جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 14 سالہ بچی نے بیٹی کو جنم دے دیا

جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 14 سالہ بچی نے بیٹی کو جنم دے دیا
جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 14 سالہ بچی نے بیٹی کو جنم دے دیا

  



راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) راولپنڈی سے ایک 14سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی ایک ایسی ہولناک واردات سامنے آئی ہے کہ انسانیت شرم سے پانی پانی ہو جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بچی کو کئی ماہ تک 4مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی اور گزشتہ دنوں اس نے ایک بیٹی کو جنم دے دیا ہے۔ اس بچی کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد اس کے والد نے دوسری شادی کر لی تاہم سوتیلی ماں جھگڑے کے بعد گھر چھوڑ کرچلی گئی تھی جس کے بعد بچی کا باپ ناشتہ بناکر بچی کو کھلاتا اور کام پر چلا جاتا تھا جس کے بعد بچی گھر میں اکیلی ہوتی تھی۔

اسد علی نامی ہمسایہ جانتا تھا کہ بچی گھر میں اکیلی ہوتی ہے۔ ایک روز وہ گھر گیا اور بچی سے کہا کہ اسے کوئی چیز باہر سے منگوانی ہے تو بتا دے لیکن بچی نے انکار کر دیا اور وہ چلا گیا۔ چند دن بعد وہ دوبارہ گھر گیا اور زبردستی بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ اگلے روز وہ اپنے ساتھ اپنے دوست بہادر علی کو لے گیا اور دونوں نے گن پوائنٹ پر بچی کو درندگی کا نشانہ بنایا۔ پھر اس کے بعد ان دونوں کا یہ معمول بن گیا۔ ایک اورہمسائے عابد نے ان دونوں کو اس گھر میں آتے جاتے دیکھا تو اسے شک گزرا اور اس نے نظر رکھنی شروع کر دی۔ عابد 50سال سے زائد عمر کا آدمی تھا۔ ایک روز دونوں ملزم آئے تو عابد نے انہیں بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے دیکھ لیا۔

جب اسد اور بہادر علی چلے گئے تو عابد پولیس کو یا بچی کے باپ کو بتانے کی بجائے خود بچی کے گھر چلا گیا اور اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے انکار کیا تو وہ اس کے باپ کو بتا دے گا کہ وہ اس کے جانے کے بعد کیا گل کھلارہی ہے۔ اس کے بعد عابد نے بھی بچی کے ساتھ درندگی شروع کر دی۔ عابد کی طرح ایک اور یحییٰ نامی ہمسائے نے بھی یہی طریقہ برتا اور بچی کو خوفزدہ کرکے زیادتی کرنے لگا۔ یہ تمام چاروں ہمسائے کئی ماہ تک بچی پر ظلم کرتے رہے جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ گزشتہ ماہ فروری میں بچی کا حمل واضح ہونے پر اس کے باپ کو علم ہوا۔ جس کے بعد ان کے پاس بچہ پیدا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ بچی کے والد نے 16فروری کو پولیس کو رپورٹ درج کروائی۔ پولیس چاروں ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے، جبکہ بچی اور اس کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹی راولپنڈی چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی تحویل میں ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /راولپنڈی