جنگی جنون میں مبتلا بھارت میں قحط کی سی صورتحال

جنگی جنون میں مبتلا بھارت میں قحط کی سی صورتحال
جنگی جنون میں مبتلا بھارت میں قحط کی سی صورتحال

بھارت کی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ملک کے 256 اضلاع میں بسنے والے تقریباً 33 کروڑ لوگ اس برس شدید ترین قحط سے متاثر ہوئے ہیں۔ پانی کی قلّت کے سلسلے میں ابھی بعض ریاستوں کی طرف سے رپورٹیں نہیں ملیں، اس لیے اس تعداد میں اور اضافے کا امکان ہے۔ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور وزیر ریلوے لالو پرشاد یادیو نے چند روز قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نریندر مودی ملک میں نحوست کی علامت ہیں کیونکہ جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں نہ صرف ریاست بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بارشیں نہ ہونے کے باعث قحط سالی کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

بھارت کا زیادہ تر انحصار مون سون کی بارشوں پر ہے اور گذشتہ دو برس سے مسلسل بارش اچھی نہیں ہو رہی ہیں۔ قحط سالی کی یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہر چل رہی ہے اور درجہ حرارت اپریل کے مہینے میں ہی 40 سینٹی گریڈ سے اوپر ہے۔ شدید گرمی کے سبب مشرقی ریاست اڑیسہ میں تمام سکول بند کر دیے گئے ہیں اور اڑیسہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سو سے زائد لوگ لو کے اثر سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ قحط سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں سے ریاست مہاراشٹر نے پانی کی قلت کے سبب ہی آئی پی ایل کے میچ اس لیے دوسری جگہوں پر منتقل کر دیے ہیں کیونکہ پچیں تیار کرنے کیلئے پانی کی کمی ہے۔ اب تک تقریباً چار ہزار گاؤں ایسے ہیں جہاں پانی کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں پانی کی قلت کے ہی تذکرے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں اس موضوع پر باتیں بھی ہونے لگی ہیں۔ بارش کی کمی کے سبب فصلیں متاثر ہو رہی ہیں اور ملک کے کسان بہت پریشان ہیں۔ یہاں حکومت ٹینکروں کے ذریعے پینے کا پانی سپلائی کر رہی ہے۔ ریاست کے بڑے 11 ڈیموں میں پانی ختم ، جبکہ مرکزی ڈیم میں 2 فیصد پانی رہ گیا ہے۔ مہاراشٹر کے 34 میں سے27 اضلاع قحط سالی کا سامنا کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بھارت کی 10 ریاستوں کی جانب سے حاصل کیا گیا ڈیٹا جمع کرایا گیا ہے جب کہ ریاست بہار اور ہریانہ نے بارشیں نہ ہونے کے باوجود قحط سالی کی صورت حال کو ماننے سے انکار کیا۔ اس کے علاوہ حیران کن طور پر ریاست گجرات کا ڈیٹا بھی قحط زدہ علاقوں میں شامل نہیں کیا گیا جب کہ مقامی حکومت اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ ریاست کے 637 دیہات میں پانی کی شدید قلت ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ میں ایک این جی او کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ 12 ریاستیں جن میں اترپردیش، کرناٹک، مدھیہ پردیش، تلنگانہ، مہاراشٹر، گجرات، اڑیسہ، جھاڑکھنڈ، ہریانہ، بہار اور چھتیس گڑھ شامل ہیں، قحط سالی کی صورت حال کے باوجود حفاظتی اقدامات نہیں اٹھا رہیں۔دنیا میں گرمی کے حوالے سے امریکہ کے نیشل اوشیانک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈ منسٹریشن کے محکمے نے کہا ہے سال 2016 دنیا میں اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے گرم سال ہو گا۔ انڈیا کی ارضیاتی سائنس کی وزارت نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ برس بھارت کے لیے بھی سب سے گرم سال ثابت ہو گا۔بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال کے تین ابتدائی مہینے جنوری، فروری اور مارچ پہلے ہی ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ اپریل کے مہینے میں درجہ حرارت بھارت کے شمالی، مغربی، وسطی اور جنوبی خطوں میں 40 ڈگری سے آگے جا چکا ہے۔ سب سے زیادہ گرمی مہاراشٹر، کرناٹک اور آندھرا میں پڑی جہاں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔ بہت سے علاقوں میں پانی ٹرینوں کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔ ایک طرف تو بھارت پر جنگی جنون سوار ہے تو دوسری جانب سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی قحط سالی کا شکار ہے جسے پینے کا صاف پانی اور کھانے پینے کی اشیاء بھی حاصل نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے 678 اضلاع میں سے 254 قحط سالی کی لپیٹ میں ہیں جس میں سب سے زیادہ متاثر ریاست اتر پردیش ہے جہاں بارشیں نہ ہونے کے باعث 50 اضلاع کے 9 کروڑ 88 لاکھ افراد قحط سالی کا شکار ہیں۔جنگی جنون اور ہتھیاروں کی خرید و فروخت میں مصروف بھارت بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل کو قابو کرنے میں مکمل ناکام نظر آ رہا ہے اور رواں سال کے موسم گرما میں ابتدائی دو ماہ کے دوران ہی بھارت میں گرمی کی شدت کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں ہوگئی ہے۔جنگی ہتھیاروں اور سرحدوں پر جدید نظام نصب کرنے والے بھارت کو جنگ کا خطرہ تو نظر آتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیاں اور ملک میں جاری پانی اور قحط کے مسائل قطعا نظر نہیں آتے۔ دہشتگردی کے واقعہ پر پاکستان پر الزام لگانے میں تو مودی سرکار دیر نہیں کرتی لیکن ملک میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہا ر گئے اور مودی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...