دارو رسن کی یہ آزمائش کب ختم ہو گی؟

دارو رسن کی یہ آزمائش کب ختم ہو گی؟

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار جماعتِ اسلامی کے امیر مطیع الرحمن نظامی کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ انہوں نے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے ٹریبونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، مُلک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ٹریبونل کے سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ اب وہ صدر سے اپیل کر سکتے ہیں اور اگر یہ اپیل بھی مسترد ہو گئی تو پھر انہیں تختۂ دار پر لٹکائے جانے کا امکان ہے۔جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے کئی معمر رہنماؤں کو قبل ازیں موت کی سزائیں سُنا کر پھانسی دی جا چکی ہے۔ اِن سب رہنماؤں پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے1971ء کی خانہ جنگی کے دوران مُلک کو متحد رکھنے کے لئے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا، جو کوئی ایسا جرم نہیں ہے جس پر شرمندہ ہوا جائے۔ جماعتِ اسلامی یا دوسری جماعتوں کے جو لوگ اُس وقت فوج کی معاونت کر ر ہے تھے وہ اپنے مُلک سے محبت کے تقاضے پورے کر رہے تھے۔ تعزیر کے سزاوار تو وہ تھے جنہوں نے ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف ہتھیار اُٹھا رکھے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پاکستانی فوجیوں پر حملے کر رہے تھے، بلکہ جس کسی کا تعلق بھی حکومتِ پاکستان کے کسی ادارے سے تھا اور وہ اپنے وطن کی سرزمین پر خدمات انجام دے رہا تھا، ریاست کے یہ باغی اُن پر بھی حملوں کو مباح سمجھتے تھے۔ بھارت ان باغیوں کی پشت پر تھا اور انہیں ہر طرح کی امداد فراہم کر رہا تھا۔ یہ لوگ بھارت میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر کے آتے تھے اور پاکستان(مشرقی) کی سرزمین پر تخریبی کارروائیاں کرتے تھے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے دورے کے دوران ڈھاکہ میں تقریر کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا تھا کہ بھارت نے نہ صرف بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی میں کردار ادا کیا، بلکہ وہ خود بھی اس میں بطور رضا کار شریک تھے۔

بھارت کے پاکستان پر براہ راست حملے کے نتیجے میں جب پاکستان کی یہ سرزمین ’’بنگلہ دیش‘‘ کہلانے لگی تو وہ لوگ گردن زدنی ٹھہرے، جنہوں نے اِس سرزمین کی حفاظت کے لئے اپنا تن من دھن قربان کر دیا تھا، لیکن کامیابی پھر بھی اُن کے حصے میں نہ آ سکی تھی، باغی اگر ناکام ہو جاتے، جس کے امکانات موجود تھے، لیکن حکمرانوں کی بے تدبیریاں اس کی راہ میں حائل ہو گئیں تو علاقے کی تاریخ مختلف ہوتی، لیکن یہ ہو نہ سکا، اور اب یہ عالم ہے کہبنگلہ دیش کے اندر سزائیں سنا کر 45برس بعد ان ضعیف العمر رہنماؤں کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں اور ایسے گناہ بھی اُن کی کتابِ زیست میں درج کر دیئے گئے ہیں جن کا وہ کوئی تصور نہیں کر سکتے تھے۔ پروپیگنڈے کا طوفان اُٹھا کر ان لوگوں کو بنگالیوں کا دشمن ثابت کیا گیا، اب تو خود بنگالی مصنفوں اور دانشوروں کی ایسی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں، جن میں اس پروپیگنڈے کا بطلان کیا گیا ہے۔ جو ’’عوامی لیگ‘‘ کی طرف سے ایک منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے ساتھ ہی مکتی باہنی کے غنڈوں نے اُن لوگوں کو اذیتیں دے دے کر ہلاک کرنا شروع کر دیا تھا، جنہوں نے خانہ جنگی میں ’’عوامی لیگ‘‘ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ مکنی باہنی کی اذیتوں کا دور شیخ مجیب الرحمن کی حکومت اور ان کے قتل کے بعد بڑی حد تک ختم ہو گیا تھا۔

بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد پہلے بھی وزیراعظم رہ چکی ہیں، لیکن اُس وقت اُنہیں اِن بوڑھے رہنماؤں کے جنگی جرائم یاد نہیں تھے، اب یکایک انہوں نے جماعتِ اسلامی اور اس کے رہنماؤں کو اِس لئے نشانے پر رکھ لیا ہے کہ جماعتِ اسلامی خالدہ ضیا کی نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر ماضی میں عوامی لیگ کو شکست دے چکی ہے۔ اب بھی حسینہ واجد کو خوف ہے کہ یہ دونوں جماعتیں متحد ہو کر انہیں سیاسی شکست سے دوچار کر سکتی ہیں، انہوں نے خالدہ ضیاء سے بھی سیاسی انتقام کی خاطر اُن کے بیٹے کو گرفتار کیا، خالدہ کا قصور یہ تھا کہ اُن کے شوہر میجر جنرل ضیاء الرحمن نے شیخ مجیب الرحمن کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا، جس دوران وہ اور اُن کا خاندان قتل ہو گئے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ شیخ مجیب الرحمن جو ’’بابائے قوم‘‘ تھے اور جنہوں نے اپنی قوم کو پاکستان کی ’’غلامی‘‘ سے نجات دلائی تھی وہ اتنی جلد اپنی ہی قوم کے مغضوب کیوں بن گئے؟ اِس موضوع پر بھی شیخ مجیب کے اپنے قریبی ساتھیوں کی کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن میں اُنہیں آمرانہ طرزِ حکومت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ مجیب الرحمن نے پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی طرزِ حکومت بھی اِس لئے رائج کیا تھا کہ وہ اختیارات کی مرکزیت کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے اور انہیں اس کی تسکین کی صورت صدارتی نظام میں نظر آئی۔

1974ء میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کی حکومتوں کے درمیان ایسا معاہدہ ہو گیا تھا، جس کے تحت اُن لوگوں سے کوئی باز پُرس نہ ہو سکتی تھی، جنہوں نے متحدہ پاکستان کے آخری ایام میں حکومتِ پاکستان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اِس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کی حکومت نہ تو اس دور کے اقدامات پر کوئی مقدمہ چلا سکتی ہے اور نہ اس کے تحت کوئی سزائیں دے سکتی ہے، لیکن عوامی لیگ کی حکومت جس طرح سزاؤں کے راستے پر سر پٹ بھاگی جا ر ہی ہے اسے روکنے کے لئے حکومتِ پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

جو سرزمین اب بنگلہ دیش کہلاتی ہے جب وہ پاکستان تھی اُس وقت کے تمام امور کا تعلق ان حکومتوں سے بنتا ہے جو پاکستان میں وقتاً فوقتاً برسر اقتدار آتی رہیں، اب بھی حکومتِ پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اِس معاہدے پر عملدرآمد کا نہ صرف مطالبہ کرے، بلکہ اِس بات کو یقینی بنائے کہ بنگلہ دیش کی حکومت اِس کی روح کے مطابق اس پر عمل کرے۔ شیخ حسینہ واجد کی آتشِ انتقام اگر پھانسیوں سے ٹھنڈی نہیں ہو رہی تو یہ معاملہ عالمی عدالتِ انصاف میں بھی اُٹھایا جا سکتا ہے، کیونکہ جو ٹریبونل نام نہاد جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں وہ ماہرین قانون پر مشتمل نہیں ہیں اور نہ انہیں آئین و قانون کا کوئی پاس لحاظ ہے۔ ان ٹریبونلوں مَیں عوامی لیگ کے اُن ورکروں کو ’’جج‘‘ بنا کر بٹھا دیا گیا ہے جو خانہ جنگی کے دوران وحشیانہ انداز میں پاکستانیوں کو قتل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، اب اُن کے احکامات پر پاکستان کے وفا داروں کو تختۂ دار پر لٹکایا جا رہا ہے۔ عالمی قانونی ماہرین کہہ چکے ہیں کہ ان ٹریبونلوں میں مقدمات کی سماعت قانون کے مطابق نہیں ہوتی، نہ قانونی ضابطوں کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ گواہیاں بھی مشکوک ہوتی ہیں، لیکن فیصلہ پہلے ہی سوچ لیا جاتا ہے اور چند تاریخوں میں قانونی ٹامک ٹوئیاں مار کر موت کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کو اِس کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، جس سے اب تک گریز پائی نظر آتی ہے۔

مزید : اداریہ