مرد اور عورت کو آپس میں لڑانے والے خاندانی نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں :سراج الحق

مرد اور عورت کو آپس میں لڑانے والے خاندانی نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں :سراج ...
مرد اور عورت کو آپس میں لڑانے والے خاندانی نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں :سراج الحق

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہےکہ مغربی ممالک کی خواتین جتنی تنہا یا اکیلی ہیں، اسلامی ممالک میں مسلمان خواتین اتنی ہی طاقتور ہیں،جو لوگ چاہتے ہیں کہ مرد اور عورت کو آپس میں لڑادیں گے دراصل یہ لوگ انسانیت کے دشمن اور خاندانی نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، دجالی تہذیب کے علمبردار کچھ طبقے خاندانی نظام کی دھجیاں اڑانا چاہتے ہیں جبکہ  یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ اسلام کے سوا کسی مذہب یا تہذیب نے عورت کو مقام نہیں بخشا، مغرب انسانوں کی آزادی اور عورت کی بات کرتا ہے مگر عورت کو حجاب کرنے کی اجازت نہیں دیتا،انسان اللہ کی تخلیق ہے او ر اس کے بنائے ہوئے اصولوں اور ضابطوں کا پابند ہے۔

کراچی میں خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عورت کا احترام صرف دین فطرت 'اسلام' میں ہے اس لیے مرد و عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔سراج الحق نے کہا کہ یورپ سے تعلق رکھنے والی خواتین تنہا رہ گئیں ہیں، وہ کسی خاندان کا حصہ نہیں اس لیے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کی خواتین جتنی تنہا یا اکیلی ہیں اسلامی ممالک میں مسلمان خواتین اتنی ہی طاقتور ہیں۔انہوں نے کہا کہ  مجھے یقین ہےکہ اگر آسمان،سورج ،چانداورستاروں کی وجہ سے خوبصورت ہےتو یہ دھرتی اور زمین غیرت مندماؤں ،بہنوں اوربیٹیوں کی وجہ سےخوبصورت ہے،خواتین ہماری عزت اور غیر ت ہیں ،ان ہی خواتین کی وجہ سے یہ ملک ایک اسلامی پاکستان بنے گا۔ انہوں نے کہاکہ حلقہ خواتین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے یکم مارچ سے 20مارچ تک ملک بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے ”تکریم نسواں مہم“ شروع کی ہے،ہم آج ڈاکٹر عافیہ کو بھی یاد کرتے ہیں جب افغانستان میں 5ہزار قیدی رہا ہوسکتے ہیں تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہا کیوں نہیں ہوسکتی؟ہم آج کے دن کشمیر ،فلسطین اور افغانستان کی ماؤں ، بیٹیوں اور بہنوں کو بھی یاد کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں جانے والی خواتین عائشہ منور،کوثر فردوس،نعیمہ کشوراور عائشہ سید کی کارکردگی سب سے زیادہ نمایاں اور مثالی رہی ہے ،چند مغرب زدہ خواتین کا ٹولہ چاہتا ہے کہ ہمارے معاشرے کو یرغمال بنالیا جائے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ،ہماری مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ان کا مقابلہ کریں گی ، ہمارا مطالبہ ہے کہ خواتین کو اللہ کے عطا کردہ حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ،وراثت میں حق دیا جائے ،جو مرد اپنی بہن ،بیٹی کو وراثت میں حصہ نہ دے اسے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے،خواتین کے لیے باعزت اور محفوظ ٹرانسپورٹ کا نظام بنایاجائے ،صنعتوں میں ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کر کے ، خواتین ملازمین کو مستقل کیا جائے ،خواتین کے لیے صحت اور تعلیم کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے،ہر شہر میں خواتین یونیورسٹی بنائی جائے،جہیز کی لعنت ختم کی جائے ،کاروکاری قرآن سے شادی سمیت دیگر جاہلانہ رسومات ختم کی جائیں ،خواتین کے لیے بلا سود قرضے دیے جائیں،اسلام نے عورتوں کو کھیل سے منع نہیں کیا،خواتین کے لیے چاردیواری کے اندر کھیل کود کا انتظام کیا جائے،بچیوں کو اغواءاور یرغمال بنانے پھر زیادتی کر کے اس قتل کر نے والے کو سزا ئے موت دی جائے ،زینب بل میں قصاص کی شق شامل کی جائے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا فلاحی ملک ہو جس میں غربت ، مہنگائی ،بے روزگاری ،کرپشن ، جہالت اور ملاوٹ نہ ہو ،خواتین ، بچیاں سب کی عزت اور دوپٹہ محفوظ ہوں،ایسا پاکستان جس میں ان سب کا مستقبل اور حال دونوں محفوظ ہوں ۔انہوں نے کہاکہ انسان اشرف المخلوقات ہے یہ جانوروں کی طرح نہیں یہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے انسان کو بہت خوبصورت بنا یا ہے،یہ انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے او ر اس کے بنائے ہوئے اصولوں اور ضابطوں کا پابند ہے ، جس خالق اور مالک نے ہمیں عزت اور زندگی بخشی ہے تو پھر ہم اس کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ہی زندگی گزاریں، جب اللہ نے بے شمار نعمتیں دی ہیں تو حکم بھی اللہ ہی کاہوگا،عورت اورمرد کا احترام اور عزت ووقار صرف اسی دین میں ہے جو دین فطرت ہے اور وہ دین اسلام ہے ،اسلام کے سوا دنیا کی کسی تہذیب ومذہب میں عزت اور وقار نہیں دیا ،زمانہ جاہلیت میں لڑکی کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا ،شوہر کے مرنے پر بیوی کو ساتھ ہی زندہ جلادیاجاتا تھا،اسلام نے عورت کو ماں ، بہن ،بیٹی کا مقام دیا اور اسے وراثت میں حق دیا ،مہر کا حق دلایا ،اسلام نے عورت کو تعلیم کا حق دیا اور مشاورت میں شریک کیا ۔

انہوں نے کہا کہ مغرب کہتا ہے کہ عور ت مظلوم ہے کیونکہ اس کو عورت کی حیثیت سے حقوق نہیں ملے ، جب وہ کہتے ہیں کہ میرا جسم میری مرضی تو بدقسمتی سے آج مغرب میں عورت کے پاس جسم کے سوا کچھ نہیں ہے ،مغرب نے عورت کا استحصال کیا ہے اس وجہ سے ہی مغرب کی عورت آج اکیلی اور تنہا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں عورت کے ساتھ اس کا باپ ، بھائی ، بیٹا اور شوہر ہے ،مغرب میں ماؤں کو اولڈ ہاؤس میں ڈال دیا جاتا ہے،خواتین کو اشیا فروخت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،ہمارے گھروں میں ماؤں کا آج بھی بہت عزت واحترام کیا جاتاہے،میں خود اپنے رب کے بعد اپنی ماں سے ڈرتا ہوں اور اس کے بعد اپنی 6سالہ بیٹی فاطمہ سے ڈرتا ہوں ، اس کی بات میں رد نہیں کرسکتا،ہمارے ہاں ہر گھر میں فاطمہ موجود ہے اور عزت دار اور قابل احترام ماں موجود ہے اور وہ ہمارے گھروں کی روشنی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مغرب انسانوں کی آزادی اور عورت کی بات کرتا ہے مگر عورت کو حجاب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید : قومی