والدین کی ڈانٹ پر ناراض ہوکر نوعمر لڑکی گھر سے بھاگ گئی، لیکن بھاگتے ہی ایسا کام ہوگیا کہ جان کر کوئی بھی لڑکی ایسا کرنے سے قبل ہزار مرتبہ سوچے

والدین کی ڈانٹ پر ناراض ہوکر نوعمر لڑکی گھر سے بھاگ گئی، لیکن بھاگتے ہی ایسا ...
والدین کی ڈانٹ پر ناراض ہوکر نوعمر لڑکی گھر سے بھاگ گئی، لیکن بھاگتے ہی ایسا کام ہوگیا کہ جان کر کوئی بھی لڑکی ایسا کرنے سے قبل ہزار مرتبہ سوچے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی (نیوز ڈیسک) والدین اولاد کے لئے سب سے بڑا تحفظ اور سہارا ہوتے ہیں مگر اپنی ذمہ داریوں سے غافل اور بے جا سختی کرنے والے والدین اولاد کے لئے کسی بڑے عذاب سے کم ثابت نہیں ہوتے۔ بھارتی ریاست اترپردیش میں پیش آنے والا اندوہناک واقعہ ایک ایسی ہی افسوسناک مثال ہے کہ جو ایک طرف معاشرے میں موجود جنسی درندوں کے خطرے سے خبردار کرتی ہے تو دوسری طرف ایسے والدین کے لئے بھی عبرت کا سامان ہے کہ جن کی عاقبت نااندیشی ان کے بچوں کو ایسے درندوں کا شکار بنادیتی ہے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نوئدا شہر کی پولیس کو موصول ہونے والی ایک کال میں بتایا گیا کہ شہر کے ایک پارک میں ایک نوعمر لڑکی خون میں لت پت بے ہوش پڑی ہے۔ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور لڑکی کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا، جہاں اس کا علاج شروع کردیا گیا۔ لڑکی ہوش میں آئی تو اپنے ساتھ پیش آنے والے لرزہ خیز واقعے کی تفصیلات بیان کردیں۔

وہ خاتون جس نے برہنہ حالت میں ایک ہزار میل چلنے کا اعلان کردیا، وجہ جان کر آپ کو اس حرکت پر غصہ نہیں آئے گا بلکہ۔۔۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ آٹھویں کلاس کی طالبہ ہے اور اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی تھی مگر والدین اسے سکول سے اٹھانا چاہتے تھے۔ اس بات پر اس کا والدین کے ساتھ جھگڑا ہوا اور انہوں نے اس کی سخت ڈانپٹ ڈپٹ کی اور لعن طعن کا نشانہ بنایا۔ اس سلوک سے دلبرداشتہ ہوکر لڑکی گھر سے فرار ہوگئی اور شام کے وقت اپنے شہر شاملی کو چھوڑ کر نوئدا شہر کی طرف نکل کھڑی ہوئی۔

وہ مختلف لوگوں سے لفٹ لیتی ہوئی نوئدا شہر تو پہنچی گئی مگر یہاں بالکل بے یارومددگار تھی۔ جب یہ ایک بس سٹاپ پر کھڑی تھی تو ایک رکشہ اس کے پاس آکر رُکا اور اس میں موجود دو نوجوانوں نے اس کی منزل کے بارے میں پوچھا۔ لڑکی نے انہیں حقیقت بتادی کہ وہ گھر سے فرار ہوئی تھی اور اس کے پاس جانے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔

نوعمر لڑکی کو تنہا اور بے سہارا پا کر رکشہ ڈرائیور نوجوانوں کی نیت میں فتور آ گیا اور وہ اسے اپنے گھر لیجانے کا دھوکہ دے کر ایک خالی مکان میں لے گئے۔ لڑکی نے صورتحال کو مشکوک محسوس کرتے ہوئے دوڑ لگادی لیکن بدقماش نوجوانوں نے اس کا تعاقب کیا اور ایک پارک کے قریب اسے پکڑلیا۔ انہوں نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو بھی بلالیا اور تینوں نے پارک کے ایک تاریک حصے میں لیجا کر لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اسے بیہوش حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

پولیس نے بس سٹاپ کے علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے رکشے کا سراغ لگالیا، جس کے بعد تینوں جنسی درندوں کو گرفتارکرلیاگیا۔ پولیس نے ملزمان کی شناخت 25 سالہ آزاد، 22 سالہ عامر اور 20 سالہ زاہد بتائی ہے۔ اطلاع ملنے پر لڑکی کا والد بھی بیٹی کو لینے کے لئے ہسپتال پہنچ گیا۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ بیٹی کے ساتھ سختی اور جبر کرکے اس نے بہت بڑی غلطی کی۔ اس نے درندہ صفت مجرموں کے لئے سخت ترین سزا کا مطالبہ بھی کیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس