غداری کیس، وکلاءصفائی کا عدلیہ پر تعصب کا الزام ،مشرف کے معاونین کا فیصلہ عدالت کرے گی: سپریم کورٹ

غداری کیس، وکلاءصفائی کا عدلیہ پر تعصب کا الزام ،مشرف کے معاونین کا فیصلہ ...
غداری کیس، وکلاءصفائی کا عدلیہ پر تعصب کا الزام ،مشرف کے معاونین کا فیصلہ عدالت کرے گی: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے غداری کیس میں قراردیاہے کہ اگر کسی فریق کو عدالتی فیصلے سے اختلاف ہوتو اپیل کی جاسکتی ہے ،عدالت تعین کرے گی کہ آئین توڑنے میں کون لوگ ملوث رہے ، تمام ججوں کی ریٹائرمنٹ تک سماعت روکی نہیں جاسکتی جبکہ پرویز مشرف کے وکلاءنے مشترکہ طورپر عدلیہ پر تعصب کا الزام لگادیا۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سابق فوجی صدر کیخلاف غداری کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت وکیل صفائی احمد رضاقصوری نے الزام عائد کیاہے کہ پرویز مشرف کے معاملے پر عدلیہ مشترکہ طورپر متعصب ہے ، کسی بھی شخص کی نااہلی پانچ سال کیلئے ہوتی ہے ، پشاور ہائیکورٹ نے اُن کے موکل کو تاحیات نااہل قراردیدیاہے ۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں کہ تمام جج اس کیس کی سماعت روکدیں ، پچیس سال تک کوئی سماعت نہ کرے ، آپکو فیصلے سے اختلاف ہے تو اپیل کی جاسکتی ہے ۔ پرویز مشرف کے وکیل نے کہاکہ ایمرجنسی کے دوران سب کچھ موثر تھاصرف عدلیہ موجود نہیں تھی ، آٹھ سال دہشتگردی سے لڑنے والے پر دہشتگردی کامقدمہ بنایاگیا، ساری دنیا میں مذاق بنایاجارہاہے ۔اُن کاکہناتھاکہ تین نومبر2007ءکو آئین معطل ہوالیکن اُس وقت آئین کو معطل ہونا غداری کے زمرے میں نہیں آتاتھا، پرویز مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ چلاتو آرٹیکل 12کی خلاف ورزی ہوگی ، اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آئین کو معطل کرنے کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ اِس بات کا تعین عدالت کرے گی کہ کون لوگ آئین توڑنے میں ملوث رہے ، ہوسکتاہے کہ چالیس سے پچاس افراد نے آئین توڑا ہوجس پر وکیل صفائی کاکہناتھاکہ آئین توڑنے میں چار سے پانچ سو لوگ ملوث ہیں ، وہ اپنے موکل کا بیان حلفی بھی پڑھ کر سنائیں گے ۔ ایک موقع پرسابق ”فوجی “کے وکیل کی طرف سے عدلیہ سے متعلق گفتگو پر کمرہ عدالت میں موجودوکلاءنے احتجاج کیا اور اپنے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -