پاکستان میں اب کیا ہو گا؟

پاکستان میں اب کیا ہو گا؟
 پاکستان میں اب کیا ہو گا؟

  

پاکستان میں اب کیا ہو گا؟ اس ملین ڈالر سوال کا میرے پاس جواب یہ ہے کہ کچھ نہیں ہو گا۔ جواب بالکل سیدھا سادہ سہی، لیکن مَیں نے یہ ایسے ہی نہیں کہہ دیا۔ پاکستان سے دور بیٹھے اس شخص کے پاس کوئی خفیہ معلومات ہیں اور نہ کوئی ستاروں کا علم، لیکن رائے عامہ کے اس طالب علم نے اس بظاہر آسان سے نظر آنے والے نتیجے پر پہنچنے کے لئے کافی ’’سائنٹیفک ایکسر سائز‘‘ کی ہے۔ پاکستان کے عوام کس طرح سوچتے ہیں؟ ان کی فکر کی بنیاد کیا ہے؟ مختلف حالات (Developments) اس بنیاد پر اثر انداز ہو کر کس طرح عوام کے مختلف طبقوں کی آراء کے رنگ برنگے شیڈ تیار کرتے ہیں؟ کس طرح کوئی تحریک، مہم یا تنظیم سب کو یکساں اپیل کرنے والے مشترک نکات تلاش کرتی ہے؟ کس طرح کوئی لیڈر اس اتفاق رائے کے کوئی ایک یا دو مرکزی نکات یا ٹارگٹ کا انتخاب کر کے اسے انفرادی ضرورتوں سے ہم آہنگ کر کے اس میں جوش وجذبے کا تڑکہ لگا کے موبلائز کرتا ہے؟ جس طرح حساب میں دو جمع دو چار ہوتے ہیں اِسی طرح آپ بھی ان سب معاملات کا جائزہ لینے کے بعد اِسی فارمولے کے تحت حتمی نتیجہ حاصل کر سکتے ہیں۔مَیں نے بھی بس ایسے ہی کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت پانامہ پیپرز کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال کا اِسی انداز سے جائزہ لیا ہے اور حاصل نتیجہ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔

اس وقت اتنی کھچڑی پک چکی ہے یا پک رہی ہے، لیکن میری یہ تحریر کھچڑی پکانے کے اس عمل میں حصہ لینے کے لئے نہیں ہے۔دوسرے لفظوں میں اس وقت وزیراعظم نواز شریف کے حق اور مخالفت میں بٹے ہوئے رائے عامہ کے دو حصوں میں سے کسی ایک کو درست یا غلط قرار دینا میرا موضوع نہیں ہے، بلکہ رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لئے دونوں اطراف سے جو حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے، مَیں صرف اس پر رائے دوں گا، جس کا نتیجہ مَیں شروع میں بیان کر چکا ہوں۔ دونوں اطراف کی مہمیں جس ٹریک پر چل رہی ہیں وہ کس کے سود مند ثابت ہو رہی ہیں اور کسے نقصان پہنچا رہی ہیں، اس پر بھی اپنا بیان ریکارڈ کراؤں گا۔پانامہ پیپرز کا افشاء ہونا ایک بین الاقوامی واقعہ ہے جس میں قدرتی طور پر باقی دُنیا کی طرح پاکستانیوں کی بھی دلچسپی ہونی تھی، لیکن دو سو کے قریب پاکستانیوں کے ان میں نام آنے سے یہ واقعہ ایک حادثہ بن کر پاکستان کی حدود میں داخل ہو گیا۔پہلا دھماکہ اُس وقت ہوا جب اس میں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کا نام آیا اور دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب حسین نواز نے الحمد للہ کہہ کر دو ’’آف شور‘‘ کمپنیوں کو تسلیم کر لیا اور چند روز قبل باقاعدہ انکار کرنے والی اپنی بڑی بہن مریم کو تکنیکی طور پر ان کی مالکہ قرار دے دیا۔ اس کے بعد دونوں اطراف سے جو آتش بازی شروع ہوئی اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

نواز شریف کے مخالفوں کو بقول ان کے قدرت کی طرف سے ایک سنہری موقع میسر آیا تھا۔ وزیراعظم اور ان کا پورا کیمپ اپنی موجودہ مدت میں دوسری مرتبہ ڈی چوک کے دھرنوں کی طرح شدید دباؤ میں آ گیا تھا۔ مختلف اطراف سے ٹکڑوں کی صورت میں جو خبریں یا افواہیں لیک ہوتی رہیں ان کو یکجا کر کے پڑھنے سے کم از کم مجھے یہ تھیوری قابل قبول محسوس ہوئی کہ وزیراعظم کو ہو سکتا ہے لندن میں میڈیکل چیک اپ بھی کرانا ہو، لیکن اصل میں ان کے وہاں جانے کے جتنے بھی مقاصد تھے وہ سب کے سب پانامہ پیپرز سے متعلق تھے۔ لگتا ہے وہ وہاں زیادہ مدت کے لئے گئے تھے اور ان کے خلاف مہم اصل ٹریک پر چل نکلتی تو وہ جلد واپس نہ آتے اور ان کے لئے خطرات بڑھ جاتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سکینڈل میں ان کے خلاف تحریک چلنے کے سارے اجزاء ترکیبی بدرجہ اتم موجود تھے، لیکن وہ زیر سطح رابطوں کے نتیجے میں فرینڈلی اپوزیشن کی تجدید نو کے باعث کچھ تسلی حاصل کر کے واپس آ گئے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے خلاف مہم جس ٹریک پر چلنے کا امکان پیدا ہو رہا ہے اس سے وہ اتنا وقت خرید لیں گے جس سے مخالف مہم کا ٹمپو ٹوٹ جائے گا۔

پانامہ پیپرز کے حوالے سے نواز شریف مخالف مہم کی قیادت عمران خان کر رہے تھے۔ ان کی مہم کو آگے بڑھا کر تحریک دینے یا اس میں ٹھہراؤ اور جمود پیدا کرنے کا سارا انحصار ان کی سٹرٹیجی پر تھا۔ انہوں نے پے در پے سٹرٹیجک غلطیاں کیں اور ابھی تک کرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وہ ٹریک ہی اختیار نہیں کیا جس پر چلتے ہوئے وہ اپنے طے شدہ ٹارگٹ پر ٹھیک ٹھیک نشانہ لگاتے۔ انہوں نے بوجوہ دوسرا ٹریک اختیار کیا جہاں معاملے کو پھیلانے کا سارے کا سارا فائدہ ان کے مخالف کو پہنچ رہا ہے۔ عمران خان نے جو ٹریک پکڑا وہ ماس کمیونیکیشن، پبلک ریلیشنز اور رائے عامہ کے طالب علموں کے لئے بہت دلچسپCase Study ہے۔پہلا، بنیادی یا اصل ٹریک جو عمران خان کو اختیار کرنا چاہئے تھا وہ اس طرح تھا۔ وہ نواز شریف سے براہِ راست یک نکاتی مطالبہ کرتے کہ وہ ان کے خاندان کی ان دو کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی صفائی پیش کریں کہ یہ پیسہ جائز ذریعے سے کما کر جائز طریقے سے ان کمپنیوں میں لگایا گیا ہے۔ اس کا راستہ وہ یہ تجویز کرتے کہ اپنی سرمایہ کاری کو جائز اور شفاف ثابت کرنے کے لئے وہ اپنے اور خاندان کے تمام اثاثوں اور ان پر ادا کئے جانے والے ٹیکس کی اس وقت سے تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کریں جب یہ ’’آف شور کمپنیاں‘‘ قائم کی گئی تھیں۔ وہ اپنے کارکنوں اور عوام کو موبلائز کرنے کے لئے اپنی مہم کا زور اسی ایک نکتے پر رکھتے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سپریم کورٹ سمیت تمام احتسابی اداروں پر زور دیتے کہ وہ وزیراعظم کو یہ تفصیلات فراہم کرنے پر مجبور کریں۔ انہوں نے پہلے تو اس مطالبے کو دیگر مطالبات میں شامل کر دیا پھر ان کی طرف سے کمیشن کے قیام کا مطالبہ سب سے بڑی سٹرٹیجک غلطی تھی۔ اپوزیشن کا یک نکاتی مطالبہ زور پکڑتا تو اسے مطمئن کرنے کے لئے کمیشن کے قیام کی بات تو حکومت کی طرف سے آنی چاہئے تھی، اپوزیشن کا اسی ایک مطالبے پر اصرار جاری رہنا چاہئے تھا۔ وزیراعظم کے اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کے لئے اپوزیشن قومی اسمبلی کے علاوہ دوسرے فورم منتخب کرنے کے لئے تیار ہو سکتی تھی۔ یہ واحد مطالبہ صحیح ٹارگٹ کے ساتھ آگے بڑھتا تو اس کی حمایت میں عوام بھی سڑکوں پر نکل سکتے تھے اور یہ ایک تحریک اختیار کر سکتا تھا۔ حکومت کی طرف سے مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ کسی درخواست کے جواب میں یا سوموٹو ایکشن کے ذریعے حکومت کو طلب کر سکتی تھی اور اسے ضروری دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دے سکتی تھی۔

اب عملاً یہ ہوا کہ پہلے عمران خان اور پھر باقی اپوزیشن کے ذریعے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کلیئر کرنے کے لئے کمیشن کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ یہ کمیشن کیسا ہو، ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ہو یا موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اسے قائم کریں، نتیجہ تو وہی نکلا جو وزیراعظم کی ٹیم کے سٹرٹیجک ماہرین کو سوٹ کرتا تھا۔ پہلے کمیشن، کمیشن اور پھر ٹی او آرز، ٹی او آرز کا کھیل شروع ہوا۔ نواز شریف مخالف گروہ کو یہ نقصان ہوا کہ ان کی مہم ایک تحریک نہ بن سکی۔ سرکاری ٹیم مکمل طور پر مطمئن ہو گئی کہ اس سارے خیال میں اسے اتنا وقت مل گیا کہ وہ اپنے آپ کو مستحکم کرے اور عوام کا رخ پنے ترقیاتی پروگراموں کی طرف مبذول کرائے تاکہ اپوزیشن کے مطالبے کا ٹمپو ٹوٹ جائے۔ساری مہم کو کسی ایک نکتے پر مرکوزکرنے کی بجائے عمران خان کی ٹیم نے جانے انجانے میں اپنی مہم کو خود ہی پھیلا دیا۔ حکومتی ٹیم تو بالکل یہی چاہتی تھی اِس کے سٹرٹیجک ماہرین نے آگے بڑھ کر اسے مزید پھیلا دیا اور اتنا وقت خرید لیا کہ اسے سارے معاملے کو بکھیرنے اور اس میں نت نئی الجھنیں پیدا کرنے کی مہلت مل گئی۔

پانامہ پیپرز کے مسئلے سے بہت پہلے جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کی طرف سے کرپشن کے خلاف ایک درست مہم شروع تھی۔ وہ اپنی تمام تر جائز بنیاد کے باوجود پذیرائی حاصل نہ کر سکی۔ اس کی وجہ بھی پاکستان کی رائے عامہ کی تشکیل کے پیچیدہ عمل میں چھپی ہوئی ہے۔ پاکستان کے عوام جہاں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کرپشن پاکستانی سوسائٹی کا ایک اہم اور بنیادی مسئلہ ہے وہاں وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسے جڑ سے اکھاڑنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان حالات میں وہ اس ’’ناگزیر برائی‘‘ سے سمجھوتہ کر چکے ہیں اور اس کے خلاف مہم کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اسے سیاسی نعرہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی مبینہ لوٹی ہوئی دولت کو سوئس بینکوں سے واپس لانے کی مہم کو ابھرتا ہوا اور پھر جمہوریت کے حسین چہرے کے پیچھے چھپتا بھی دیکھ چکے تھے، جس پر مفاہمت اور باہمی پردہ پوشی کا غازہ لگا دیا گیا تھا۔وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز شخصیت کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کا اخلاقی معاملہ بہت پیچھے چلا گیا۔ اب سامنے کا منظر یہ ہے کہ کمیشن کے قیام سے بھی پہلے ٹی او آر کا جو جال حکومتی ٹیم نے پھیلایا تھا اعتزاز احسن کی قیادت میں مخالف قانونی ماہرین سمیت میڈیا مبصرین اس میں پھنس چکے ہیں۔ حکومتی سٹرٹیجی کے مطابق ہر قسم کے وسیع تر احتساب کا نتیجہ مہینوں کی بجائے شاید برسوں میں بھی نہ نکلے، لیکن اس کا اخلاقی جواز پیدا کر دیا گیا ہے۔ اب توجہ اس دلیل کی طرف جا رہی ہے کہ صرف وزیراعظم اور ان کے خاندان کا احتساب کیوں، دوسرے لوگوں کا کیوں نہیں؟

خیال رہے کہ اب نئے دور میں رائے عامہ کا عمل تعمیر کم، توڑ پھوڑ کا شکار زیادہ ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ بشکریہ سوشل میڈیا ہو رہا ہے۔ سیاسی لیڈروں، آزاد اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے ساتھ ساتھ، بلکہ ان سے بڑھ کر رائے عامہ کے کھلے میدانوں میں اب سوشل میڈیا کا مُنہ زور گھوڑا بھی موجود ہے جو سر پٹ دوڑتا ہوا ہر چیز کو لتاڑتا جا رہا ہے۔ اس کے کچے پکے تبصروں کو آپ ان کا جمہوری حق سمجھ کر قبول کرنے کے لئے مجبور ہیں، لیکن اس کا اپنے مخالفوں کو گالی گلوچ کی حد تک تنقید کا نشانہ بنانا ایک ایسا مرض بن چکا ہے، جس کا ابھی کوئی علاج دریافت نہیں ہوا۔شروع میں مَیں نے رائے عامہ کی تشکیل کے عناصر کا ذکر کیا تھا، لیکن یہ ذہن میں رہے کہ پاکستان کی رائے عامہ، جو بھی شکل اختیار کرے اس کی تعمیر ہمیشہ اس کے ٹھوس، قومی، مذہبی، اخلاقی اور سماجی عقائد کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے۔ مضمون پہلے ہی اختتام کو پہنچ چکا ہے اس لئے ان عقائد کی تفصیل بیان نہیں ہو سکتی، لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی قوم کا ایک قابل تعریف پہلو یہ ہے کہ اپنے ان عقائد کی حفاظت کا پُرجوش جذبہ اور ولولہ ہمیشہ اس میں زندہ رہتا ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی سیاسی یا مذہبی تحریک اُٹھی تو اسے صرف ان لیڈروں نے کامیاب بنایا، جنہوں نے عوام کے متعلقہ عقیدے کو دریافت کر کے اس کی حفاظت کے لئے انہیں پورے جوش و جذبے کے ساتھ میدان عمل میں اترنے کے لئے آمادہ کیا ہے۔ عوام کی اپنے عقائد پر کاربند رہنے کی نیت ہمیشہ درست رہی۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ اس کے کچھ حصے کسی فریب میں آ جائیں اور ان کے عقائد کی حفاظت کے جذبے کو کچھ لوگ ایکسپلائٹ کر جائیں۔ طالبان نے پاکستانیوں کی مذہبی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اِسی فریب کے پردے میں اپنی دہشت گردی کی جڑیں مضبوط بنائیں۔ اس فریب کا پردہ آہستہ آہستہ چاک ہوا اور پشاور سکول پر حملے کے بعد یہ عمل مکمل ہو گیا اور قومی جذبے کی یہی بیداری ضربِ عضب کی کامیابی کا باعث بنی۔

پاکستانی عوام میں خرابیوں کے مرتکب افراد کو گرفت میں لانے کا قومی جذبہ بدستور موجود ہے۔ ایک اہم نکتے کو ٹارگٹ بنا کر اس جذبے کو تحریک بنانے کا موقع شاید عمران خان نے ضائع کر دیا۔ اپوزیشن کی مہم کو ناکام بنانے کے لئے حکومتی ٹیم کو اسی جذبے کو استعمال کرنے کا موقع ملا ہے۔حکومتی ٹیم کے تعلقات عامہ اور سٹرٹیجی کے ماہرین بہت ہوشیار معلوم ہوتے ہیں وہ موقع ضائع نہیں کرتے نظر آ رہے۔ اِسی لئے سامنے نظر آنے والے مناظر کا دو جمع دو چار کے فارمولے کے مطابق تجزیہ کرتے ہوئے مَیں نے جو نتیجہ نکالا تھا وہ مَیں نے پیش کر دیا ہے۔ اِس لئے اگر کوئی غیر متوقع غیر معمولی نیا فیکٹر اِس صورت حال میں داخل نہ ہوا تو پھر یہ نتیجہ برقرار رہے گا کہ ’’کچھ نہیں ہو گا‘‘۔ امید ہے مَیں نے آپ کے اس سوال کا جواب دے دیا ہے کہ پاکستان میں اب کیا ہو گا؟

مزید : کالم