس شواہد لازمی ہونے چاہئیں،ایسے شواہد ہوں جو ملزم کا جرم سے بادی النظر میں تعلق جوڑیں۔

ملزم کی مجرمانہ نیت ثابت کرنے کیلئے بھی نیب کے پاس شواہد ہونا ضروری ہیں،شواہد ایسے ہونے چاہئیں کہ ملزم کی نیت مالی یا ذاتی فوائد لینے کی تھی ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد /اہم خبریں