میاں شہباز شریف اور جنرل راحیل شریف کی ملاقات کی خبر، ایک تجزیہ

میاں شہباز شریف اور جنرل راحیل شریف کی ملاقات کی خبر، ایک تجزیہ
 میاں شہباز شریف اور جنرل راحیل شریف کی ملاقات کی خبر، ایک تجزیہ

وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی آرمی چیف جنر ل راحیل شریف سے ملاقات کی غیر سرکاری خبر سیاسی منظر نامہ پر دھندلی دھندلی نظر آرہی ہے۔خبر کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملاقات جناب آرمی چیف کے گھر پر ہوئی ہے۔ایسی ملاقاتوں کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ ان میں کوئی تیسرا شخص موجود نہیں ہو تا۔ اور اس کے مندرجات اور اس کی لمحہ لمحہ گفتگو ساری قوم کو معلوم ہو تی ہے۔ ملاقات کے شرکاء ایسی ملاقاتوں کے مندرجات چاہے لاکھ خفیہ رکھنے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ ایسے زبان زد عام ہوتے ہیں۔ کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ ملاقات پوری قوم کے سامنے ہوئی ہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اگر ایسی ملاقاتوں کے بارے میں جھوٹی خبر بھی آجائے کہ ملاقات ہو ئی ہے۔ اس کے بعد چاہے دونوں شرکاء قسمیں اٹھا کر کہیں کہ کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ پھر بھی کوئی یقین نہیں کرتا۔ اور سب کہتے ہیں۔ ملاقات تو ہوئی ہے بس اب پردہ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس لئے اگر ایسی ملاقات کی خبر ایک دفعہ پانامہ لیکس کی طرح لیک ہو جائے تو اس کے بعد اس کی تردید بھی بے سود ہوتی ہے۔

لیکن اس ملاقات کے بارے میں ذرا دیر سوچنے کے بعد میں مزید کنفیوز ہو گیا کہ یہ ملاقات اگر جنرل ر احیل شریف کے گھر نہ ہوتی تو کہاں ہوتی۔ آرمی چیف تو اس پانامہ ماحول میں شہباز شریف کے گھر نہیں جا سکتے تھے۔ اگر وہ میاں شہباز شریف کے گھر چلے جاتے تو منظر نامہ مزید دھندلا ہو جاتا۔ کچھ نادان دوست تو یہ کہنے لگ جاتے کہ میاں شہباز شریف کو وزرات عظمیٰ کے لئے گرین سگنل مل گیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب جنرل پرویز مشرف چودھری برادران کے گھر پہنچ گئے تھے۔ تو پورے گھر میں ایک ہی خبر تھی کہ بس چودھری برادران کو گرین سگنل مل گیا ہے۔ اب چودھری برادران کی باری ہے۔ لو جی جنرل صاحب گھر چل کر آگئے ہیں۔ اب بھی باری نہیں آئے گی توکب آئیگی۔ اور باری بعد میں شوکت عزیز کی آگئی۔ لیکن ایک دوسرا تجزیہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ جنرل صاحب نے میاں شہباز شریف کے گھر جا کرحکومت کو آخری موقع دیا ہے ۔ وہ نظام کو آخری موقع دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ایک اور تجزیہ بھی ہو سکتا ہے کہ پانامہ کا مسئلہ حل ہو گیا ۔ اب اپوزیشن جو مرضی شور مچائے کچھ نہیں ہو گا۔ دیکھیں جنرل صاحب شہباز شریف کے گھر پہنچ گئے ہیں۔ دیکھیں جب بھی ایسا کوئی مسئلہ بنا ہے تو شہبا ز شریف نے ہی رول ادا کیا ہے۔ اب بھی ایسا ہوا ہے۔

لیکن اب تو میاں شہباز شریف جنرل راحیل شریف کے گھر گئے ہیں۔ میاں شہباز شریف کوئی پیغام لیکر گئے ہونگے۔ ویسے تو چند دن پہلے چودھری نثار علی خان یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اور فوج کے درمیان کوئی بڑے فاصلے نہیں ہیں۔ مطلب چھوٹے چھوٹے فاصلے موجود ہیں۔ جن کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لئے یہ تجزیہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات ان فاصلوں کو سمیٹنے کے لئے تھی۔ اس کا ایجنڈا وہی متنازعہ امور تھے جن پر چھوٹے بڑے فاصلے موجود ہیں۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس ملاقات کی خبر دینے والے بہت محتاط اور ذہین ہیں۔ اسی لئے انہوں نے خبر میں کہا ہے کہ ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن پر بات ہوئی۔پتہ نہیں کیوں میرا دل نہیں مان رہا کہ ملاقات میں دہشتگردی کے ٓاپریشن کے بارے میں بات ہوئی ہو گی۔

تا ہم پھر میں نے میاں شہباز شریف کی جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی خبر کو کو گزشتہ روز کی وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقریر کے ساتھ جوڑ کر پڑھنا شروع کر دیا۔ تو سمجھ آئی کہ واقعی ملاقات میں دہشت گردی کے بارے میں ہی بات ہوئی ہے۔گزشتہ روز وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ملک میں احتجاج کرنے والے سیاستدانوں کو دہشت گرد وں سے مشابہت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اور دہشت گردوں کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔ دونوں ملک میں ترقی کا راستہ روکتے ہیں۔ اگر اس منطق کو درست مان لیا جائے تو فوج اور بالخصوص آرمی چیف نے ہر قسم کی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد سے کسی بھی قسم کی رعائت نہیں کرتے۔ لہذا ایسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ میاں شہباز شریف نے آرمی چیف سے سیاسی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی بھی درخواست کی ہو۔

ویسے بھی آجکل ملک میں احتساب کا شور ہے۔ سب ہی ایک دوسرے کو احتساب کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ نیب بھی متحرک ہے۔ نیب بھی ایک دو ماہ بعد چند گرفتاریاں کر کے ملک کے منظر نامہ پر ہیجان پیدا کر دیتی ہے اور پھر سو جاتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ نیب ابھی تک موجودہ حکومت کا کوئی ایسا سکینڈل نہیں پکڑ سکی۔ جس سے حکومت کو کوئی بڑا نقصان پہنچ سکے۔ اب تو ماضی کی حکومت کا ہی احتساب ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت تو صاف بچتی نظر آرہی ہے۔

تا ہم یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ میڈیا اور سیاستدان فوج اور دیگر عسکری اداروں کے بارے میں لکھنے اور اظہار خیال میں محتاط رہتے ہیں۔ کیونکہ یہ ملکی حفاظت کے ادارے ہیں اور ان کو متنازعہ بنانا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ تا ہم کچھ ڈرکا بھی عنصر ہے۔ ان کے غصہ اور رد عمل کا بھی خوف ہے۔ اس لئے اس ملاقات کے بارے میں اپوزیشن جماعتیں ہر گز بیان بازی نہیں کریں گی۔ ورنہ اب تک تحریک انصاف کے ترجمان اس ملاقات کے خلاف ایک مکمل بیان داغ چکے ہوتے۔ شائد اگر یہ ملاقات چیف جسٹس کے ساتھ ہونے کی خبر آتی تو اب تک ملک میں طوفان آجا تا۔ چیف جسٹس کے خلاف بیانات اور پریس کانفرنسوں کی لائن لگ جاتی۔

بہر حال امید کی جا سکتی ہے کہ اس ملاقات کے نتیجے میں ملک میں استحکام آئے گا۔ اسٹبلشمنٹ اور سول حکومت کے درمیان فاصلے ختم ہو نگے۔ سب دوبارہ ایک پیج پر آجائیں گے۔ بحران ختم ہو جائیگا۔ احتساب بھی ہو جائے اور نظام بھی بچ جائے ۔ نظام کو لپیٹنے کے لئے احتساب تو ہوگا اور نظام کی آڑ میں احتساب نہ روکا جائے۔ مجھے تو اس ملاقات میں اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہئے۔ باقی اللہ جانے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...