ای میل:عصرِ حاضر کا مو¿ثر ہتھیار

ای میل:عصرِ حاضر کا مو¿ثر ہتھیار
ای میل:عصرِ حاضر کا مو¿ثر ہتھیار

  

مجھے یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں ابھی تک اس مو¿ثر ہتھیار کے مو¿ثر طور پر استعمال کا کما حقہ، فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ۔عام لوگ تو رہے ایک طرف، جن صحافیوں نے اپنے ای میل ایڈریس بنا رکھے ہیں اور اہتمام سے اپنے کالم کے ساتھ چھاپتے ہیں، انہیں اس ای میل پر کچھ لکھ بھیجیں تو کبھی جواب نہیں ملتا،اس لئے کہ یہ حضرات ای میل کو دیکھنے، پڑھنے اور جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔امریکہ میں عصر جدید کے اس ہتھیار کو بے حد مو¿ثر طریقے سے استعمال کیاجارہا ہے۔گزشتہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیمو کریٹس اور ری پبلیکن نے اپنی بیشتر انتخابی مہم” ای میلز“ کے ذریعے چلائی۔انتخابات کے دوران مجھے صدر اوباما، خاتون اول مشل اوباما، انتخابی مہم کے انچارج اور کئی دوسرے ڈیمو کریٹس کی بے شمار ای میلز آتی تھیں ،بلکہ ڈیمو کریٹس نے بے شمار انتخابی فنڈز ای میلز کے ذریعے جمع کئے ۔ انہوں نے انہی ” ای میلز“ کے ذریعے ری پبلیکن کے ”عوام دشمن“ عزائم سے اپنے ووٹروں کو باخبر رکھا۔

میرے ای میل کے ”ان باکس“ میں روزانہ تین چار سو ای میلز موصول ہوتی ہیں۔کچھ احباب کی،کچھ اشتہاری کمپنیوں کی، کچھ ان اداروں کی جن کا مَیں رکن ہوں اور بہت سی سیاست دانوں کی۔میرے حلقے کے کانگریس مین اورسینیٹرز مجھے مسلسل کسی نہ کسی مسئلے پر ” ای میلز“ بھیجتے رہتے ہیں اور مَیں انہیں کوئی ” ای میل“ بھیجوں تو اس کا فوراً جواب آتا ہے۔مجھے یہ بھی علم ہے کہ ان کانگریس مینوں اور سینیٹروں کو یہ ” ای میلز“ پڑھنے اور بھیجنے کی فرصت نہیں ہوتی، ان کے دفاتر میں موجود عملہ ان” ای میلز“ کو مستعدی سے پڑھتا اور ان کے جواب دیتا ہے ، بعض مسائل پر خود بھی ” ای میلز“بھیجتا رہتا ہے ۔ اکثر ”عطیات“ کا مطالبہ بھی کرتا رہتا ہے۔صدر اور خاتون اول کی ” ای میلز“ بھی اسی طرح آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ان میں اس قدر تیزی اور حقیقت کا رنگ ہوتا ہے کہ بیشتر”موصول علیہ“ یہی سمجھتے ہوں گے کہ صدر امریکہ ان سے ذاتی طور پر ” ای میل“ پر رابطہ رکھے ہوئے ہے، مثلاً جب صدارتی امیدواروں کے مابین مباحثے چل رہے تھے ، ان مباحثوں سے پہلے صدر کی طرف سے ” ای میل“ ملی۔کل ری پبلیکن امیدوار سے مباحثہ ہوگا اور ہم ان امور پر بحث کریں گے۔آپ ٹی وی پر یہ مباحثہ ضرور دیکھئے اور اندازہ لگایئے کہ ہم کس طرح ری پبلیکن کے عوام دشمن ارادوں کے آگے ڈھال بنے ہوئے ہیں۔

صدر کی کامیابی کے بعد ” ای میل“ موصول ہوئی۔آپ کو مبارک ہو، آپ کی محنت رنگ لائی اور مَیں آئندہ چار سال کے لئے پھر صدر منتخب ہو گیا ہوں۔یہ آپ ہی کی کامیابی ہے“۔مَیں اپنی ہر ای میل کو دیکھتا ضرور ہوں۔اشتہاری ” ای میلز‘ کو پڑھے بغیر ”محو“کردیتا ہوں۔دوسری ای میلز کو پڑھتا ہوں اور جواب طلب بات ہو تو اس کا جواب لکھتا ہوں۔ بعض اشتہاری ” ای میلز“ کو بھی کبھی کبھار دیکھ لیتا ہوں، کیونکہ ان میں بعض اوقات آن لائن خریداری کے لئے رعایتی قیمتوں کا اعلان ہوتا ہے، اگر میری ضرورت کی کوئی چیز سستی مل رہی ہو تو مَیں اس کا آرڈر کرنے میں دیر نہیںلگانا۔بعض اوقات ایسی آرڈر کی ہوئی کوئی چیز جو مَیں نے ”ایمیزان“ یا ” ای بے“ سے آرڈر کی تھی،چین سے موصول ہوتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ اگر انٹرنیٹ نہ ہوتا اور” ای میلز“ کا وسیلہ نہ ہوتا تو مجھے شاید کبھی معلوم بھی نہ ہوتا کہ میری مطلوبہ چیز کہاں سے دستیاب ہو سکتی ہے۔کیا آپ یقین کریں گے کہ مَیں نے ایک بار زندہ ”جونکیں“ انڈونیشیا سے منگوائی تھیں۔

مَیں نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ مَیں نے گوانتا ناموبے کی جیل کو بند کرنے کے لئے سابق امریکی کرنل مورس ڈیوس کی اپیل پر دستخط کئے ہیں۔یہ اپیل مجھے ای میل سے ملی تھی اور مَیں نے بذریعہ ” ای میل“ اس پر دستخط کئے تھے۔اب اس قسم کی اپیلوں کے لئے کئی تنظیمیں بن گئی ہیں،جن میں سے ایک "Change"ہے اور یہ بے حد مو¿ثر ہے۔اب تک کئی معاملات میں کسی قانون سازی کی اطلاع ملنے پر ”چینج“ کے ذریعے اپنے کانگریس مینوں اور سینیٹروں کو ” ای میلز“ کرکے اپیل بھیجی گئی اور انہوں نے عوامی مزاج کو بھانپتے ہوئے ایسے قانون کی حمایت ترک کردی اور یہ قانون پاس نہیں ہو سکا۔کسی کو اس کا حق دلانے، کسی کے خلاف کسی غیر منصفانہ کارروائی کو رکوانے کے لئے ایسی اپیلوں نے بہت کام دکھایا اور ایسے مسائل حل ہوگئے۔کئی ”ڈیپورٹیشن“ آرڈر رُک گئے اور کئی بڑے بڑے سٹوروں نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرلی۔

صدر اوباما گن کنٹرول کے قانون کے حق میں تھے، لیکن نیشنل رائفلز ایسوسی ایشن نے ایسی مو¿ثر مہم چلائی کہ خود دو ڈیمو کریٹس نے قانون کے خلاف ووٹ دیا اور یہ قانون پاس نہ ہو سکا۔این آر اے نے یہ مہم زیادہ تر” ای میلز“ کے ذریعے چلائی۔جب ایسی کسی مہم کے سلسلے میں ہم اپنے علاقے کے کانگریس مینوں اور سینیٹروں کو ای میل بھیجتے ہیں تو ان کے دفتر سے باقاعدہ جواب ملتا ہے ،جس میں لکھا ہوتا ہے کہ وہ قانون سازی کے دوران ہماری تشویش کو مدنظر رکھیں گے، اگر وہ خود بھی اس مہم کے حق میں ہوں تو وہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مَیں بھی یہی چاہتا تھا۔آپ کی رائے سے میرے موقف کو مزید استحکام ملا ہے۔آپ فکر نہ کریں،جیسا آپ چاہتے ہیں، ویسا ہی ہوگا۔چونکہ ان کانگریس مینوں اور سینیٹروں کے پاس اپنے حلقہ ءانتخاب کے لوگوں کے ای میلز ایڈریس ہوتے ہیں، اس لئے یہ انہیں اپنے آئندہ کے ارادوں، کسی مسئلے پر اپنے موقف، کسی متوقع قانون پر اپنی حمایت یا مخالفت سے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

