علاج، معالجے کی سہولتوں کا فقدان!

علاج، معالجے کی سہولتوں کا فقدان!
علاج، معالجے کی سہولتوں کا فقدان!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

منیر احمد بھی صحافی ہے۔ اس کا تعلق میرے لاہور سے تو ہے لیکن وہ بھی نصرت جاوید، فیاض چودھری اور عظیم چودھری کی طرح اسلام آبادیا ہو چکا کہ ر وزگار وابستہ ہے۔وہ وہاں اے پی نیوز ایجنسی میں کام کرتا ہے جو غیر ملکی(امریکی) ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخری دِنوں 29اپریل کو فیس بک کھولی تو منیر کا اپنا پیغام خود اس کی ٹائم لائن سے تھا، پڑھ کر دِل دھک سے رہ گیا اور فوراً اس سے پوچھا کہ اب کیا حال ہے اور ہدایت کی کہ توجہ سے علاج کرائے۔ منیر باریش اور پرہیز گار بھی ہے، اس نے اپنا صحافتی کیریئر میرے آبائی اخبار روزنامہ ’’امروز‘‘ میں آمد سے شروع کیا اور پھر ہوتے ہوتے اسلام آباد میں آباد ہو گیا۔

منیر نے تحریر کیا کہ وہ دفتر سے قریباً پونے پانچ بجے گھر کے لئے روانہ ہوا، تھکا ہوا تھا اور آرام کرنے کو جی چاہ رہا تھا، روانگی کے وقت اسے کچھ گھبراہٹ محسوس ہوئی تو اسے بھی زیادہ کام کا نتیجہ جانا اور آرام ہی کو ترجیح دی، لیکن کام سے گھر کی طرف جاتے ہوئے راستے میں اس کو درد نے آ لیا، بقول منیر احمد ایک مرحلہ آیا جب دِل ڈوب سا گیا اور وہ سمجھا کہ اب آخری وقت آ گیا ہے، اس نے کلمہ پڑھ لیا اور وقت آخر کا منتظر، لیکن کچھ لمحے یہ کیفیت رہی اور پھر دم واپس ہو گیا تاہم درد شدید تھا، منیر نے ذرا سنبھلتے ہی عقل مندی کا مظاہرہ کیا اور ہسپتال جانے کی ٹھانی، اُس وقت قریب پولی کلینک تھا وہ پولی کلینک پہنچ گیا۔ منیر احمد کے بقول ہسپتال کی حالت ابتر تھی، مریض بہت سے اور ہسپتال میں انتظام ناکافی تھا ایک ایک بستر پر دو دو مریض لٹائے گئے تھے، کسی نہ کسی طرح چیک اپ ہوا اور گھر جانے کی اجازت لے کر وہ روانہ ہو گیا، بعد ازاں کی کیفیت دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ ٹیسٹ وغیرہ ہوئے اور علاج ہو گیا۔ ڈاکٹر حضرات کے بقول دِل کا مسئلہ نہیں، وقتی طور پر کوئی وائرل اٹیک یا گیس وغیرہ کا معاملہ تھا۔

فون پر تفصیل دریافت کر لی تو تسلی ہو گئی کہ مَیں تو اس سے انجیو گرافی وغیرہ کے لئے پوچھ رہا تھا وجہ یہ تھی کہ خود میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔2009ء میں صبح سیر کے بعد گھٹن کا احساس ہوا تو صاحبزادے کو لے کر پی آئی سی گیا جہاں خون کے ٹیسٹ کا نتیجہ ٹھیک نہیں تھا اور داخل ہونا پڑا، جس کے بعد دِل کا بائی پاس ہوا تو خلاصی ہوئی اب زندگی اللہ کی دین اور احتیاط کی محتاج ہو کر رہ گئی، ساتھ ساتھ ادویات بھی چلتی ہیں۔

یہ بات یوں کرنا پڑی کہ منیر نے اس بیماری اور اچانک تکلیف کے باوجود اپنی صحافتی حس کا بھی مظاہرہ کیا اور پولی کلینک ہسپتال کی حالت کا نقشہ کھینچنے کے بعد یہ سوال اٹھایا کہ جس مُلک میں علاج معالجے اور صحت کی سہولتوں کا یہ عالم ہو کہ گنجائش ہی ختم ہو جائے، وہاں ڈاکٹر کیا توجہ دیں گے، وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ اس مُلک کو پانامہ لیکس کے کھیل کی ضرورت ہے کہ صحت کی سہولتوں جیسے نیک کام کی، کیا موٹرویز، سڑکوں کی تعمیر اور اورنج میٹرو ٹرین کے منصوبے انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہیں کہ ان پر تو اربوں روپے خرچ ہوں، لیکن صحت جیسے اہم شعبے پر توجہ نہ دی جائے۔ منیر کا کہنا صحیح ہے کہ مُلک میں بڑے بڑے کھربوں کے منصوبوں کا اعلان ہوا اور بعض پر کام جاری ہے، حتیٰ کہ جب مَیں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو وزیراعظم سکھر میں سکھر، ملتان موٹروے کی تعمیر کا افتتاح کر رہے ہیں اور یہ بھی قیمتی سڑک اربوں روپے ہی سے بنے گی۔

ہمارے پیارے پاکستان میں سہولیات زندگی اور ماحول اتنا خراب ہے کہ پل پل میں کسی نہ کسی نئی بیماری کی اطلاع مل جاتی ہے، سرکاری ہسپتال آبادیوں کے تناسب سے کہیں کم ہیں اور نجی علاج گاہیں مہنگی بہت ہیں، اس لئے شہریوں کی بھاری اکثریت انہی ہسپتالوں کا رخ کرتی ہے، اس لئے یہاں بھیڑ بھاڑ بھی ز یادہ ہوتی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ ان ہسپتالوں میں نہ صرف ادویات کی کمی ہے، بلکہ اب تو وارڈوں کی عمارتیں بوسیدہ ہوتی جا رہی ہیں، وارڈوں کے اے سی خراب ہیں، مریضوں کی تعداد کے مطابق بستر نہیں ہیں، چنانچہ مریضوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا کہہ کر ایک ایک بستر پر دو دو مریض لٹا دیئے جاتے ہیں، یہی حالت ڈاکٹر حضرات کی ہے کہ کمی ہو چکی اور ادویات بھی بازار سے خریدنا پڑتی ہیں، ضرورت تو یہ ہے کہ آبادی کے تناسب سے نئے ہسپتال بنائے جائیں تاہم فی الحال تو فوری ضرورت حاضر ہسپتالوں میں توسیعی منصوبے مکمل کرنے، عمارت کی مرمت، نئے بستر، چادریں وغیرہ اور ائر کنڈیشنر ٹھیک کرانے کے ساتھ ساتھ ادویات کی ضرورت ہے اور حکومت بلکہ حکومتوں(صوبائی) پر لازم ہے کہ صحت کے بنیادی مراکز اور ہسپتالوں کی حالت پر توجہ دیں تاکہ وہاں آنے والوں کو کچھ تو ریلیف مل سکے۔ یہاں ایک دور وہ تھا جب میو ہسپتال ایشیا کا بہت اچھا اور بڑا ہسپتال تھا، جس کے انتظامات کی بھی تعریف کی جاتی تھی۔ کیا یہ اب بحال نہیں ہو سکتی؟نیت اور دِل صاف ہو تو سب کچھ ہو جاتا اور ممکن ہے۔ یہاں سیاسی دعوے بہت کئے جاتے ہیں، لیکن عملی تصویر یہ ہے کہ یہ سیاست دان ہی، ایک دوسرے کے در پے ہیں، لیکن ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے پرانی باتیں ہی دہرائی جا رہی ہیں۔ ان امور کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ منیر احمد نے بھی ایسی ہی خواہش کا اظہار کیا۔ ہمارے خیال میں علاج لازم ہے، لیکن ہسپتالوں کی حالت زاد پر بھی توجہ مبذول کرنا چاہئے۔

مزید : کالم