آپ جناب!

آپ جناب!
آپ جناب!

  

خواتین و حضرات چند روز قبل ایک دلچسپ خبر تقریباً تمام اخبارات میں پڑھنے کو ملی جس نے ہمیں یہ کالم لکھنے پر اکسایا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ سی سی پی او لاہور نے ایک حکم جاری کیا ہے کہ پولیس تھانوں میں آنے والے شہریوں اور سائلین کو ”جناب“ کہہ کر مخاطب کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ میرٹ پر تفتیش اور فوری انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ یہ حکم نامہ انہوں نے تھانہ مصری شاہ میں منعقدہ ایک کھلی کچہری میں اعلیٰ پولیس افسروں سے خطاب کرتے ہوئے جاری کیا۔ جہاں تک ”میرٹ  پر تفتیش اور فوری انصاف“ کا تعلق ہے تو اس پر کچھ عرض نہیں کریں گے۔ آپ کسی دن کا بھی کوئی سا بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اس جملے کی صداقت اور سنگینی پر ندامت ہوگی……

کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ہاں البتہ! ”جناب“ کہہ کر مخاطب کرنے پر بات ضرور کریں گے۔ ہم اور آپ اس امر سے بخوبی واقف ہیں غیر شائستہ زبان کے استعمال میں محکمہ پولیس کے اہلکار پیش پیش نظر آتے ہیں۔ یہ اوسطاً ہر چار الفاظ کے بعد ایک گالی کا پیوند ضرور لگاتے ہیں۔ ان کے ہاں ”شکریہ“ ”مہربانی“ ”معاف کیجئے“ اور ”شاید میں ہی غلطی پر ہوں“ جیسے تکلّفات استعمال کرنے کا رواج نہیں ہے۔ اب محترم سی سی پی او لاہور نے ہدایت جاری کرکے پولیس اہلکاروں کو کڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ جن کا ہر جملہ ”اوئے“ سے شروع ہوکر گالی پرمنتج ہوتا ہے، وہ ”آپ، جناب“ جیسے القاب سے کیونکر مانوس ہو سکتے ہیں۔

”جناب“ کا لفظ اس محکمے کے عملہ کی غیرت کو للکارنے والی بات ہے۔ ان کے لیے اس نئی ہدایت اور نیا قانون منٹو کے افسانے والا ”نیا قانون“سے کسی طور کم نہیں۔ ان کے ہاں تو ……

آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگی

والی صورت حال ہوتی ہے۔ ان حالات میں ہر آنے والے کو جناب کہہ کر مخاطب کرنا چہ معنی دارد؟۔ یوں بھی تھانہ چوکی میں آنے والا پولیس کی نظر میں ”جناب“ ہو ہی نہیں سکتا۔ وہاں تو ہر شخص شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے الفاظ کا استعمال ان کی زبان خراب کرنے کے مترادف ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے تصور کریں کہ پولیس اہلکار کو اپنے سربراہ  کے اس حکم کی تعمیل کرنی ہی پڑ جائے تو صورت حال کچھ یوں ہو گی……

سائل۔ تھانیدار صاحب، میرا موٹر سائیکل چوری ہوگیا ہے۔ رپورٹ درج کرانی تھی۔

تھانیدار۔ جناب! آپ کرسی پر کیوں تشریف رکھ رہے ہیں۔ ادھر کونے میں کھڑے ہوجائیں۔ جناب (جناب پر زور دیتے ہوئے) یہ تھانہ ہے۔ آپ کا سسرال نہیں۔

سائل۔ تھانیدار صاحب، میری بائیک چوری ہوئی ہے، میں نے چوری نہیں کی۔ میں مجرم نہیں۔ 

تھانیدار۔ مجھے تو آپ ہی شکل سے چور لگتے ہیں جناب محترم۔ موٹر سائیکل کے کاغذات لائے ہیں آپ، اپنے ہمراہ جناب!  یا یوں ہی منہ اٹھا کر آ گئے ہیں۔

سائل۔ سرکار وہ تو موٹر سائیکل کے ساتھ ہی چلے گئے……

تھانیدار۔ تو پھر آپ بھی اس کے ساتھ دفع ہوجائیں، جناب۔ ہم آپ کے والد صاحب قبلہ کے ملازم نہیں۔ یہاں ریلوے انجن چوری ہوگیا تھا، آپ اپنی پھٹپھٹی کو رو رہے ہیں، جناب۔ فٹے منہ آپ کی سوچ کا جنابِ من!

خواتین و حضرات، سی سی پی او لاہور نے تو حکم صادر فرما دیا ہے کہ سائل اور تھانے آنے والے شہریوں کو جناب کہہ کر مخاطب کیا جائے لیکن موصوف نے یہ نہیں فر مایا کہ ملزمان اور متوقع مجرمان کو کیا کہہ کر مخاطب کیا جائے گا، جو ابھی الزامات کی حدود میں ہی ہیں۔ اسی طرح جلوس پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس پھینکنے سے قبل لوگوں سے ”جناب!  لاٹھی چارج ہوا چاہتا  ہے“۔

ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ محکمہ پولیس میں کوئی ”ضابطہ اخلاق“ موجود ہے یا نہیں اور وہ تھانوں چوکیوں وغیرہ میں آویزاں بھی ہے کہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید سی سی پی او کو یہ حکم جاری کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ بھلے وقتوں میں مختلف محکموں میں ہفتہ صفائی، ہفتہ شجرکاری، ہفتہ ٹریفک وغیرہ منایا جاتا تھا۔ اب صرف ہفتہ شجرکاری باقی رہ گیا ہے۔ ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ ٹریفک پولیس نے ہفتہ ٹریفک منایا۔ بڑے بڑے چوراہوں اور سڑکوں پر ٹریفک پولیس نے اپنے کیمپ لگائے۔ جن پر لاؤڈ سپیکر کے ذریعے مخاطب ہوکر،  مختلف ہدایات دی جارہی تھیں اور ذمہ داری کا احساس دلایا جارہا تھا۔ ایسا ہی ایک کیمپ شادمان چوک میں بھی لگا ہوا تھا۔ ہم ہر روز اسی چوک سے گزر کر اپنے دفتر آتے جاتے ہیں۔ ٹریفک پولیس جو زبان استعمال کر رہی تھی،  وہ تھی تو اردو ہی مگر اس پر پنجابی زبان کا گمان ہورہا تھا۔ الفاظ ”جناب“ کی طرح تھے تو با ادب، لیکن لہجہ ترش اور سخت تھا۔ ٹریفک پولیس کے استعمال کیے جانے والے جملوں سے محسوس ہورہا تھا کہ انہیں محکمے کی  جانب سے ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ شہریوں سے نہایت شائستہ زبان میں مخاطب  ہوں اور ہر جملے کے ساتھ ”شکریہ“ ”برائے مہربانی“ جیسے الفاظ استعمال کریں۔ بلکہ جملہ ”مہربانی“ اور ”شکریہ“جیسے لفظ پر زور دے کر ختم کیا جائے۔

شادمان چوک پر لاؤڈ سپیکر پر پولیس والوں کے جملے بہت دلچسپی پیدا کر رہے تھے۔ ایک جانب تو انہیں ٹریفک کی خلاف ورزی پر غصہ آتا تھا تو دوسری جانب وہ رد عمل کے طور پر گالی بھی نہیں نکال سکتے تھے۔ اس پر مزید یہ کہ زبان شائستہ رکھنی ہے۔ اور جملہ ”شکریہ“ پر ختم کرنا ہے۔ مجھے ان کی حالت بہت قابل رحم لگی۔ تاہم جو صوت حال پیدا ہورہی تھی وہ کچھ یوں تھی…… 

ایک موٹر سائیکل والے سے ٹریفک پولیس والا مخاطب ہوتا ہے، ”اولے نیلی شلوار قمیض والے موٹر سائیکل سوار، اپنی بائیک اپنی لائین میں کرو۔ آپ کی وجہ سے ٹریفک میں رکاوٹ پڑ رہی ہے“۔

بائیک والا اس اعلان پر کوئی توجہ نہیں کرتا۔ پولیس والا دوبارہ بائیک والے سے مخاطب ہوتا ہے، ”اوئے نیلے سوٹ پہنے بائیک والے، یہ سڑک تیرے باپ کی نہیں، پرے دفع ہو اپنی لائن میں، شکریہ!“۔ یہی پولیس والا ہیلمٹ کے بغیر ایک موٹر سائیکل والے سے مخاطب ہے، ”اوئے یہ ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل والے، کالی شرٹ والے جوان، ذرا ادھر آنا!  تیری چھترول کروں۔۔۔ مہربانی“۔ اتنے میں ایک گدھا گاڑی والا بھی ٹریفک میں آگھسا۔ پولیس والا نہایت ادب سے چلایا…… 

”اوئے کھوتا ریڑھی والے صاحب، جانور کے ساتھ رہ رہ کر آپ جانور ہوگئے ہو۔ پرے کر کھوتا ریڑھی، ورنہ تیری خبر لیتا ہوں، بہت شکریہ“۔ ایک ویگن والے سے مخاطب ہوتا ہے، ”اوئے 9 نمبر والی ویگن کے ڈرائیور، موٹے مشٹنڈے، غلط اوور ٹیک کرتا ہے، ابھی تیری شامت لاتا ہوں، اپنی ویگن میری طرف لے کر آ،  تھینک یو“۔

یوں تمام دن دھمکیوں اور لعن طعن کے ساتھ ساتھ ”شکریہ“، ”مہربانی“ چلتا رہا۔  اب اس میں ”جناب“ بھی شامل ہوگیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہ ”جناب“ والی پالیسی کامیاب ہوگئی تو سائل، ملزمان اور تھانے آنے والے دیگر افراد کو اگلی پالیسی میں ”میری جان“ کے لقب سے پکارا جائے گا۔ بقول فراز۔ ۔

دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں 

خواتین و حضرات، آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کبھی کسی پولیس کے سپاہی، سارجنت یا ٹریفک پولیس والے  کو مسکراتے نہیں دیکھیں گے۔ ان کے چہروں پر ہمیشہ غصہ، زبان میں تلخی، ماتھے پر شکن اور طرز عمل میں دشمنی کی کیفیت نظر آئے گی۔ سی سی پی او لاہور سے التماس ہے کہ پولیس والوں کے لئے ”مسکرانے“ کا حکم نامہ بھی جاری فرمائیں۔ یوں بھی معاشرے میں مسکراہٹ کا  کال بلکہ قحط پڑ گیا ہے۔

بقول احمد ندیم قاسمی۔۔۔

مسکراتا ہے جو اس عالم میں 

یا خدا، مجھ کو خدا لگتا ہے

مزید :

رائے -کالم -