انٹر نیشنل جو ڈیشل کانفر نس

انٹر نیشنل جو ڈیشل کانفر نس
انٹر نیشنل جو ڈیشل کانفر نس

  



18اور 19 اپر یل کو سپریم کو رٹ میں عالمی جو ڈیشل کانفر نس کا انعقا د کیا گیا تھا ۔اس عالمی جو ڈیشل کانفر نس میں شر کت کے لیے میں بھی لاہور سے اسلا م آباد گیا ۔اس کانفر نس میں شر کت کا تجر بہ میر ے لیے بہت ہی اہمیت کا حامل رہا اور میں اس کے لیے اپنے استا د محتر م جنا ب سہیل شکو ر صا حب اور لاہور بار کے صد ر جناب چو دھر ی محمد اشتیا ق صاحب کا شکر گز ار ہو ں جن کے تعاون اور رہنمائی کی بدولت مجھے اس عالمی کانفر نس میں کافی کچھ سیکھنے کو ملا ۔

سپر یم کو رٹ میں دوروزہ کانفر نس میں شر کاءنے پاکستان میں فر قہ وارانہ دہشت گر دی ،ملک میں آئین کی بالا دستی اور قا نو ن کی حکمر انی ،عوام کے بنیا دی حقو ق کے تحفظ ،انتظامی اقدامات پر عدالتی نظر ثانی، انسانی حقو ق کے تحفظ میں عدلیہ کاکردار ، آئینی تقا ضو ں کی روشنی میںانصاف کا حصو ل،اور برداشت کے فر وغ میں عدلیہ کے کر دار جیسے اہم مو ضو عات پر سیر حاصل گفتگو کی اور اپنی سفارشات پیش کیں.... اس بات میں یقینا کو ئی شک نہیں کہ یہ ایک اعلی سطحی کانفر نس تھی اور اس میں شامل مو ضو عات کے ذریعے پاکستان میں نظام عدل اور انصا ف کی فر اہمی میں رکاوٹو ں پر جامع گفتگو و شنیدہوئی۔بیر ون ملک سے آنے والے شر کا کی گہر ی دلچسپی اورسفارشات تیا ر کر نے میں عملی شر کت سے بہت خو شی ہو ئی ۔ شر کا ءاس بات پر متفق پر نظر آئے کہ فر قہ وارانہ دہشت گر دی کے واقعات کے سد باب کے لیے عدلیہ پارلیمنٹ کو قانو ن سازی کیلئے کہ سکتی اور آئین اور قانو ن پر عمل درآمد صر ف باراور بنچ کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر ریاستی ادارے اور شہر ی کابنیادی فر ض ہے ۔

کانفر نس کے پہلے دن شر کا ءکو خو ش آمد ید کہا گیااور چیف جسٹس آف پاکستان جنا ب جسٹس تصد ق حسین جیلانی کی طر ف سے خیر مقدمی خطاب کے بعد بہت عمدہ ڈنر کا اہتما م کیا گیا تھا ۔ جبکہ کانفر نس کے دوسر ے دن نو بجے سے لیکر رات تقریبا اٹھ بجے تک سارا دن کانفر نس اپنے عر وج پر رہی ۔ کانفر نس کے دوسر ے اور آخر ی روز چارگر وپ تشکیل دئیے گئے تھے :پہلاگروپ جنا ب جسٹس ناصر الملک صا حب کی سر بر اہی میں تھا جس کا مو ضو ع تھا” ا نتظامی اقدامات پر عدالتی نظر ثانی“جس پر مند رجہ ذیل سفارشات پیش کی گئیں کہ عدلیہ ملکی ہی نہیں بلکہ بین الااقو امی سطح پر بھی انصا ف اور انسانی حقو ق کی فر اہمی کا ادارہ ہے اور آئین نے ہی عدلیہ کو ازخو د نو ٹس کا اختیا ر دیا ہے ۔ جبکہ دوسر ا گر وپ جس کی سر بر اہی جنا ب جسٹس انو ر ظہیر جمالی صا حب نے کی اس کا مو ضوع تھا ”انسانی حقو ق کے تحفظ میں عدلیہ کا کر دار“اس گروپ کی طر ف سے یہ سفارشات پیش کی گئیں کہ عدلیہ سمیت ریا ست کے ہر ادارے کا فر ض ہے کہ انسانی حقو ق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور حکو مت انسانی حقو ق کے تحفظ کے لیے مناسب قا نو نی ساز ی اور اقد امات کر ے ۔ تیسر ے گروپ کا مو ضو ع تھا ”انصا ف کا حصو ل ،آئینی تقا ضو ں کی روشنی میں“ اس گر وپ کی رہنما نی جنا ب جسٹس جو اد ایس خواجہ صا حب نے کی۔ اس گروپ کی سفارشا ت کچھ اس طر ح پیش کی گئیں کہ انصا ف کے حصو ل میں تاخیر بذات خو د ائینی تقا ضو ں سے انحر اف ہے ، جنا ب جسٹس جو اد ایس خواجہ صا حب نے اس مو قع پرا یک کیس کا حوالہ دیا کہ وہ کیس تیس سال چلا آخر میں خارج ہو گیا ،انصا ف ایسا نہیں ہو تا ۔ انہو ں نے فرمایا کہ دیو انی ،فو جد اری مقد ما ت میں تاخیر کا جائز ہ لینے کے لیے ایس کے رحمن کمیشن ،حمو د الر حمان کمیشن ،جسٹس (ر)انو ار الحق کمیٹی جبکہ قو می عدالتی پالیسی 2009تشکیل دی گئی ۔ جبکہ اس گر وپ میں بنیا دی طور پر قو می زبان اردو پر بات کی گئی کہ اردو ہماری قو می زبان ہے جو کہ 99فیصد بولی اور سمجھی جاتی ہے اگر ججز عدالتی فیصلے قو می زبان اردو میں تحر یر کر یں تو وہ بہتر اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں ۔اس بارے جنا ب جسٹس جو اد ایس خواجہ صاحب نے نہایت تفصیل سے بات کی ۔گروپ ڈسکشن میں جنا ب خو اجہ نے سکند ر جاوید ایڈ ووکیٹ سپر یم کورٹ کی بھی تعر یف کی جنہوں نے سپر یم کو رٹ کے اردوفیصلو ں پر منبی ایک کتا ب ”زبان خلق “مرتب کی ۔ اس گروپ کی سفارشات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 28اور 25قو می اور علا قائی زبانو ں کے فروغ دینے سے متعلق ہے لہذا اردو میں جج صاحبان فیصلہ لکھوائیں ۔ کانفر نس کے گروپ نمبر چار کاموضو ع”برداشت کے فر وغ میں عدلیہ کاکر دار“ کے سر براہ جسٹس میا ں ثاقب نثار نے کہا کہ مقد مات میں غیر ضرور ی التو اءکا خاتمہ ناگزیر ہے ،فوری اور سستے انصا ف کی فر اہمی میں درپیش مشکلا ت پر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے ۔فوری اور سستے انصا ف سے عد م برداشت کا خاتمہ ممکن ہے او ر اس گروپ کی ایک اہم سفارش یہ تھی کہ انصا ف کی فراہمی کے نظام سے منسلک تمام افراد کی مناسب تر بیت کیلئے خصو صی پر وگر ام تشکیل دینے چاہئیں۔کانفر نس کے اختتا می اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے چیف جسٹس آف پاکستا ن جنا ب جسٹس تصد ق حسین جیلا نی صاحب نے ان سفارشات کو ہی کانفر نس کا اعلا میہ قر ار دیا جس پر پور ا ہال تالیو ں سے گو نج اٹھا اور شر کا ءمیں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔جنا ب جیلا نی نے اپنے خطاب میں کئی اہم باتیں کیں ۔انہوں نے اپنے اختتا می خطاب میں انسانی حقو ق کے علمبردار ڈاکٹر مارٹن لو تھر کنگ کے خواب کا بڑ ی خو بصو رتی سے ذکر کیا کہ اس نے خواب دیکھا تھا کہ اس کی قو م ابھر ے گی ۔اس کے اسی خواب نے امر یکی تاریخ بد ل کر رکھ دی ،انہوں نے اپنے خطاب میں فر مایا کہ امر یکی سپر یم کورٹ نے 1857میں سیا ہ فام باشند وں کو گو روں کے برابر درجہ دینے سے انکار کر دیا تھا پھر اسی سپر یم کورٹ نے 1954میں سیاہ فام اور گو روں کو قانو ن کی نظر میں مساوی قر ار دیا ۔ انہو ں نے اپنے خطاب میں فر ما یا کہ آئیں ہم بھی خواب دیکھیں ایک ایسے پاکستان کا جہاں قانو ن کی حکمر انی ہو ،جہاں لو گوں کو سستااور جلد انصا ف میسر ہو، جب لو گ جبر ی طور پر گمشدہ نہ ہو ں ،جب تشد د کا خاتمہ ہو جب لو گ بھوک اور بیماریو ں سے نہ مریں انہوں نے کہا کہ آئیں عہد کر یں کہ ہم نے ان مقا صد کے لیے زندگیا ں بسر کرنی ہیں اور ان قو تو ں کو ہم نے شکست دینی ہے جو ہمیں تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں ۔ چیف جسٹس صا حب نے اپنے خطاب کے آخر میں کامیا ب کانفر نس کے انعقا د پر ساتھی جج صا حبان اور سکیر ٹر ی لاءاینڈ جسٹس کمیشن کی کاوشو ں کی تعر یف کرتے ہو ئے تما م شر کا ءکاشکر یہ ادا کیا ۔

مزید : کالم