مَیں خود متعدد صحافتی اور خبروں سے متعلق تنظیموں کو عطیات بھی دیتا ہوں اور ان سے ” ای میلز“ کے ذریعے رابطہ بھی رکھتا ہوں، ان کی کوئی اپیل کی مہم ہوتو ان کا ساتھ دیتا ہوں۔ان تنظیموں میں ڈرون حملوں کی مخالف ”کوڈپک“ (جن کے ساتھ عمران خان ٹانک تک گئے تھے۔) فریڈم فار انفارمیشن، امریکنز فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مجھے ایسی تنظیموں سے غیرجانبدارانہ نقطہ ءنظر کی خبر رہتی ہے اور بعض معاملات کو حکومت، پولیس، سی آئی اے، ایف بی آئی وغیرہ جس رنگ میں پیش کرتی ہیں،اس کے برعکس نقطہ ءنظر تک رسائی ملتی ہے۔مَیں ایسی اپیلوں کی بعض اوقات حمایت کرتا ہوں اور بعض اوقات حمایت نہیں بھی کرتا۔مثلاً مَیں نے ”گن کنٹرول“ کے سلسلے میں ڈیمو کریٹس کے نقطہ ءنظر کی حمایت نہیں کی،کیونکہ امریکی آئین ہر امریکی شہری کو ہتھیار رکھنے کا حق دیتا ہے۔حکومتیں حیلے بہانے سے آئینی حقوق کو غصب کرنے کے درپے رہتی ہیں۔بش نے نائن الیون کے بعد حب الوطنی کے نام پر ”پیٹریاٹ لیکن“ کے ذریعے بہت سے حقوق سے لوگوں کو محروم کردیا۔”گن کنٹرول“ اندھا دھند فائرنگ کرکے لوگوں کو ہلاک کرنے کے واقعات کی روک تھام میں ممد ہو سکتا ہے،لیکن اگر اس سے ایک آئینی حق چھن رہا ہے تو اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔امریکی آئین کے خالق بنجمن فرینکلن نے کہا تھا کہ اگر سیکیورٹی کے نام پر تم سے کوئی حق چھینا جارہا ہے تو ایسی سیکیورٹی کو سیکیورٹی نہیں سمجھنا“۔

مَیں نیویارک پریس کلب کا بھی رکن ہوں۔ نیویارک پریس کلب نے اپنی تازہ ای میل میں بتایا ہے کہ عنقریب کلب کے ”بائی لاز“میں تبدیلی لائی جارہی ہے۔اس سلسلے میں ” ای میل“ کے ذریعے ہماری رائے لی جائے گی،ہم اس کے لئے تیار رہیں۔ ای میل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آنے والے انتخابات دفتر میں کاغذی ووٹ کی بجائے ” ای میل“ کے ذریعے ووٹ ڈالے جائیں گے۔تمام ممبران نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔میرا اس سارے بیان سے مقصد یہ ہے کہ آپ کو” ای میل“ کے ہتھیار کی طاقت کی طرف متوجہ کروں۔اس کے ذریعے بیرون ملک پاکستانی پاکستان کے انتخابات میں ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں۔انٹرنیٹ عہد کے اس مو¿ثر ہتھیار کو استعمال کرنے کے کئی مفید طریقے ہو سکتے ہیں۔اس سے قومی شعور کو اجاگر کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔فروغِ علم کے لئے اس ہتھیار کو استعمال کیاجا سکتا ہے۔غرض انگریزی محاورے کے مطابق اس کی وسعت آسمانوں تک ہو سکتی ہے۔خدارا اپنی ” ای میل“ کو باقاعدگی سے چیک کرنے کی عادت ڈالیں، جس طرح کسی کے ”سلام“ کا جواب نہ دینا ،خط کا جواب نہ دینا بدتہذیبی ہے، اسی طرح کسی کی ” ای میلکا جواب نہ دینا بھی خلافِ تہذیب ہے۔     ٭

مزید :

کالم -