بہتر حکمرانی کا ادھورا خواب 

 بہتر حکمرانی کا ادھورا خواب 
 بہتر حکمرانی کا ادھورا خواب 

  

بہتر حکمرانی سے ریاستی اور آئینی ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور ملک کو چلانے کے لئے انقلابی اقدامات کرنے میں آسانیا ں پیدا ہوتی ہیں جن ممالک نے دنیا میں بہتر حکمرانی کے لئے اصلاحات کیں وہ ممالک ترقی کر کے عوامی آمنگوں کے مطابق حکومتیں چلا رہے ہیں اور ان کے نظاموں میں دن بدن بہتری آتی جا رہی ہے نبی کریمؐ اور خلفائے راشدینؓ نے بہتر حکمرانی کے لئے بے شمار اقدامات کئے اور ان کی حکومتیں کامیاب رہیں۔ حضرت عمر فاروق   ؓکی حکومت کو اس سلسلہ میں مثال بنایا جا سکتا ہے۔ نواز شریف نے 1997ء میں یواین ڈی پی کے تعاون سے گڈگورینس گروپ تشکیل دیا جو پہلے پلاننگ کمیشن کے ماتحت کام کرتا رہا اورپھر اس کو اسٹیبلشمنٹ کے انڈر کر دیا گیا 1997ء تا 1999ء کے بعد بھی مشرف دور میں اس نے کام کو جاری رکھا نواز شریف کے 1997ء تا 1999ء کے دور میں گڈ گورننس گروپ نے بے شمار سیمینار اور ورکشاپس کروا کر بہتر حکمرانی کے لئے کام کیا افسوس کہ اس کو وفاق کی حد تک محدود کر دیا گیا اس کو صوبوں تک نہیں پھیلایا گیا، جس کے سبب یہ بہتر حکمرانی میں اصلاحات نہ لا سکا ملک میں بہتر حکمرانی کا ایک مسلسل ادارہ قائم رہنا چاہئے جو کہ بہتر حکمرانی میں بہتری لانے کے لئے اقدامات کرتا رہے ریاست کی مضبوطی اور پارلیمانی اداروں میں بھی بہتری لانے کے لئے ایسے ادارے ضروری ہیں پاکستان کے سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوام کو ڈلیوری نہ دینا بھی گڈ گورننس کے نہ ہونے کے سبب ہے سرکاری ادارے شکست وریخت کا شکار ہیں ان میں ہم آہنگی کا فقدان ہے اور اصلاحات میں عدم دلچسپی کی وجہ سے وسائل کا بہتر استعمال نہیں ہوتا،ملک میں سیاست دان اور عدلیہ کا کردار بھی بہتر حکمرانی کا اہم ستون ہے۔

موجودہ حکومت کو کئی مشکلات در پیش ہیں ان میں سب سے اہم مشکل عوام بیوروکریسی کو قرار دے رہے ہیں تین سال سے زائد عرصہ میں حکومت کے قابو میں بیوروکریسی نہیں آ سکی عوام کی اس سلسلہ میں رائے  بڑی واضح ہے ان کا خیال ہے کہ ابھی بھی بیوروکریسی کی ہمدردیاں نواز شریف کے ساتھ ہیں، جس کی وجہ سے حکومت ناکام ہو گئی ہے بیوروکریسی میں مسلسل اکھاڑ بچھاڑ کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ہے حکومت بھی سر جوڑ کر بیٹھی ہے کہ اب کیا جائے کافی حربے حکومت آزما چکی ہے پاکستان  کے قیام کے وقت بھی نئی ریاست میں بہتر حکمرانی میں بے شمار مشکلات تھیں چونکہ اس وقت بیوروکریسی کی تعداد کم تھی، جس کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں ملک کو کسی نہ کسی طریقہ سے چلایا جاتا رہا انگریز کا بنایا ہوا طرزِ حکمرانی ہمیں ورثہ میں ملا ہم نے اس میں اصلاحات کرنے کی بھی کم کوشش کی ہے، جس سے ملکی مسائل اور مشکلات میں اضافہ بڑھتا گیا ہے ریاست بھی اس سے متاثر ہوتی گئی اور سیاست دانوں کی کارگردگی پر بھی اس کے اثرات بڑھتے گئے ہیں موجودہ حکومت نے تین سال کے عرصہ میں بیوروکریسی کو مسلسل تبدیل کر کے تجربات کئے ہیں، لیکن وہ اس میں ناکام رہی اس سے حکومت کو جو اہم مشکل پیش آئی، جس کا براہ راست تعلق عوام سے ہے وہ مہنگائی پر کنڑول کرناہے  اس سے حکومت کے خلاف عوامی رد عمل پڑھتا چلا گیا ہے حکومت نے تین سال کے عرصہ میں پولیس”کمشنرز“ ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی عہدیداروں کو کئی بار تبدیل کیا، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے  چیف سیکریڑی پنجاب نے  حکمرانی  میں بہتری لانے کے لئے تجاویز دی ہیں جو بہتری کی طرف جانے کے لئے مفید اور موثر لگتی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اگر اس کو نافذ کر دیا گیا تو حکومت کی کارکردگی پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

