پلوامہ حملے کیلئے بارودی مواد کہاں سے اور کس نے خریدا ؟ ناقابل یقین انکشاف

پلوامہ حملے کیلئے بارودی مواد کہاں سے اور کس نے خریدا ؟ ناقابل یقین انکشاف
پلوامہ حملے کیلئے بارودی مواد کہاں سے اور کس نے خریدا ؟ ناقابل یقین انکشاف

  



سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی ای کامرس کمپنی ’ایمازون‘ کی مدد سے بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)پلوامہ حملے میں استعمال ہونے والا بارودی مواد مہیا کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں 14فروری 2018ءکو بی ایس ایف کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں بی ایس ایف کے 40اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں استعمال ہونے والی خودکش جیکٹ کے لیے کپڑا، بیٹریاں اور بارودی مواد مبینہ طور پر 19سالہ واعظ الاسلام نامی نوجوان نے ایمازون سے خریدا تھا۔ این آئی اے نے واعظ کے اکاﺅنٹ کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ایمازون کے بھارت میں موجود دفتر سے رابطہ کیا جس نے انہیں ڈیٹا فراہم کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس ڈیٹا کی مدد سے این آئی اے نے واعظ الاسلام اور محمد عباس راٹھر نامی نوجوان کو گرفتار کر لیا۔ این آئی اے کے دعوے کے مطابق واعظ نے بارودی مواد خریدا اور محمد عباس نے واعظ، خودکش حملہ آور عدیل احمد ڈار اور دیگر لوگوں کو اپنے گھر میں علاقے میں دیگر جگہوں پر رہائش فراہم کی۔ اس سے قبل3مارچ کو پلوامہ کے رہائشی طارق احمد شاہ نامی شخص اور اس کی بیٹی انشا جان کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان پر بھی یہی الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی اس حملے سے متعلق لوگوں کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ اب تک پلوامہ حملے میں سہولت کاری کے مختلف الزامات میں 5افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مزید : بین الاقوامی