سپریم کورٹ نے پاکستانی خواتین کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی

سپریم کورٹ نے پاکستانی خواتین کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی
سپریم کورٹ نے پاکستانی خواتین کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے پاکستانی خواتین کو ایک بہت بڑی خوشخبری سنا دی ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ بیوی کی اجازت کے بغیر شوہر کو اس کی جائیداد پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ جسٹس عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ڈویژن بینچ نے یہ بھی واضح کیا کہ شوہر بیوی کی مرضی کے بغیر اس کی جائیداد بطور ضمانت دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کی جائیداد میں کسی طرح کا رخنہ ڈال سکتا ہے۔ بیوی اپنی جائیداد فروخت کرنے سمیت ہر طرح کے اقدام کی مجاز ہے، جو وہ کرنا چاہے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ”عورت کو وراثت میں بھی جو کچھ ملتا ہے وہ اس کی مالک صرف وہی ہے۔ اس کا باپ، شوہر، بھائی یا بیٹا کسی طور اس کے مالک نہیں ہو سکتے۔ عورت کو اس جائیداد کے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ شادی کے موقع پر جو چیز یا جائیداد بطور تحفہ یا بطور حق مہر دلہن کو دی جاتی ہے وہ بھی اس دلہن کی ملکیت ہوتی ہے اور اس پر بھی شوہر کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ “ واضح رہے کہ عدالت نے یہ احکامات مہرین نامی خاتون کی طرف سے دائر کیے گئے مقدمے میں دیئے۔ مہرین کی 15مئی1995ءکو منصور نامی شخص سے شادی ہوئی تھی۔ شادی کے 16سال بعد 2011ءمیں مہرین نے 1کنال کے ایک گھر کی ملکیت کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا۔ یہ گھر اسے منصور نے حق مہر میں دیا تھا اور نکاح نامے میں درج بھی تھا لیکن بعد ازاں منصور کے ماں باپ نے اس گھر پر اپنا دعویٰ ظاہر کر دیا اور مہرین نے ان کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد