انتخابی مہم:پارلیمانی زبان استعمال کریں

انتخابی مہم:پارلیمانی زبان استعمال کریں

  

11مئی2013ءکو پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مجوزہ انتخابات کے لئے انتخابی مہم اب مختلف علاقوں کے حالات اور واقعات کے مطابق، زور و شور سے جاری ہونے سے عملی طور پر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اسے پُرامن، مہذب، شائستہ اور سنجیدہ رکھنے کی خاطر، بالخصوص تمام امیدواروں، اُن کے حامیوں، ووٹروں اور عام لوگوں کو تعمیری اور مثبت اندازِ فکر کو ترجیح دے کر آئین، قانون اور الیکشن کمیشن کے متعین کردہ ضابطہ ¿ اخلاق کے اصولوں پر خلوص نیت سے عمل کرنا چاہئے۔ اِس بارے میں اب تک بدقسمتی سے بعض سیاسی قائدین، مذکورہ بالا گزارشات سے گریز و انحراف کر رہے ہیں۔ ان سے التماس ہے کہ انتخابی مہم کے جلسوں اور اجتماعات میں ایسی زبان، گفتگو اور لب و لہجہ استعمال کریں، جسے پارلیمانی زبان کہا اور تسلیم کیا گیا ہے۔

حریف قائدین اور امیدواروں کی کرپشن، مالی بددیانتی، قومی دولت اور وسائل کی خوردبرد اور بدعنوانیوں کے بڑے یا لامتناہی سلسلوں کے بارے میں سراسر جھوٹی، بے بنیاد اور من گھڑت الزام تراشی نہ کی جائے۔ایسی غلط کاریوں کے اگر کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہوں تو بے شک ان کا حوالہ دیا جائے، لیکن محض مخالفت برائے مخالفت کا منفی طرز عمل اختیار کئے رکھنا، بلا شبہ غیر ضروری رقابت،جہالت، مخاصمت اور عداوت کا رویہ ہے۔ تحریر ہذا کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ بددیانت اور خیانت کار قائدین، نمائندوں اور سرکاری حکام و اہلکاروں کی غیر قانونی کارروائیوں اور قومی خزانے کی لوٹ مار پر تنقید نہ کریں، ایسا ضرور کریں، بلکہ اگر کوئی ٹھوس ثبوت بھی ساتھ موجود ہوں، تو وہ بھی منظر عام پر لائیں، لیکن انتخابی مہم کے ماحول اور حالات کو حتی المقدور پُرامن اور مہذب رکھنے کی کوشش کریں تاکہ بدامنی کی صورت حال پیدا نہ ہو اور اگر کہیں ایسا ہو جائے، تو یہ اردگرد کے علاقوں اور حلقوں میں پھیلنے نہ پائے۔

ایک دوسرے پر دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی عادت کی روش کو خیرباد کہا جائے۔ مہذب اقوام کا مقام و احترام ، اِس لئے ہی بڑھتا اور فروغ پاتا ہے، جب وہ متعلقہ قوانین، اصولوں اور ضابطوں پر عمل پیرا ہو کر معاشرے کی زندگی میں آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔ وطن عزیز میں اگرچہ شرح خواندگی، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں تاحال خاصی کم ہے، لیکن پختہ ارادوں اور بہتر منصوبوں پر دیانت داری اور مسلسل محنت ومشقت سے عمل کر کے یہ فرق آئندہ چند سال میں شاندار نتائج کے حصول کی رسائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ احتساب کے اداروں کی کارکردگی میں، بے جا مداخلت اور اقربا پروری کے عوامل کا قلع قمع کیا جائے۔

ہمیں 2008ءکی انتخابی مہم سے بہتر انداز کی پالیسی اپنا کر مروجہ روایتی برائیاں اور خرابیاں ہمیشہ کے لئے ترک کرنا ہوں گی۔ تعلیم کا حصول نسبتاً سستا اور آسان کیا جائے۔ تعلیمی اداروں کی فیسیں،کتابوں اور کاپیوں کی زیادہ قیمتیں ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئی ہیں، ان کو نصف کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ کتابوں کے بھاری بستے بھی بچوں کی تعلیم کے لئے تکلیف دہ رکاوٹ بن رہے ہیں، ان کا بوجھ بھی نصف کم کیا جائے۔کتابوں اور کاپیوں میں قیمتی اور وزن دار کاغذ کی بجائے سستے اور ہلکے کاغذ استعمال کریں، جیسے آج سے عرصہ40سال قبل ہوتے تھے۔ ان میں کیا خرابی اور قباحت تھی، جبکہ اس دور کی کتابیں اور کاپیاں آج تک محفوظ اور قابل استعمال حالت کے معیار کی ہیں۔ مہنگائی کے عذاب سے عوام کو مزید دوچار نہ کیا جائے۔       ٭

مزید :

کالم -