فروغ تعلیم فنڈ کا نامنسب استعمال ، 45سرکاری سکولوں کی چھتیں کمزور ، پنکھے خراب ، بچے گندا پانی پینے پر مجبور

فروغ تعلیم فنڈ کا نامنسب استعمال ، 45سرکاری سکولوں کی چھتیں کمزور ، پنکھے ...

لاہور(لیاقت کھرل) شہرمیں قائم 1265 سرکاری سکولوں میں فروغ تعلیم فنڈز ،اور نان سیلری بجٹ کامناسب استعمال نہ ہونے پر 451 سرکاری سکول خستہ حالی کا شکار ، اکثریتی سکول چاردیواری سے محروم ،کلاس رومزکی چھتیں کمزور، فرش ٹوٹ پھوٹ کا شکار کئی کئی سال پرانے اور سست ر فتار پنکھے ،پانی کی ٹینکیاں بھی گندی ہیں ،۔ ان سکولوں میں 252سے زائد ایسے سکول بتائے گئے ہیں، جن کی عمارتوں، چار دیواری، پنکھوں اور پانی کی ٹینیکوں کی مرمت و خریداری کے لئے ایف ٹی ایف اور این ایس بی فنڈز کا سرے سے استعمال نہیں کیا گیا جس کے باعث ان سکولوں کی عمارتیں بھوت بنگلہ کی شکل اختیار کئے ہوئے ہیں، جبکہ اکثریتی سکولوں کلاس رومز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جس میں کلاس رومز کے فرش کے ساتھ ساتھ دروازے اور کھڑکیاں خراب ہیں اور ان سکولوں کے کلاس رومز میں چلنے والے پنکھے کئی کئی سال پرانے ہونے کے باعث اپنی عمر پوری کر چکے ہیں جس کے باعث ہزاروں بچے جہاں گرمی کی لو لگنے سے بیماری کا شکار ہونے لگے ہیں وہاں مضر صحت پانی کے استعمال سے بچے پیٹ، معدے اور یرقان کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سکولوں کی حالت زار ٹھیک نہ ہونے کی وجہ ایف ٹی ایف اور این ایس پی فنڈز کا مناسب استعمال نہ ہونا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فروغ تعلیم فنڈ(ایف ٹی ایف) فنڈز اور نان بجٹ سیلری فنڈز(این ایس بی) کا مناسب استعمال کیا جائے تو سکولوں کے مسائل ہو جائیں جبکہ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ ایف ٹی ایف اور این ایس بی فنڈز کے استعمال میں کسی قسم کی ہیرا پھیری نہیں کی جاتی ، فنڈز کا مناسب استعمال کیا جاتا ہے۔ فنڈز کے استعمال میں اختیارات سے تجاوز محض الزامات ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1