نیئر بخاری اور ان کے بیٹے نے 16مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر

نیئر بخاری اور ان کے بیٹے نے 16مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر

 لی

اسلام آباد(اے این این) پولیس اہلکار کو دھکا دینے اور تھپڑ مارنے کے کیس میں سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری اور ان کے بیٹے نے ضمانت قبل از گرفتاری لے لی ۔تفصیلات کے مطابق ایف ایٹ کچہری میں پولیس اہلکار کے ساتھ بد سلوکی کے کیس میں نیئر حسین بخاری اور ان کے بیٹے اجرار شاہ کو وارنٹ کے باوجود گرفتار تو نہ کیا جا سکا اور جمعہ کو سابق چیئرمین سینیٹ اپنے بیٹے اجرار شاہ کے ساتھ اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پہنچ گئے جہاں انھوں نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کی استدعا کی ۔درخواست ضمانت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کامران بشارت مفتی کی عدالت میں دائر کی گئی ، سیشن جج نے معاملہ سماعت کے لئے ایڈیشنل سیشن جج راجا آصف محمود کو بھجوا دیا، جہاں سماعت کے بعد نیئر بخاری اور ان کے بیٹے جرار حسین کی ضمانت قبل از گرفتاری بیس بیس ہزار روپے کے عوض منظور کرلی گئی۔اس سے قبل نیئر بخاری کی ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کے لیے ان کے بھائی، دیگر وکلاء پارٹی رہنماؤں اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے جیالوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ سیشن جج کامران بشارت مفتی کی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت سے ملزمان کو پیش کیے بغیر عبوری ضمانت دینے پر بضد رہے۔تاہم فاضل جج نے ملزمان کو پیش کیے بغیر درخواست ضمانت کی سماعت سے انکار کردیا اور مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف محمود کو بھجوا دیا۔ایڈیشنل سیشن جج نے پولیس کو نیئر بخاری اور ان کے بیٹے کو حراست میں نہ لینے اور ملزمان کو پیش ہونے کا حکم دیا، جس کے بعد نیئر بخاری اور ان کے بیٹے وکلاء اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے دونوں ملزمان کی 20، 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض 16 مئی تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیئر حسین بخاری نے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کے معاملے پر سیاست کھیلنے کی کوشش کی اور اپنے خلاف دائر کیس کو پانامہ لیکس سے جوڑ دیا ۔انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے پر افسوس ہے، پاناما لیکس سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے حربے استعمال کیے جارہے ہیں،لیکن ’میں حسین کی اولاد سے ہوں جو یزیدیوں سے نہیں ڈرتے۔‘انھوں نے کہا کہ جس اہلکار نے تلاشی لینے کی کوشش کی وہ سول کپڑوں میں تھا اور اس کی نااہلی ہے کہ وہ مجھے جانتا تک نہیں تھا حالانکہ میں سیاست کے علاوہ 40سال سے وکالت کے پیشے سے منسلک ہوں ۔وکلا کو تلاشی سے استثنیٰ بھی حاصل ہے۔انھوں نے کہا کہ جو اہلکار تلاشی لے رہا تھا اس کا کام صرف معلومات اکٹھی کرنا ہے ،نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود کو عدالت کے سامنے پیش کردیا، انتظامیہ انہیں انصاف سے روک رہی تھی، اور تمام کچہری کو سیل کردیا گیا تاکہ میں انصاف حاصل نہ کرسکوں۔نیئر بخاری کی پیشی سے قبل ہی سپریم کورٹ بار کے وکلاء بڑی تعداد میں سیشن کورٹ پہنچ گئے اور سابق چیئرمین سینیٹ کے حق میں نعرے بازی شروع کردی۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...