عمران حادثہ، سیاسی جماعتوں نے جمہوریت ’جوان ‘کردی

عمران حادثہ، سیاسی جماعتوں نے جمہوریت ’جوان ‘کردی
عمران حادثہ، سیاسی جماعتوں نے جمہوریت ’جوان ‘کردی

  

لاہور ( نواز طاہر سے ) تحریک،ِانصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ پیش آنے والے حادثے نے جہاں پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا وہیں پر پاکستان میں جمہوریت پسندی کی بھی اعلیٰ مثال قائم کی گئی ہے اور اقوام ِ عالم تک یہ پیغام پہنچا ہے کہ پاکستانی قوم اور اس کے قائدین کتنے جمہوریت پسند ہیں ۔ عمران خاں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملتے ہی ان کے سب سے بڑے حریف قراردیے جانے والے ن لیگ کے قائد میں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زراداری نے فوری طور پر ان کیلئے دعاﺅں کی اپیل کی ۔ نواز شریف نے عمران خان سے یکجہتی کیلئے اپنی انتخابی مہم ایک روز قبل ہی ختم کرنے کا اعلان کردیا اور ان کی جلد صھت یابی کیلئے بھی دعا کی۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو پر حملے کے وقت بھی سب سے پہلے وہی ہسپتال پہنچے تھے ۔ اسی طرح عمران خان جس ایم کیو ایم کیخلاف عالمی سطح پر مقدمات کی باتیں کرتے رہے اسی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے عمران خان سے یکجہتی کیلئے سیالکوٹ میں جلسہ اور اپنا خطاب منسوخ کردیا ۔ دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی ایسے ہی جمہوری جزبے کا اظہار کیا ۔ نواز شریف نے فوری طور پر عمران خان کیخلاف چلائی جانے والی تشہیری مہم بھی روک دی حالانکہ ن لیگ عمران خان کی کردارکشی سمیت سخت مہم چلا رہی تھی۔اس حادثے نے سیاسی جماعتوں کے انتخابی جلسوں میں ہونے والی دہشت گردی اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کو بھی پسِ پشت ڈال دیا گیا ۔ سماجی رابطے کی مختلف ویب سائٹس پر سیاسی جماعتوںکے قائدین نے جمہوری سوچ اور جزبے کا اظہار کیا ۔ ابتدائی طور پر بعض لوگوں نے عمران خان کے زخمی ہونے کو ان کے غرور سے تعبیر کیا لیکن میاں نواز شریف کے اعلان کے ساتھ ہی یہ مہم بھی رک گئی ۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے اپنے جلسے میں عمران خان کی جلد صھت یابی کیلئے باقاعدہ دعا کرائی ۔ گزشتہ الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد نبینظیر بھٹو کی جان تک چلے جانے پر بھی ایسی جمہوری سوچ اور یکجہتی کا اظہار سامنے نہیں آیا تھا ۔ ان تمام حالات نے پاکستان میں جمہوریت کا پودا جوان ہونے کی مہر لگادی ہے ۔

مزید :

الیکشن ۲۰۱۳ -