سعودی عرب میں تبدیلی کے آثار

سعودی عرب میں تبدیلی کے آثار
سعودی عرب میں تبدیلی کے آثار

  

سعودی عرب کے نا ئب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے National Transformation Plan کے نام سے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق سعودی عرب معا شی طور پر جلد، یعنی 2020ء تک تیل پر انحصار ختم کر دے گا۔ اس منصوبے کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ اب سعودی عرب بڑی اور بھاری صنعتوں پر خصوصی توجہ دے گا۔ تیل ، پانی بجلی اور دیگر ضروریات پر بے تحا شہ مراعات کا خاتمہ کیا جا ئے گا۔ سعودی معیشت میں اس وقت پرائیویٹ سیکٹر کا حصہ 40فیصد ہے 2020ء تک اس کو بڑھا کر 70فیصد کر دیا جا ئے گا۔ اسی طرح اس وقت سعودی عرب دفا عی سا ز و سامان کی ضرو ریات کا صرف 2فیصد خود تیار کرتا ہے 2020ء میں 50فیصد سعوی عرب ہی میں تیار کیا جا ئے گا۔ سعودی تاریخ کے تنا ظر میں دیکھا جا ئے تو اس نئے منصوبے کے با رے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ منصوبہ ایک طرح سے آئیڈل ازم پر مبنی ہے۔ 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ نے سعودی بادشاہ عبدالعزیز بن سعود کو خصوصی طور پر امریکہ کے سرکاری دورے پر بلا یا اور اِسی دورے کے دوران سعودی عرب اور امریکہ کے مابین یہ معا ہدہ طے پا یا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کی سلامتی اور سالمیت کی ضمانت دے گا اور اس کے بدلے سعودی عرب امریکہ کو تیل جیسی دولت سے نوازتا رہے گا۔اس دور سے لے کر ماضئ قریب تک دونوں ممالک اس معا ہدے پر برقرار رہے اور سعودی معیشت تیل پر ہی انحصار کر تی رہی۔

اب کسی بڑی معا شی اور سیاسی تبدیلی کے بغیر یہ دعویٰ کرنا کہ سعودی معیشت کا تیل پر سے انحصار جلد ہی ختم ہو جا ئے گا ایک تصوریت پسندی ہی سمجھی جا ئے گی۔اس منصوبے کو بر طانوی اخبا ر دی (Independent)کے مشرق وسطی ٰکے ماہر تجزیہ نگار پیٹرک کاکبرن نے چینی انقلاب کے بانی ماؤزے تنگ کے Great Leap Forwardمنصوبے کی طرح کا ایک تصوراتی منصوبہ قرار دیا ہے۔ماؤ نے اس منصوبے کے مطابق 1958ء میں یہ اعلان کیا تھا کہ چین کو جلد ہی ایک زرعی معا شرے سے صنعتی معاشرے میں تبدیل کر دیا جا ئے گا،مگر عملی طور پر اس منصوبے کے باعث چین کو بہت زیا دہ نقصانات اُٹھانے پڑے۔ اس حوالے سے سعودی عرب کی طرح تیل سے مالا مال اردگرد کے ممالک کی بھی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ جیسے ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے سے پہلے صدام حسین نے بھی عراق میں بڑے پیما نے پر صنعت کاری کو فروغ دیا اور جدید انفرا سٹر کچر قائم کیا۔اس سے بھی بڑھ کر انقلاب ایران سے پہلے ایران کے رضا شاہ پہلوی نے بھی 1974ء میں پا نچ سالہ ترقیاقی منصوبے کا اعلان کیا ۔ اس منصوبے کے مطابق ایران کی معیشت کو 5سال میں ترقی یا فتہ ممالک کے برابر لانے کا اعلان کیا گیا،چونکہ بادشاہ اور آمر زمینی حقائق سے دور خوشامدیوں کے ٹولے میں گھرے ہو تے ہیں اور عوامی خواہشات کا ادراک نہیں رکھتے اس لئے غیر منصفانہ بنیا دوں پر کی گئی یہی ترقی ان کے زوال کا بھی با عث بنتی ہے۔۔۔اس حوالے سے سوال پیدا ہو تا ہے کہ وہ کون سے ایسے بنیا دی عوامل ہیں کہ جن کے با عث سعودی شاہی خاندان سعودی عرب میں تبدیلی لا نے کے منصوبے بنا رہاہے؟

گز شتہ سال اپریل 2015ء میں جب محمد بن سلمان کو نا ئب ولی عہد بنا یا گیا تھا تو اس کو سعودی معروض میں بہت بڑی تبدیلی قرار دیا گیا تھا، کیو نکہ سعودی عرب کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز السعود کے بیٹوں سے اگلی نسل کو منتقل ہو تا دکھائی دیا۔ 1953ء سے عبدالعزیز السعود کی وفا ت کے بعد اقتدار ان کے بیٹوں کے ہی سپرد ہو تا رہا ہے۔موجودہ سعودی فرما ں روا شاہ سلما ن نے اپنے سوتیلے بھا ئی شہزادہ مقرن کی جگہ اپنے55سالہ بھتیجے محمد بن نائف کو اپنا ولی عہدجبکہ اپنے نوجوان بیٹے محمد بن سلمان کو نا ئب ولی عہد مقرر کر کے عملاً اقتدار اگلی نسل کو منتقل کیا۔ ان تبدیلیوں پر معروف مورخ، ادیب اور کئی عشروں تک سعودی عرب کے شاہی نظام پر تحقیق کرنے والے مبصر، رابرٹ لیسی کی جا نب سے اہم تبصرے کئے گئے۔ رابرٹ لیسی نے سعودی عرب کے سیا سی نظام پر اپنی تحقیق کو دو شاہکار کتابوںThe Kingdom اور Inside the Kingdom کی صورت میں دُنیا کے سامنے پیش کیا ۔ ان تبدیلیوں پر رابرٹ لیسی نے تبصرہ کرتے ہو ئے کہا تھا کہ سعودی عرب میں اقتدار نئی نسل کو منتقل کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ سعودی فرماں روا شا ہ سلمان اور ان کے حامی شہزادوں کو اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ سعودی عرب کے شاہی نظام میں جمود کا شکار اور سست رو ی پر مبنی پالیسیوں کو ختم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اقتدار اگلی نسل کو منتقل کر دیا جا ئے۔شا ہ عبداللہ کی وفات کے فوراً بعد سعودی عرب کی انتہا ئی سست رو، بلکہ جمو د کا شکا ر بیو رو کریسی میں جن اصلا حا ت کو متعا رف کر وایا گیا اور روا یتی ذہن رکھنے والے لو گو ں کو بر طرف کیا گیا تو ان تبدیلوں کو شہزادہ محمد بن سلمان ہی کی اختراح قرار دیا گیا۔

اب یہاں بنیا دی سوال یہی ہے کہ کیا شاہی نظام میں اقتدار محض اگلی نسل تک منتقل کر دینے یا بنیا دی تبدیلی کے بغیر نئے نئے منصوبوں کے اعلان سے کسی ریا ست یا سماج میں کو ئی عملی یا بڑی تبدیلی آسکتی ہے؟با دشاہت دُنیا کا قدیم ترین سیا سی نظام ما نا جا تا ہے۔دنیا کی کوئی بھی تہذیب ایسی نہیں رہی جہا ں پر کبھی نہ کبھی شا ہی نظام یا ملوکیت کسی نہ کسی شکل میں موجود نہ رہی ہو، مگر آج دُنیا میں کتنے مُلک ایسے ہیں جہاں پر عملی طور پر شا ہی نظام موجود ہو؟ اس وقت دُنیا کے آٹھ ، دس ممالک ہی ایسے ہیں جہاں پر شاہی نظام عملی طور پر رائج ہے۔ سیاسیات کی تا ریخ سے یہی ثا بت ہوتا ہے کہ دُنیا میں موجود انسانوں کی واضح اکثریت نے صدیوں کے ارتقائی مراحل کو طے کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ شاہی نظام جس قدر بھی معاشی وسائل کیو ں نہ رکھتا ہو، مگربنیا دی طور پر یہ نظام غیر لچک دار ہی ہو تا ہے دُنیا میں کہیں بھی کو ئی شا ہی نظام اقتصادی یا انٖفرا سٹر کچر کی ترقی کاجتنا مرضی بڑا دعویدار ہو، مگر اس نظام میں اجتما عی دانش مفقود ہو نے کے با عث اتنی سکت نہیں ہو تی کہ وہ داخلی اور خارجہ پا لیسیوں کو عوام کی منشا کے مطا بق ترتیب دے سکے، بلکہ اس نظام میں وسائل کا بڑا حصہ صرف شاہی خاندان کے اثرورسوخ میں اضافہ پر ہی صرف ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ با دشاہت کے نظام کو ایک متروک سیا سی نظام ما نا جا تا ہے ۔

تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے با وجود آج سعودی عرب کو داخلی اور خارجہ سطح پر جن مسائل کا سامنا ہے ان میں شاہی خاندان کی ایسی پالیسیوں کا بھی عمل دخل ہے جو اس نے اپنے اثرو رسوخ میں اضافے کے لئے اپنائیں۔سارے مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے لئے اپنی پراکسیز کی حمایت کے با عث آج عراق، شام ، لیبیا اور یمن میں خانہ جنگی کی کیفیت ہے، جبکہ داخلی سطح پر سعودی عرب میں غربت اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔30ملین آبا دی میں سے 506,000 نوجوان 2015ء میں نو کری یا روزگا ر کمانے کی عمر میں داخل ہوچکے ہیں، مگر سعودی معیشت اتنے بڑے پیمانے پر ان نو جوانوں کو روزگار فراہم کر نے کے قابل نہیں۔ کل سعودی آبا دی کا آدھے سے زائد حصہ25سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ غیر جانبدار ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سعودی معیشت میں اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو معاشی دھارے میں شامل کرنے کی سکت نہیں یوں یہ بے روزگار نو جوان کل کو اسلامی شدت پسندی کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ان حالات میں کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ سعودی شاہی خا ندان مشرق وسطیٰ اور اس خطے سے باہر اپنے اثرو رسوخ میں اضا فے سے زیادہ اپنے داخلی مسا ئل کے حل کے لئے ہی اپنے وسائل اور توجہ صرف کرتا اور حقیقی معا شی ترقی کے لئے حقیقی سیاسی اصلاحات بھی متعارف کرواتا؟

مزید : کالم