کرپشن کے خاتمے سے جمہوریت کی حفاظت

کرپشن کے خاتمے سے جمہوریت کی حفاظت
 کرپشن کے خاتمے سے جمہوریت کی حفاظت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

متحدہ اپوزیشن جماعتوں کی بنائی گئی کمیٹی نے ایسے ٹی او آرز تیار کرلئے ہیں جو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے وزیراعظم نواز شریف کو بھیج دیئے ہیں۔ ان ٹی اور آرز میں پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاناما لیکس کے الزامات کے بارے میں وزیراعظم سے اپنی تحقیقات کا آغاز کریں، جبکہ وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چیف جسٹس اگر چاہیں تو ان کے خاندان سے تحقیقات کا آغاز کرسکتے ہیں۔ اس وقت پاناما لیکس کے الزامات کو متحدہ اپوزیشن پارٹیوں نے ملک کا سب سے بڑا ایشو بنا رکھا ہے، لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ کرپشن ،پولیس کے تھانیدار، پٹواری، تحصیل دار، کچہریوں کے اہلکار، ایکسائز کا عملہ، انکم ٹیکس اور کسٹم کے افسران کررہے ہیں، لیکن سیاست دانوں کو کبھی تو فیق نہیں ہوئی کہ وہ ان کی کرپشن کی نشاندھی کریں جن سے تمام آبادی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ ان سیاست دانوں نے کبھی جعلی دودھ کی تیاری، جعلی ادویات کی فروخت، منشیات فروشی اور اشیائے خورد نوش کی بلاجواز مہنگائی پر توجہ مرکوز نہیں کی۔ انہیں ملک میں لاقانونیت اور پولیس کی ناکامی بھی دکھائی نہیں دی۔ انہیں افسر شاہی کے شاہی اخراجات بھی کبھی نظر نہیں آئے۔ یہ مسائل کا حل صرف نواز شریف کو ہٹا کر ڈھونڈھ ہے ہیں۔ کیا وزیراعظم کوہٹانے سے یہ نظام بدل سکتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ ایسا نہ تو ماضی کی سیاسی حکومتیں کر سکی ہیں اور نہ ہی فوجی حکومتیں۔

نظام کو بدلنے کے لئے ایسے ارکان اسمبلی منتخب کرنے کی ضرورت ہے ،جو کروڑوں روپے خرچ کر کے اسمبلیوں تک نہ پہنچیں کیونکہ ان کو پہلی فکر اپنے اخراجات پورا کرنے کی ہوتی ہے اور دوسری فکر سیٹ حاصل کرنے پر ہونے والی سرمایہ کاری پر منافع حاصل کرنے کی جو بدعنوانیوں اور کرپشن کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے۔

