اسلام آباد میں عورت مارچ سے متعلق پینٹنگ مٹا دی گئی لیکن یہ کام کس نے کیا؟ نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کردیا

اسلام آباد میں عورت مارچ سے متعلق پینٹنگ مٹا دی گئی لیکن یہ کام کس نے کیا؟ نجی ...
اسلام آباد میں عورت مارچ سے متعلق پینٹنگ مٹا دی گئی لیکن یہ کام کس نے کیا؟ نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کردیا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) لال مسجد سے وابستہ افراد نے اسلام آباد میں عورت مارچ کے منتظمین کو پینٹنگ سے روک دیا اور بعد ازاں ایف سیون میں پہلے سی کی گئی پینٹنگ بھی مٹادی۔ لال مسجد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کی ہدایت پر ’فحش پینتنگ‘ مٹائی ہے۔سماءنیوز کے مطابق اسلام آباد میں عورت مارچ کی آرگنائزر اور پینٹر ندا مشتاق نے بتایا کہ ہم منگل کی صبح سے ایک گھر کی دیوار پر پینٹنگ کر رہے تھے۔ شام کو پینٹنگ مکمل ہونے والی تھی کہ لال مسجد سے 15 افراد ایس ایس پی کے ہمراہ آئے اور ہمیں زبردستی مزید کام سے روک دیا۔

عورت مارچ کی منتظمین نے ملک بھر میں دیواروں پر خواتین کی نقاشی شروع کر رکھی ہے۔ ندا مشتاق کے مطابق اس کا مقصد عورت مارچ کی تشہیر اور اس کی اہمیت سے متعلق آگاہی پھیلانا ہے۔ندا مشتاق نے بتایا کہ وہ جہاں بھی پینٹنگ کرتی ہیں متعلقہ حکام اور عمارت کے مالکان سے اجازت لیتی ہیں۔ جس گھر کی دیوار پر پینٹنگ سے روکا گیا، اس کے مالک سے بھی پیشگی اجازت لی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ صبح جب ہم نے پینٹنگ شروع کی تو لال مسجد کے قریب تعینات ایک پولیس افسر نے ہمیں دیکھا اور ہمارے کام کی تعریف کی مگر شام کو ہمیں روکنے کیلئے آنے والوں میں وہ بھی شامل تھا۔منتظمین کے مطابق انہیں روکنے والے افراد کا کہنا تھا کہ یہ پینٹنگ ’فحش اور شریعت کے خلاف‘ ہے۔ انہوں نے موقع پر موجود نوجوانوں کو ‘بے غیرت‘ بھی کہا۔

ندا مشتاق نے کہا کہ اس وقت ہم وہاں سے چلے گئے اور بعد میں دوبارہ آئے تو وہی لوگ سیڑھیوں پر چڑھ کر اس پینٹنگ پر کالی اسپرے مار رہے تھے۔ انہوں نے ہماری پوری دن کی محنت کو ضائع کردیا۔چینل کے مطابق لال مسجد کے ترجمان ہارون رشید نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو مولانا عبدالعزیز نے پینٹنگ مٹانے کیلئے بھیجا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ ’ یہ ایک مخصوص طبقہ ہے جو ایلیٹ کلاس سے بھی اوپر ہے۔ یہ طبقہ فیمینزم کے نام پر ملک میں الحاد اور فحاشی پھیلا رہا ہے۔‘ہارون رشید نے دعویٰ کیا کہ عورت مارچ کو ملک بھر میں خواتین کی اکثریت نے مسترد کردیا ہے کیوں کہ اس مارچ کو مغرب کی مالی معاونت حاصل ہے اور اس کا مقصد ملک میں مغربی کلچر کو فروغ دینا ہے۔

علاقے کے اسٹنٹ کمشنر دانش ذاکر نے بتایا کہ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتی، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔یاد رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ لاہور کے حسین چوک پر بھی کچھ لوگوں نے عورت مارچ کی پینٹنگ مٹادی تھی۔ حال ہی میں جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے عورت مارچ کے منتظمین کو دھمکیاں دی گئیں اور اسے اسلامی اقدار کو خطرہ قرار دیا۔ندا مشتاق نے بتایا کہ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے عورت مارچ کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے آج اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کریں گے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد