عباس اطہر کا سانحہ ارتحال

عباس اطہر کا سانحہ ارتحال

  

ممتاز صحافی، شاعر اور ادیب عباس اطہر طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے ، ان کی صحافتی زندگی کا عرصہ نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف اخبارات میں خدمات انجام دیں، پی پی ایل کے اخبارات کے علاوہ وہ مساوات ، آزاد، نوائے وقت اور پاکستان میں خدمات انجام دیتے رہے۔ آج کل وہ روزنامہ ”ایکسپریس“ کے گروپ ایڈیٹر تھے۔ کچھ عرصے کے لئے انہوں نے ایکسپریس نیوز چینل میں حالات حاضرہ کا ایک منفرد و مقبول پروگرام”کالم کار“ بھی کیا جس میں معروف کالم نگار شرکت کرتے تھے۔ اپنی صحافتی زندگی میں، خصوصاً روزنامہ ”آزاد“ کے زمانے میں انہوں نے شہ سرخیوں کا ایک ایسا اسلوب رواج دیا، جو اس سے پہلے اس انداز میں اُردو صحافت میں موجود نہیں تھا، سرخی جمانے کا یہ اسلوب ان کے ساتھ ہی مخصوص ہو گیا اور ان کی ذات کا حصہ بن کر رہ گیا۔ پاکستانی سیاست اور صحافت میں ضرب المثل بن جانے والی ایک سرخی ”اُدھر تم۔ اِدھر ہم“ انہی کے ذہن رسا کا نتیجہ تھی۔ یہ سرخی انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی اس مشہور تقریر پر جمائی تھی، جو بھٹو صاحب نے مینار پاکستان کی گراﺅنڈ میں کی تھی، اس وقت یکم مارچ(1971ئ) کو قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس بلایا جا چکا تھا، پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی خواہش تھی کہ اجلاس سے پہلے عوامی لیگ کے صدر شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ بعض امور اجلاس سے بالا بالا ہی طے ہو جائیں اور اجلاس پھر بلایا جائے، انہوں نے شرکت کرنے والوں کو خبردار کیا تھا کہ و ہ یک طرفہ ٹکٹ لے کر ڈھاکہ جائیںان کا خیال تھا کہ اگر موجودہ صورتحال میں اجلاس بلایا گیا تو شیخ مجیب الرحمٰن اپنے چھ نکات کی بنیاد پر آئین سازی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، اس تقریر میں بھٹو صاحب نے دو اسمبلیوں اور دو وزرائے اعظم کی تجویز پیش کی تھی، جس پر ”اُدھر تم۔ اِدھر ہم“ کی سرخی ایسی جمی کہ آج تک کسی نہ کسی انداز میں زیر بحث رہتی ہے۔

عباس اطہر شاعر تھے اور صحافتی وادی میں آنے کے بعد شاعری کی طرف ان کا دھیان کم ہو گیا تھا، چنانچہ ان کا شاعرانہ ذہن اخبارات کی سرخیوں میں شعر کی سی چاشنی لے آتا تھا، ایسی سرخیوں پر مشتمل ان کی ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ جسے پڑھ کر آج بھی ماضی کے دریچوں سے جھانکا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری پر مشتمل کتاب ”دن چڑھے، دریا چڑھے“ بھی شائع ہو چکی ہے۔

عباس اطہر نے کوئی دس بارہ سال پہلے اپنی صحافتی زندگی کے تقریباً آخری دور میں کالم نویسی بھی شروع کی، وہ ”کنکریاں“ کے نام سے کالم لکھتے تھے جس میں مزاح اور طنز کا حسین امتزاج ہوتا تھا، ان کی روزمرہ کی گفتگو میں بھی یہ عنصر خاصی وافر مقدار میں پایا جاتا تھا ان کے حلقہ احباب میں جو لوگ شریک رہتے تھے گواہی دیں گے کہ وہ دھیمے دھیمے انداز میںاس موقع پر ایسی چاشنی آمیز گفتگو کرتے تھے جس پر ”وہ کہیں اور سنا کرے کوئی“ کا گمان ہوتا تھا، ان مجلسوں میں اگر ان کے صاحبزادگان یا دوسرے قریبی عزیز بھی ہوتے تو وہ بھی اس سے حظ اٹھاتے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا گو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما کران پر اپنی رحمت کا پھاہا رکھے۔(آمین)      ٭

مزید :

اداریہ -