چرچ کی دیوار سے1400 سال پرانا انسانی ڈھانچہ برآمد ، تحقیق ہوئی تو ایسا نتیجہ کہ آپ کو بھی یقین نہ آئے

چرچ کی دیوار سے1400 سال پرانا انسانی ڈھانچہ برآمد ، تحقیق ہوئی تو ایسا نتیجہ کہ ...
چرچ کی دیوار سے1400 سال پرانا انسانی ڈھانچہ برآمد ، تحقیق ہوئی تو ایسا نتیجہ کہ آپ کو بھی یقین نہ آئے

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ عرصہ قبل برطانوی علاقے کینٹ میں واقع ایک چرچ کی دیوار سے انسانی ڈھانچہ برآمد ہوا تھا جس پر تحقیق کے بعد ماہرین نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ دی سن کے مطابق چرچ کی دیوار سے برآمد ہونے والی ہڈیوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ ہڈیاں ایک خاتون کی ہے جو 1400سال قدیم ہیں اور اس خاتون کا تعلق برطانوی شاہی خاندان سے ہے۔

اس دریافت کے بعد یہ ملکہ برطانیہ کی قدیم ترین رشتہ دار خاتون واقع ہوئی ہے جس کی باقیات ملی ہیں۔ کوئنز یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا ہے کہ اس خاتون کا نام سینٹ اینزوائتھ تھا جو 7ویں صدی عیسوی میں زندہ تھی۔ سینٹ اینزوائتھ کینٹش شاہی سینٹ تھی اور اینگلو سیکسن بادشاہوں کی اولاد میں سے تھی۔ اس کی باقیات کو راہبوں نے فوک سٹون میں واقع اس چرچ کی تعمیر نو کے دوران دیوار میں محفوظ کر دیا تھا۔

سینٹ اینزوائتھ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مذہبی مسیحی خاتون تھیں جن سے شمال مشرقی انگلینڈ کے بادشاہ پیگن نے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن سینٹ اینز نے بادشاہ کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا اور ’نن‘ بننے کا فیصلہ کیا۔سینٹ اینز وائتھ کی والدہ کا نام برتھا (Bertha)تھا جو کینٹ کی مسیحی ملکہ تھیں اور انہوں نے سینٹ آگسٹن کے ساتھ مل کر پیگن بادشاہ کو تبلیغ کی تھی اور اس نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ سینٹ اینز عمر کی 20کی دہائی میں ہی ایک وبائی مرض کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس