طالبہ نہیں ،معاشرے کی سوختہ لاش

طالبہ نہیں ،معاشرے کی سوختہ لاش
طالبہ نہیں ،معاشرے کی سوختہ لاش

  

ایبٹ آباد کے دلخراش واقعہ پر میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ ہم جنگل میں رہ رہے ہیں ، تہذیب و احترام انسانیت ہمیں چھو کر بھی نہیں گزرے۔ نویں جماعت کی طالبہ کو جرگے کے حکم پر گاڑی میں باندھ کر گاڑی سمیت زندہ جلا دینے کا واقعہ اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم تہذیب و تمدن سے عاری معاشرے میں جی رہے ہیں، جہاں آج بھی لوگ اپنے خود ساختہ معیارات اور رسم و رواج کے تحت بڑے سے بڑا ظلم کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں۔ تف ہے اس نظام پر،اس قانون پر، اس سماج پر جو ایک ہی طرح کے واقعات رونما ہوتے دیکھتا ہے، مگر بے حسی کی چادر اوڑھ کر سو یا رہتا ہے۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے مختلف ضرور ہے کہ اس میں جرگے نے سزا دینے کا ایک ایسا ظالمانہ طریقہ اختیار کیا، جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی، تاہم ایسے واقعات سینکڑوں بار رونما ہو چکے ہیں کہ جرگے نے کاروکاری کے نام پر یا برادری ازم کی بنیاد پر کسی حوا کی بیٹی کو وحشت ناک سزا دی ہو۔ کہیں سر عام اس کی عصمت دری کرائی جاتی رہی، کہیں اسے گولیوں سے بھون ڈالنے کی سزا سنائی گئی، کہیں اسے درخت سے لٹکا کر موت کے گھاٹ اتار ا گیا۔۔۔ مجھے تویاد نہیں پڑتا کہ ایسے کسی کیس میں ملزموں کو عبرت ناک سزائیں دی گئی ہوں، انہیں سرعام اسی طرح چوراہوں پر لٹکا یا گیا ہو، جیسے انہوں نے اپنی سنائی ہوئی سزاؤں پر حوا کی بیٹیوں کو سرعام ظلم کا نشانہ بنایا۔

حیرت ہے کہ مرد کو کڑا پہنانے پر اسلام خطرے میں ہے کی گردان کرنے والے ایسے مظالم پر چپ سادھ لیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن جنہوں نے پنجاب میں حقوق نسواں بل پر آسمان سر پر اٹھا لیاتھا، اب خم ڈھونک کے باہر کیوں نہیں آتے اور کیوں یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ جن درندوں نے اس واقعہ کی بنیادرکھی، اس کے بارے میں سوچا اور اس پرعملدرآمد کا حکم دیا، انہیں خصوصی عدالتوں میں مقدمہ چلا کر نشان عبرت بنا دیا جائے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایک ایسے دین کے مبلغ جس کی تاریخ عورت کی حرمت کا درس دینے والے واقعات سے بھری پڑی ہے اور جس کے پیغمبرؐ نے سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا ہے کہ خواتین کا احترام کرو، بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ درگور نہ کرو۔۔۔ اس دین کے دعویدار مردوں کی حرمت و توقیر بچانے کے لئے تو فوراً ہی میدان میں آجاتے ہیں، مگر کسی مظلوم بیٹی کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے۔ مجھے یقین ہے کہ ایبٹ آباد میں جرگے کے جن 17افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، بہت سے بڑے جرگہ ساز انہیں بچانے کے لئے میدان میں آجائیں گے۔۔۔ افسوس کہ ہمارے ہاں قانون کبھی اپنے فیصلے آپ نہیں کرتا، کبھی ریاست ایسے سنگین مقدمات کو اون نہیں کرتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ درندہ صفت مجرمان بھی قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر بری ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم جرگہ سسٹم جیسے ظالمانہ نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریاستی قانون کو بھی برق رفتار بنانا پڑے گا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ واقعہ اگر سعودی عرب یا ایران میں رونما ہوتا تو ملزموں کو سزا دینے میں کتنی مدت لگتی؟

میرا خیال ہے چند ہفتوں سے بھی کم وقت میں انہیں چوراہوں پر لٹکا دیا جاتا یا ان کے سر قلم کردیئے جاتے۔۔۔ مگر ہمارے ہاں کیا ہوگا؟یہ کیس شیطان کی آنت ثابت ہوگا، تاریخیں پڑتی رہیں گی، بالآخر لوگ بھول جائیں گے اور مدعی کو بٹھا کر ان درندوں کو سزا سے بچا لیا جائے گا۔ہمارے ہاں یہ اصطلاح بہت استعمال کی جاتی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ انہی تقاضوں کے چکر میں سنگین نوعیت کے مقدمات میں بھی ملزموں کو ریلیف مل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اس واقعہ کاہر ثبوت سامنے آچکا ہے، جرگہ، ملزمان، جلی ہوئی لاش اور وجہ قتل تو پھر اب دیر کس بات کی ہے؟ فوری طور پر چالان مرتب کر کے عدالت میں کیوں نہیں بھجوایا جا سکتا اور عدالت اس ثابت شدہ کیس کو فوری کاسماعت کر کے سزا کیوں نہیں سنا سکتی؟ آج کل جن لوگوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں، ذرا آپ ان کے مقدمات پر نظر ڈالیں تو ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔ کسی نے 1991ء میں قتل کیا ہے تو اسے سزا2016ء میں دی جارہی ہے۔ جب وہ ضعیف ونزار بوڑھا ہو چکا ہے اور اس نے اپنی زندگی گزارلی ہے۔ یہ کیسا پتھروں کے زمانے کا نظام انصاف ہے اور یہ کچھوے کی چال کیوں چلتا ہے آخر وہ کون سے شواہد ہیں جو بیس بیس سال تک عدالتوں میں سامنے نہیں آتے اور پھر اچانک سامنے آجاتے ہیں۔ قانون کی اسی شرمناک سست رفتاری کے باعث جرگے فیصلے کرتے ہیں اور متحارب عدالتی نظام کھڑا ہو جاتا ہے۔ میری رائے تو یہ ہے کہ اس مقدمے کو فوری طور پر فوجی عدالت میں بھیجا جانا چاہیے، کیونکہ یہ واقعہ بھی ایک بہت بڑی دہشت گردی ہے، جس نے کسی خودکش دھماکے کی طرح معاشرے کوہلا کر رکھ دیا ہے۔

