ٹی وی اینکرز کی فن کاریاں

ٹی وی اینکرز کی فن کاریاں
 ٹی وی اینکرز کی فن کاریاں
کیپشن: fiaz ahmad

  


کہتے ہیں کہ آج کا دور ٹی وی اینکرز کا ہے ۔ان کی شہرت اداکاروں، شاعروں، ادیبوں، کھلاڑیوں اورسیاست دانوں سے آگے چلی گئی ہے ۔وہ رائی کا پہاڑ بنانے کا فن خوب جانتے ہیں ۔ریت پر کشتی چلاسکتے ہیں، پانی میں پاؤں بھگوئے بغیر چل سکتے ہیں۔پر نہ ہونے کے باوجود بھی فضا میں اڑ سکتے ہیں ۔زمین پر رہتے ہیں، لیکن اپنے آپ کو آسمان پرسمجھتے ہیں۔میرے دوست مہر طاہر بتاتے ہیں کہ پچھلے دنوں ان کے ایک دوست ،جو ٹی وی اینکرہیں، ان کے گھر آئے اور سلام دعا کے بعد شکوہ کرنے لگے کہ آپ تو ملاقات سے ہی گئے۔ گھر کی خاتون خانہ نے انجانے سے کہہ دیا کہ کیا بتائیں یہ تو گھر والوں کو بھی ٹائم نہیں دیتے، دوستوں سے کیا رابطہ رکھیں گے ۔کل میرے والدین آئے ہوئے تھے ،لیکن جناب اتنے مصروف تھے کہ ان سے ملاقات کا تھوڑا سا بھی وقت نہ نکال سکے ۔ٹی وی اینکر صاحب نے فوری طور پر اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کر لی اور بولے ۔۔۔یہ تو انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، یعنی موصوف کے پاس اپنے والدین کے لئے بھی وقت نہیں ہے ۔یہ تو آپ کے ساتھ انتہائی زیادتی والی بات ہے ۔

خاتون خانہ کی معصومیت دیکھتے، بات کو آگے بڑھایا اور کہنے لگی اور تو اور بچوں کو سکول داخل کرانا ہے،مَیں کئی مرتبہ کہہ چکی ہوں کہ دو تین سکولوں میں سے ایک کا انتخاب کرلیں ،لیکن مجال ہے کہ ان کے پاس سکول وزٹ کرنے کا وقت ہو ۔اینکر صاحب کے تو یہ بات دل کولگی، انہوں نے جلتی پر تیل ڈالنے کے لئے کمان کس لی اور بولے، یعنی آپ کے میاں کو بچوں کے مستقبل کی بھی کوئی فکر نہیں، جس گھر کا مالک بچوں اور رشتے داروں کے معاملات سے اتنا الگ تھلگ ہو گیا ہو، وہ گھر تو ٹوٹنے کے دھانے تک پہنچ چکا ہے۔ اس صورت حال میں مہر صاحب نے مداخلت کی اور بولے :’’یا ر ایسی بھی کوئی بات نہیں ‘‘!دفتر میں کچھ مسائل ہی ایسے ہوتے ہیں کہ مَیں گھریلو امور کی طرف کچھ زیادہ توجہ نہیں دے سکا ۔اینکر صاحب اچھل پڑے تو گویا دفتری مصروفیات گھریلو معاملات پر غالب آ گئی ہیں، پھر خاتون خانہ سے مخاطب ہوکر بولے ،مجھے تو اس گھر کے حالات خطرناک لگ رہے ہیں ۔بھابھی آپ کی مشکلات کو مَیں ہی سمجھ سکتا ہوں ۔ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ خلیج مزید بڑھے گی اور خدا نخواستہ اگر آپ کو اپنے حقوق کے لئے علیحدگی کا مطالبہ کرنا پڑا تو کورٹ جائیں گی یا والدین وغیرہ آپ کی مدد کریں گے ۔اس صورت حال میں بچے آپ اپنے پاس رکھیں گی یا اپنے میاں کے حوالے کریں گی جو پہلے ہی گھر کے معاملات سے الگ ہو چکے ہیں ۔

مہر صاحب اوران کی بیوی پریشان ہو گئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے اینکر صاحب نے رائی کا پہاڑ بنا دیا ہے اور جو باتیں ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہیں، ان کے سامنے کھڑی کردی ہیں ،لہٰذا انہوں نے اینکر صاحب کو خونخوار نظروں سے دیکھا ۔اس سے پہلے کہ وہ موصوف کی کسی اور طرح تواضح کرتے اینکر صاحب اٹھے اور کہنے لگے، جس گھر میں اختلافات اس حد تک بڑھ گئے ہوں، وہاں کسی باہر والے کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے؟اینکر گھر سے باہر نکلے تو مہر صاحب نے بیزاری کو ختم کرنے کے لئے ٹی وی آن کر دیا، جس پر ایک بحث چل رہی تھی اور اینکر ایک وزیر سے پوچھ رہے تھے کہ اس وقت فوج اور حکومت کے درمیان اختلافاف کس نہج تک پہنچ چکے ہیں ،وزیر صاحب بڑے بچ بچا کر کہہ رہے تھے کہ جناب !ایسی کوئی بات نہیں، کچھ وزراء نے بیان بازی کی ،فوج نے اپنا بیان دیا ، معاملات ٹھیک ہو چکے ہیں ۔اینکر صاحب نے اس بات پر کوئی توجہ نہ دی اور اعتماد سے بولے کہ جناب والا !بلوچستان کا مسئلہ طالبان سے بات چیت اور کئی دوسرے مسئلے ۔۔۔اداروں کے درمیان تصادم کی فضا تو بڑھ رہی ہے ۔پھر بحث میں دوسرے لوگوں سے بھی اسی طر ح کے سوال شروع کر دےئے اور یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ ملک میں اداروں کا ٹکراؤ حتمی ہے اور اگلے چند دنوں میں اس ملک میں کچھ نہ کچھ ہو جائے گا ۔

بحث کا یہ منظر دیکھ کر مہرصاحب نے ٹی وی بند کر دیا اور سوچنے لگے کہ یہ اینکر کتنے بڑے فنکار ہیں کہ جن باتوں کاکوئی وجود ہی نہیں ہے، انہیں اچھالنے کے کتنے ماہر ہیں ۔کتنا منفی سوچتے ہیں اور ہر بات کو مرضی کی خبر بنانا چاہتے ہیں ۔اتنے میں مہر صاحب کی بیگم چائے لے کر آ گئی اور ان کے سامنے بیٹھ کر چائے میں چینی ملانے لگی۔ مہر نے اپنی بیوی کو غور سے دیکھا تو انہیں یونیورسٹی کا زمانہ یاد آگیا ،جب کیفے ٹیریا میں وہ دونوں ساتھ بیٹھے ہوتے اور ان کی بیوی جو اُس وقت ان کی کلاس فیلو تھی، چائے آنے پر اپنی کتابیں گود سے اٹھا کر میزپر رکھتی اور چائے میں چینی ملانے لگتی۔ اس وقت بھی ان کے درمیان چھوٹے موٹے شکوے شکایت ہوتے تھے، لیکن دوری کا کبھی سوچابھی نہیں تھا۔آج جب وہ زندگی کے مضبوط بندھن میں ہیں تو چھوٹے چھوٹے مسائل ان کو کیسے الگ کر سکتے ہیں؟یہی سوچ کر انہوں نے اینکر دوست کے فضول خیالات کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا اور چائے کی چسکیاں لینے لگے ۔

مزید :

کالم -