دہشتگردوں اور دھرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں افراتفری چاہتے ہیں ، نواز شریف

دہشتگردوں اور دھرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں افراتفری چاہتے ہیں ، ...

 سکھر (مانٹیرنگ ڈیسک ،آن لائن،اے این این) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور دھرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ،دونوں ملک کو ترقی سے روکنا اور افراتفری چاہتے ہیں ،ہمارا ایجنڈا ترقی ، خوشحالی اور تعمیر ہے،مخالفین کا ایجنڈا پورا نہیں ہونے دینگے،عوام کا دیا ہوامینڈیٹ پورا کریں گے ، اس میں کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں، دھرنوں کی سیاست نہیں ہوتی تو ہم کئی منصوبے پہلے ہی مکمل کرچکے ہوتے،احتجاجی سیاست پرعمل پیرا عناصرکو ترقیاتی ایجنڈے کونقصان پہنچانے نہیں دینگے،ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ جلد پورا کر دیں گے،کوئی شخص بھی حکومت پرترقیاتی منصوبوں میں ایک پائی کی بدعنوانی کاالزام نہیں لگاسکتا،ہمارا دامن صاف ہے ،پرویز مشرف9سال ہمارا احتساب کرتا رہا ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کر سکا،ہمارے پاس اپنے تمام اثاثوں کا ریکارڈ اول دن سے موجود ہے،خورشید شاہ کسی کے ہاتھ میں نہ کھیلیں ،میں آپ کے حلقے میں پل بنا رہا ہوں اور آپ میرے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سکھر میں ملتان سکھر موٹر وے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ میں نے کئی سال پہلے ایک خواب دیکھا تھا جو آج پورا ہو رہا ہے ۔ یہ منصوبہ وسطی ایشیا کو پورے پاکستان سے ملانے کا منصوبہ ہے ، انہوں نے کہا کہ موٹر وے منصوبے سے چین ، ازبکستان ، افغانستان اور ایران کو پاکستان سے ملانے میں مدد ملے گی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا کی آبادی اس وقت چھ ارب ہے جبکہ وسطی ایشیا کے ممالک کی آبادی تین ارب ہے ، اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر میں نے ان منصوبوں کا آغاز کیا تھا ۔ اگر 1999 میں پرویز مشرف کا مارشل لا نہ آتا تو یہ منصوبے کب کے مکمل ہوچکے ہوتے ، میں نے الیکشن میں کامیابی کے بعد اس ملک کی ترقی کا خواب دیکھا تھا مگر دہشتگرد اس ملک کی ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں ، وہ امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سکھر سے حیدر آباد تک 296 کلومیٹر لمبی سڑک اسی سال تعمیر ہوگی ۔ اس پراجیکٹ پر 393 ارب لاگت آئے گی ، یہ 6 لین موٹر وے ہوگی جس پر ایک خاندان کے تمام افراد اس سڑک کے ذریعے سفر کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔حزب اختلاف کی جانب سے احتجاج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مخالفین ترقی سے توجہ ہٹا کر ان منصوبوں کو کسی طرح سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، ان کو اندازہ نہیں ہے کہ ان منصوبوں کا پاکستان کی ترقی پر کیا اثر ہو گا، حکومت کو مینڈیٹ ملا ہے اور اسے پورا کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین ہمارے خلاف سازشیں کررہے ہیں ،دہشتگردوں اور احتجاجی سیاست کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ،دہشتگرد ملک میں افراتفری پیدا کر رہے ہیں اور پاکستان کو ترقی سے روکنا چاہتے ہیں ،احتجاجی سیاست کرنے والوں کا بھی یہی ایجنڈا ہے لیکن ہم ایسے عناصر کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دینگے۔انھوں نے کہا کہ دھرنے والے ہماری توجہ دوسری جانب لگانا چاہتے ہیں ، ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اور ہم یہ پراجیکٹ ہر صورت مکمل کریں گے ۔ نواز شریف نے کہا کہ دھرنا سیاست کی وجہ سے اس منصوبے میں تاخیر ہوئی ۔ یہ لوگ عوام کی خوشحالی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔پاناما لیکس میں نواز شریف کے بچوں کے نام آنے پر کمیشن قائم ہونے اور اپوزیشن کی جانب سے مختلف الزامات پر انہوں نے کہا کہ کبھی ایک پیسے کی خیانت نہیں کی، 1990 میں جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنا، اس وقت سے پورا ریکارڈ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف 9 سال تک احتساب ہی کرتے رہے لیکن ایک پیسے کی بھی کرپشن ثابت نہیں کرسکے۔انھوں نے کہا کہ آج کا بلوچستان تین سال پہلے والے صوبے سے بہتر ہے ، ہماری معیشت بہتر ہو رہی ہے ، تین سال پہلے تک ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک موٹر وے چین ، افغانستان اور ایران کو آپس میں ملائے گی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں ہمارے منصوبوں کو روک دیا گیا ، انہوں نے کہ دہشتگرد اور دھرنے والے ملک کی ترقی نہیں چاہتے ۔ تین سال پہلے پاکستان کس مقام پر کھڑا تھا اور آج کس مقام پر کھڑا ہے ، انہوں نے کہا کہ اپنے دور اقتدار کے دوران ہم ان منصوبوں کو مکمل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی قوم غریبی ، جہالت سے جنگ لڑ رہی ہے ، اس وقت ملک کو ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے ، اس خطے میں ترقیاتی زون بنیں گے ، اس وقت کئی بین الاقوامی سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھی ملکی ترقی شروع ہوتی ہے وار کرنے والے تیاری شروع کر دیتے ہیں ۔انہوں نے جلسے کے شرکا سے سوال کیا کہ کیا یہ پاکستان 3 سال پہلے کے پاکستان سے بہتر نہیں؟ کیا آج کا بلوچستان اور کراچی 3 سال پہلے سے بہتر نہیں ہیں، کیا ملک کی معیشت 3 سال پہلے کے مقابلے میں بہتر نہیں ہو گئی؟ جو دہشت گردی 3 سال پہلے تھی، کیا آج بھی وہی صورتحال ہے؟۔اقتصادی راہداری منصوبے پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سرمایہ کاری دھرنوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی، سب کو سوچنا چاہیے کہ کون پاک چین اقتصادی راہداری کا حامی ہے اور کون اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔اس موقع پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر وہ یہاں ہوتے تو بہت خوشی ہوتی۔خورشید شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 'ہم تمارے علاقے میں پل بنا رہے ہیں اور تم ہمارے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہو'، میں تو آپ کو اپنا دوست سمجھتا ہوں۔وزیر اعظم نے خورشید شاہ کو مشورہ دیا کہ آپ دیکھیں کہ کچھ لوگوں کا ایجنڈا کیا ہے، دوسروں کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے۔اس موقع پر وزیراعظم نے سکھر کے 125 سال پرانے پل کی تعمیر نو کا بھی اعلان کیا۔نواز شریف نے کہا کہ حکومت پوری نیک نیتی سے ملک کی خوشحالی اور ترقی کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے ۔393 کلو میٹر طویل سکھر-ملتان موٹر وے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ پشاور سے کراچی کوملانے کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ چین کو پاکستان سے ملانے کا منصوبہ ہے، جو کاشغر سے شروع ہوکر گوادر تک جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کو وسط ایشیا ممالک سے ملانے کا منصوبہ ہے، جس کی شاخیں چین، افغانستان، ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان اور ایران تک جائیں گی،جس سے پاکستان ان تمام ممالک سے منسلک ہوجائے گا۔کراچی لاہور موٹر وے کے ایک اور حصے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ کراچی کو حیدرآباد سے ملانے کے لیے موٹروے کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے جو زیر تعمیر ہے اور اس کی تعمیر آئندہ برس مکمل ہوگی۔نواز شریف نے بتایا کہ حیدرآباد سے سکھر تک سڑک کا سنگ بنیاد جلد رکھا جائے گا، یہ سڑک بھی 296 کلومیٹر طویل ہو گی۔وزیر اعظم کا دعوی تھا کہ دنیا بھی تصدیق کر رہی ہے اور پاکستان کی ترقی کی مثال دے رہی ہے کہ یہ خطے میں تیسرا یا چوتھا ملک ہے جو تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی عوام کی سہولت کیلئے شروع کئے گئے تمام منصوبوں اورروزگارکے مواقع پیدا کرنے میں انہیں کلین چٹ دی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ نہ صرف معاشی شعبے میں بلکہ ان کی حکومت نے ملک کے دفاع کوناقابل تسخیربنانے میں بھی انتہائی کوششیں کی ہیں۔انہوں نے یاددلایاکہ ان کی حکومت نے1998 میں عالمی دباؤ کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارت کے دھماکوں کامؤثرجواب دیتے ہوئے ایٹمی دھماکے کئے۔اس موقع پر پاکستان میں چین کے قائمقام سفیر ژیاؤ لی جیان نے کہا کہ میرا ملک موٹروے کے اس حصے کی تعمیر کیلئے فنڈز فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف روزگارکے مواقع پید اہونگے بلکہ مقامی لوگوں کی حالت بہتر ہوگی اور ملک میں آمدورفت کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئیگی۔اس سے قبل وزیراعظم نوازشریف سکھر ایئرپورٹ پہنچے تو وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ اور پولیس کے افسران نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد وزیراعظم نے سکھر ملتان موٹروے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ 393 کلو میٹر طویل سکھر ملتان موٹروے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت تعمیرکئے جانے والے پشاور کراچی موٹروے منصوبے کا حصہ ہے، چھ رویہ موٹروے ملتان سے جلال پور پیروالہ، احمد پور شرقیہ، اوباڑو اور پنوں عاقل سے گزرتی ہوئی سکھر پہنچے گی۔ موٹروے پرمجموعی طور پر 54 پل تعمیر کئے جائیں گے جن میں سب سے بڑا پل دریائے ستلج پر تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے میں 12 سروس ایریا، دس ریسٹ ایریا، 11 انٹرچینج ، 10 فلائی اوور اور 426 انڈر پاسز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ موٹروے سے سندھ اور پنجاب کے درمیان تیز ترین نقل و حمل کی سہولت میسر ہوگی۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...