پاکستان سے تجارتی حجم 90 ملین ڈالر تک لے جائیں گے،تاجک سفیر

پاکستان سے تجارتی حجم 90 ملین ڈالر تک لے جائیں گے،تاجک سفیر

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر جانوو شیر علی کا کہنا ہے کہ تاجکستان اور پاکستان دوطرفہ تجارتی اور معاشی تعلقات کو بڑھانے کے خواہاں ہیں ، دونوں ممالک زمینی اور ہوائی رابطے تیز کررہے ہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 90 ملین ڈالر سے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں لاہور اور دوشنبے سے گزشتہ روز سے شروع ہونے والا فضائی سروس سے سفری کرایہ 1/3 ہوجائے گا تاجکستان ہائیڈرو الیکٹرک پاور پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے پاک چین اقتصادی منصوبے سے خطے کے ممالک کو تجارتی فوائد حاصل ہونگے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مذہبی ثقافتی اور سماجی اقدار مشترک ہیں آن لائن سے خصوصی انٹرویو کے دوران تاجک سفیر نے کہا کہ لاہور اور دوشنبے کے درمیان فضائی سروس شروع ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان روابط بڑھیں گے حالیہ فضائی سروس شروع سے کرائے میں کمی واقع ہوگی لہذا دونوں ممالک کی عوام کو ایک دوسرے کے درمیان تعلقات کو فروغ دیا جائے گا انہوں نے بتایا کہ لاہور دوشنبے کے درمیان ہفتے میں دو فلائٹس میسر ہونگی لہذا دونوں ممالک کے تاجروں کو روس تا دوبئی کی بجائے براہ راست دوشنبے جاسکیں گے شیر علی نے بتایا کہ تاجکستان ہائیڈرو الیکٹرک توانائی پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے دوطرفہ تجارتی تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کی توقع ہے۔

گزشتہ سال کا حجم نوے ملین ڈالر تھا گزشتہ سال تاجک صدر کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بیس معاہدوں پر دستخط کئے ہیں جس میں توانائی تعلیم صحت اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان کو بہت اہمیت حاصل ہے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے خطے کے دیگر ممالک کو فوائد حاصل ہونگے گوادر بندرگاہ کے ذریعہ تاجکستان کی تجارت دوسرے ممالک تک آسانی سے ممکن ہوسکے گی تاجک سفیر نے بتایا کہ پاکستان کی عوام بہت مہمان نواز ہے کوئٹہ سے کراچی اور ملتان اور دیگر شہروں میں تجارتی وفود سے ملاقات کرچکے ہیں تاجکستان میں خانہ جنگی کے دوران پاکستان کے ہزاروں تاجک عوام کو پناہ دی تھی اور کئی سالوں انہیں پاکستان میں رکھا بعد ازاں یو این ایچ سی آر کے تعاون سے بہت سے تاجک اپنے وطن واپس چلے گئے مگر اب بھی ایک ملین سے زائد تاجک پاکستان میں آباد ہیں جن کی زیادہ تعداد کوئٹہ میں مقیم ہے شیر علی نے بتایا کہ گزشتہ سالوں میں تاجکستان نے مختلف شعبوں میں ترقی کی ہے جن میں صحت تعلیم انفراسٹرکچر شامل ہیں تا جکستان کی معاشی بحالی میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے انہوں نے بتایا کہ تاجکستان کاٹن پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے پاکستان کے سرمایہ کار تاجکستان میں سرمایہ کاری کرکے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور انفراسٹرکچر میں پاکستان کے سرمایہ کار پہلے ہی کام کررہے ہیں قدرتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے تاجکستان بہت جلد دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے تاجکستان کے صدر نے اوپن ڈور پالیسی کا اعلان کیا اور توقع ہے کہ مکمل سرمایہ ار تاجستان میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دینگے ۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...