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا تو کسی ضابطے کے تحت چل رہے ہیں، لیکن سوشل میڈیا تو ہر ضابطے سے مادرا ہے، سو حوا کی بیٹی سوختہ نعش کی صورت میں گھر گھر پہنچ گئی ہے، جس سے خاص طور پر لڑکیوں میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں سیاسی جلسے میں جانے والی خواتین کو بھی بد تہذیبی کا سامنا کرنا پڑے، وہاں ایسے واقعات ان عناصر کو مزید ہلا شیری دیتے ہیں، جن کے نزدیک عورت سوائے وجہ نشاط کے اور کچھ نہیں۔۔۔مغرب کے بارے میں ہم جو کچھ بھی کہیں، ایک بات سے انکار نہیں کہ وہاں عورت کو پورے انسان کا درجہ حاصل ہے۔ وہاں نہ توکوئی عورت کو غیرت کے نام پر قتل کر کے بچ سکتا ہے اورنہ ہی تیزاب ڈال کر محفوظ رہ سکتا ہے، اس لئے شاذو نادر ہی کسی نے یہ سنا ہوگا کہ برطانیہ یا امریکہ میں کسی اوباش نے کسی لڑکی یا عورت کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا ہو۔ یہاں یہ کام اس قدر آسانی سے کیا جاتا ہے ، جیسے اس کے چہرے پر تیزاب نہیں عطر انڈیل رہے ہوں۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی معاشرے میں جی رہے ہیں، مگر جزئیات میں جائیں تو یوں لگتا ہے ہم اسلام سے پہلے کے اس عرب معاشرے کا عکس ہیں، جس میں لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔ ہم اس سے بھی آگے کی بھیانک تصویراس لئے ہیں کہ یا تو تیزاب پھینک کر لڑکیوں کو زندہ لاش بنادیتے ہیں یا پھر انہیں زندہ جلا کر راکھ کردیتے ہیں۔

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سیاست دانوں نے کرپشن کے خلاف توکوئی سخت قانون اس لئے نہیں بننے دیا کہ وہ خود کرپشن کرنے کے بہت شوقین ہیں، لیکن معاشرے میں ظلم کی جو شرمناک کہانیاں جنم لیتی ہیں اور قانون کی بے بسی نمایاں ہوتی ہے، اس کا تدارک وہ کیوں نہیں کرتے، کیوں سخت قوانین نہیں بناتے؟ پنجاب اسمبلی نے تیزاب گردی کے خلاف اب ایک سخت قانون بنا یا ہے ، مگر یہ معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں کہ قانون بن جائے اور لوگ اسے توڑنے سے باز آجائیں۔ قصہ یہ ہے کہ ہمارا نظام انصاف اچھے بھلے قانون کا بھی رگڑا نکال دیتا ہے۔ سب سے بھیانک کردار پولیس کی پراسیکیوشن برانچ ادا کرتی ہے، جو حقائق کو رشوت و سفارش کے عوض اس طرح مسخ کرتی ہے کہ سامنے کے مجرم بھی عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ جب تک سنگین نوعیت کے مقدمات کی تفتیش ، چالان اور سماعت کے لئے کم سے کم مدت کا تعین نہیں کیا جاتا، اس وقت تک یہ واقعات رکنے والے نہیں۔ قتل کے مجرموں کو ابتدائی عدالت سے سزا کے باوجود بیس بیس سال بعد پھانسی پر لٹکایا جائے گا تو اس کا کیا اثر ہوگا؟۔۔۔ اثر تو اس وقت ہوگا جب ایبٹ آباد جیسا کوئی انسانیت سوز واقعہ رونما ہو اور ایک ہفتے کے اندر اندر مجرموں کو سماعت کے بعد سزامل جائے۔ کبھی پانامہ لیکس، کبھی الیکشن میں دھاندلی، کبھی بدزبانی اور کبھی الزامات میں لٹھڑی ہوئی سیاست اور پارلیمنٹ کو اس بات کی فرصت کہاں کہ وہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ظلم اور لاقانونیت پر نظر ڈالے۔مجھے یقین ہے کہ کسی مہذب ملک میں لڑکی کا جلا ہوا جسد خاکی اس طرح گاڑی میں پڑا ملتا تو آج وہاں پورا ملک اس ظلم کے خلاف سڑکوں پر ہوتا، مگرہم سب ایک بے حس معاشرے کا حصہ ہیں، جہاں یہ سوچ سب سے بڑی حقیقت ہے کہ شکر ہے ایسا میرے یا میری اولاد کے ساتھ نہیں ہوا۔

مزید : کالم