 چیف سیکرٹری  پنجاب کامران علی افضل نے  مسائل کا  حل اور ترجیحات تجویز کی ہیں ان میں کرپشن اور پنجاب ایڈمن سٹریشن کی عدم صلاحیت کو ختم کرنا۔میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں اور قواعد کے مطابق عہدے کی معیاد پر دو سے تین سال تک افسر کو مستحکم رکھنا شامل ہیں۔ طرزِ عمل (کلچر) اور سوچ (مائنڈ سیٹ) کو تبدیل کرنے کے لئے چیف سیکرٹری نے تجویز دی کہ گورننس کو ریاست کے مرکز سے تبدیل کرکے عوام کے مرکز تک لانا ہوگا تاکہ عوام کی خدمت کی جا سکے اور معاملات چلانے کے لئے عوام کی فلاح و بہبود کو ایک لازمی کام سمجھا جائے۔ 

چیف سیکرٹری نے اپنی حکومت کو میں کہا ہے کہ فوری طور پر توجہ کرپشن اور عدم صلاحیت کے خاتمے، ترقیاتی کاموں میں تیزی اور ترجیحی پروجیکٹس کو پہلے مکمل کرنے، موثر انداز سے خدمات کی فراہمی اور مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہو گی۔ 

دو سے تین سال تک کے لئے عہدے کی معیاد کے تحفظ، کارکردگی کے اہم اشاریوں (کی پرفارمنس انڈیکیٹرز)، ماتحت افسران کی کارکردگی کے جائزے کے لئے سہ ماہی بنیادوں پر درست رپورٹنگ پر مبنی احتساب، مانیٹرنگ اینڈ ایولیوشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے خدمات کی فراہمی اور ساتھ ہی سزا اور جزا کے ماڈل کا ذکر بھی کیا ہے۔

 مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے چیف سیکرٹری نے انتظامی اور مارکیٹ بیسڈ اقدامات پر بات کی جن میں سپلائی چین کو سمجھنا، فارم ہول سیل ریٹل کے فرق کو کم کرنا، ناقابل فہم بین الاضلاع قیمتوں کے فرق کو  کم کرنا، انتظامی پرائس کنٹرول اقدامات، کم قیمت ریٹیل میں مسابقت لانے، قانونی رکاوٹیں دور کرنے وغیرہ جیسے اقدامات کا ذکر بھی شامل ہے۔ 

چیف سیکریڑی کی ان   تجاویز پر ابھی تک عمل درآمد کی کوئی صورت حال نظر نہیں آئی ہے  بیورکریسی کا مقصد اصل میں عوام اور اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ہے، جس سے نظاموں میں درستگی اور بہتری آتی ہے بہتر حکمرانی کا ادھورا خوب اگر مکمل ہو گیا تو پھر ملک جاپان اور چائنہ سے بھی آگے نکل جاے گا اور خوشحالی اور ترقی ملک کے قدم چومے گی۔

مزید :

رائے -کالم -