اس وقت عمران خان کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ شور و غوغا کررہے ہیں جب ان کے ساتھی جہانگیر ترین اور علیم خان کروڑوں روپے خرچ کرکے الیکشن لڑیں گے تو پھر عمران خان کرپشن کے خلاف کیا کر سکیں گے؟ اس لئے یا تو کوئی عوامی انقلاب کرپشن کوختم کر سکتا ہے یاپھر یا شعور عوام جو ہر قسم کے لالچ کو مسترد کر کے صرف دیانت دار اور متوسط طبقے کے نمائندے منتخب کریں، جو آہنی عزم سے کرپشن، مہنگائی اور ملاوٹ ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کرپشن ختم کرنا اتنا آسان نہیں، جس کی عمران خان پوائنٹ سکورنگ کررہے ہیں۔ کرپشن کا ناسور قیام ملک کے ساتھ ہی جعلی اور جھوٹے کلیموں اور ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں اور زمینوں پر قبضے کی صورت میں بدعنوانی کی رگوں میں سرایت کرگیاجن کرپٹ اور بدعنوان لوگوں نے قیام پاکستان کے بعد ایسے کام کئے آج ان کی اولادوں کی رگوں میں بھی ایسا ہی خون دوڑ رہا ہے جو بددیانتی اور کرپشن کے میدان میں اپنے بڑوں سے زیادہ بڑے’’ کارنامے‘‘ سرانجام دینا چاہتا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق اس وقت پاکستان 18ہزار ارب روپے کا مقروض ہے اس میں سے آدھا قرضہ، یعنی 9ہزار ارب روپے افسر شاہی اور سیاست دانوں کی جیسوں میں جا چکا ہے۔ یہ کھانا پینا کمیشنوں، کک بیکس، امیورٹس، جعلی بلوں اور خوردبرد کے دیگر طریقوں کے ذریعے ممکن ہوا ہو گا۔جو ممالک ہمیں قرضہ دیتے ہیں ان کا آدھا قرضہ کرپشن کی صورت میں ان کے بنکوں میں واپس پہنچ جاتا ہے اور پھر اس حرام کی دولت سے ان ممالک میں بڑی بڑی جائیداد یں خریدی جاتی ہیں۔ بہت سے لوگ جن کے باپ دادا قیام پاکستان کے وقت چھوٹے موٹے معمولی کام کرتے تھے سرکاری محکموں میں ملازم تھے آج ان کے پیچھے لینڈ کروزر گاڑیوں کی قطاریں چلتی ہیں۔ لیکن ہماری اپوزیشن نواز شریف کا پیچھا نہیں چھوڑرہی جس کے خاندان نے دولت کمانے کے لئے بے تحاشا محنت کی اور ان کے والد نے امر تسر سے لاہور ہجرت کرنے کے بعد کوئی جعلی کلیم نہیں بھرا۔

بہرحال وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی یہ کمزوری ضرور رہی ہے کہ وہ بطور لیڈر آف دی ہاؤس اسمبلیوں میں بہت کم جاتے ہیں جبکہ لیڈر آف دی ہاؤس کا اسمبلیوں میں زیادہ سے زیادہ جانا پارلیمانی جمہوری نظام کی روح ہے۔اس طرح حکمرانوں اور اسمبلی میں موجود اپوزیشن کے درمیان لحاظ اور مروت کے تعلقات بھی قائم رہتے ہیں اور حکمرانوں کو ارکان اسمبلی کے ذریعے عوامی مسائل سے زیادہ سے زیادہ آگاہی بھی حاصل ہوتی ہے جبکہ حکمرانوں کے ارگرد موجود افسر انہیں سچی بات بتانے سے گریز کرتے ہیں اور محض خوشامد پر ہی انحصار کرتے ہیں۔سیاست دانوں نے وزیراعظم نواز شریف کے فوری استعفا دینے کے مطالبے پر اتفاق نہیں کیا تاکہ جمہوری نظام کو کوئی گزند نہ پہنچے تاہم فوجی مداخلت کو روکنے کے لئے ضرور ی ہے کہ چار وں صوبائی حکومتیں گڈ گورننس کو یقینی بنائیں اور وفاق بھی اس جانب توجہ دے سب سے زیادہ ضرورت کرپشن کو روکنے اور سرکاری دفاتر میں عام آدمی کے مسائل حل کرنے کی رفتار کو تیز کرنے کی ہے۔ اگر ہم نے جمہوریت کا اصل چہر ہ قوم کو نہ دکھایا تو نادید وہ قومیں مہم جوئی کی کوشش کرتی رہیں گی۔ وسیع پروٹو کول اور سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان بھی ایسے راستے تلاش کرنے پڑیں گے، جن کے ذریعے عام آدمی کی رسائی اپنے سیاسی حکمرانوں تک ہوسکے کم از کم عوام کو یہ اطمینان حاصل تو ہو کہ ان کے منتخب حکمران ان سے ملنے اور ان کی بات سننے کے لئے تیار ہیں۔حکمرانوں کو پروٹوکول اور سیکیورٹی کی قید سے آزاد ہو کر کچھ وقت عوام کے لئے ضرور نکالنا چائیے۔

مزید : کالم