کس کا جسم اور کس کی مرضی ؟

کس کا جسم اور کس کی مرضی ؟
کس کا جسم اور کس کی مرضی ؟

  



کسی بھی معاشرے کی تشکیل اسکی تہذیب، نظریات، اقدار اور روایات پر مبنی ہوتی ہیں ۔ زندگی ہزار ہا سال سے چلتی آرہی ہے عقائد پرانے ہو جاتے ہیں، اقدار پہناوے بدل لیتی ہے ،روایات میں جدت آجاتی ہے اور نظریات کے معنی بدل جاتے ہیں کچھ سانحات کی تلافی ممکن ہوتی ہے، جبکہ کچھ سانحات ایسے ہیں جو نا قابل تلافی و ناقابل جبران ہیں، جنکا کوئی آلٹرنیٹ نہیں ہے کہ جن کے ذریعے سے انسان اس کی کمی کو پورا کر سکے ۔ ہم سانحات اور بحرانوں میں ڈوبی ہوئی قوم ہیں اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں تو اس سے قطع نظر کہ تہذیب ہی تہذیب کو جنم دیتی ہے، اچھی بنیادوں پر ہی محلات تعمیر کیے جاتے ہیں نازیبائی کو سوار کیے الفاظ کے گھوڑوں کو چابک مار کر، آوارہ چھوڑ دیتے ہیں.

حق مانگنے اور حق چھیننے میں فرق ہے ، حق چھیننے کے لیے جنگل باسیوں کا شیوہ اختیار کیا جاتا ہے، اور وہیں کا رخ کیا جاتا ہے نہ کہ بستیوں کا ۔ آئین میں تبدیلی کے لیے قانون کا سہارا لینا پڑتا ہے، ناکہ سڑکوں کا ۔

طرم خان بنیے! حق کی خاطر آواز اٹھائیے مگر یہ سوچ کر کہ کہیں بستی نہ اجڑ جائے ۔ جنگلوں سے بستی کا سفر کیا جاتا ہے بستی سے جنگلوں کا نہیں ۔ وہ چنگاری نہ بنیے جو راکھ کے ڈھیر کے پاس بھڑکے، وہ چراغ بنیے جو آندھیوں میں بھی جلتا رہے، شعار وہ اپنائیے جو خوبصورت مفہوم کے حامل ہوں نا کہ مقصد کو عریاں کردے۔

اگر آپ مصنف ہیں اور ادب سے آپ کا تعلق آپ کی پہچان ہے، آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ ادب کی تمام حدیں پار کر لیں ۔آپ کی قلم اور زبان کے مابین اتنی مسافت؟ کہ قلم تحت تصرف ہو تو آپ زیبائش کا مظاہرہ کریں اور زبان کو اتنا طول دیں کہ وہ الفاظ کو حدود و قیود بتانا بھول جائیں ۔کسی کے عقیدے پر کوئی حرف نہیں اظہار رائے پر اعتراض ہو سکتا ہے اس اعتراض کو لفظوں کا مہذب لبادہ پہنا کر بھی تنقید کی جاسکتی ہے ۔بجائے اس کے کہ پورا معاشرہ کلی طور پر اپنے مخالف کو گالی در گالی دینے کی روایت پروان چڑھائے ۔ نمائیندگی کے لیے ایسے نمائندے منتخب کریں جن کی بات میں وزن ہو ناکہ وہ جن کی گالی وزنی ہو۔ فضول اور بے وقت کی راگنی میں مقصد کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔مقصدِ تخلیق کہ جس کے لیے غاروں سے نکل کر تہذیب انسانی کی بنیاد رکھی جائے۔بصورتِ دیگر قمری راتوں میں یہ سرمدی نعرے عوام کا جینا دو بھر کرتے رہیں گے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