ماں بننے کی خواہشمند خواتین کیلئے بہترین عمر کیا ہوتی ہے؟ ڈاکٹروں نے مشکل ترین سوال کا جواب دے دیا، شادی شدہ جوڑوں کو مشورہ دے دیا

ماں بننے کی خواہشمند خواتین کیلئے بہترین عمر کیا ہوتی ہے؟ ڈاکٹروں نے مشکل ...
ماں بننے کی خواہشمند خواتین کیلئے بہترین عمر کیا ہوتی ہے؟ ڈاکٹروں نے مشکل ترین سوال کا جواب دے دیا، شادی شدہ جوڑوں کو مشورہ دے دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ سوال بہت پیچیدہ ہے کہ آخر ایک خاتون کے ماں بننے کے لیے بہترین عمر کیا ہوتی ہے؟ اب ڈاکٹروں نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔ برطانوی اخبارڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ”کسی بھی خاتون کے حاملہ ہونے اور ماں بننے کے لیے اس کی عمر کی 20کی دہائی اور 30کی دہائی کے ابتدائی سال بہترین ہوتے ہیں۔“اس کے علاوہ ڈاکٹروں نے44سال کی عمرکو کسی بھی خاتون کے ماں بننے کے لیے لیے آخری حد قراردیا ہے اور کہا ہے کہ 44سال کی عمر کے بعد کسی عورت کے لیے ماں بننا بہت مشکل ہوتا ہے اور اگر حاملہ ہو بھی جائے تو اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کے مختلف قسم کے عارضوں میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

صرف 22سال کی عمر میں ہی مردانہ قوت میں کمی پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے:رپورٹ

رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق پرائیویٹ پریگنینسی یوکے(Private pregnancy UK) کے ڈاکٹروں نے کی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر امین گورجی (Dr Amin Gorgy)کا کہنا تھا کہ ”35سال کی عمر کے بعد خواتین کی افزائش نسل کی قوت تیزی کے ساتھ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور 40سال کی عمر میں یہ کمی کی شرح مزید تیز ہو جاتی ہے۔ہمارا مشورہ ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کو 35سال کی عمر سے قبل ہی اپنی بچے پیدا کرنے کی خواہش کی تکمیل کرلینی چاہیے کیونکہ 35سال کی عمر کے بعد خواتین کے بیضے بتدریج کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جس وجہ سے انہیں اس عمر کے بعد ماں بننے میں دشواری پیش آ سکتی ہے ۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس