جرگہ اور دوشیزہ کا قتل، کیا یہ جائز ہے؟

جرگہ اور دوشیزہ کا قتل، کیا یہ جائز ہے؟

پولیس نے ایبٹ آباد کے قریب جلی ہوئی گاڑی میں جلائی جانے والی دوشیزہ کی موت کا معمہ حل کر کے مقتولہ عنبرین ہی کے گاؤں کے14افراد اور اُس کی والدہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ لوگ جرگہ بنا کر دوشیزہ کو قتل کر کے جلانے کے مرتکب ہوئے۔ پولیس کے مطابق عنبرین نے اپنی ایک سہیلی کے نکاح اور فرار میں مدد دی، اس سہیلی نے پسند سے شادی کی تھی، اس پر ایک بلدیاتی نمائندے نے بدقماش لوگوں کا ایک جرگہ بنا لیا، عنبرین کی والدہ خوف کے مارے لڑکی کو خود لے کر آئی، اس نام نہاد جرگہ نے موت کی سزا سنائی اور اسے گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ بعد میں مدعا غائب کرنے کے لئے گاڑی میں نعش رکھ کر گاڑی سمیت جلا دی گئی، پولیس نے اِس واردات کا سراغ موبائل فون کی فرانزک سے لگایا اور ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے خلاف قتل سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور پولیس کے مطابق اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔یہ بہت ہی افسوسناک واردات ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایسی کارروائی کی نہ تو قانون اور نہ ہی دین اجازت دیتا ہے، لیکن شمالی علاقوں کے ان دور دراز علاقوں میں جرگہ کی رسم موروثی ہے، جو ممکن ہے مثبت نتائج کا حامل ہو۔ تاہم اب تو یہ جرائم کا ذریعہ بن چکا ہے۔ قانون میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود یہ روایت جاری ہے اور اس کے ذریعے جرائم بھی ہوتے ہیں، شرپسند عناصر اس کا غلط استعمال کرتے ہیں اب تو وہاں کے لوگ بھی اس میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ حکومت کو دلچسپی لے کر ایسے جرگوں کو رکوانا اور قانونی کارروائی کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...