اپوزیشن کے ٹی او آرز پر وزیر اعظم اور میرا ایک ساتھ احتساب کیا جائے ، عمرا ن خان

اپوزیشن کے ٹی او آرز پر وزیر اعظم اور میرا ایک ساتھ احتساب کیا جائے ، عمرا ن ...

اسلام آباد( اے این این )تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف پاناما پیپرز پر جواب دینے کے بجائے ملکی دورے اور معاملے پر سے توجہ ہٹانے کی کوششیں کررہے ہیں، سیدھا جواب دے دیں کہ پیسہ باہر کیسے بھیجا،ضمیروں کے سوداگر اپوزیشن رہنماؤں کو خریدنے کی کوشش کریں گے کوئی بکتا یا نہیں یہ وقت بتائے گا۔ سکھر میں وزیراعظم نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے میڈیاسے گفتگو میں عمران خان نے کہاکہ اگر وزیراعظم ٹیکس نہیں دیتا تو کوئی بھی ٹیکس نہیں دیتا،میاں صاحب جواب دینے کے بجائے مختلف شہروں کے دورے کر رہے ہیں، میاں صاحب کے بچوں کا پاناما پیپرز میں نام آیا ہے، انہیں جواب میں پیسہ بھجوانے کی تفصیلات سے آگاہ کرنا ہوگا۔ ہم نے صرف چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، اگر آپ انہیں کھول دیتے تو ہم دھرنا نہ دیتے۔ میاں صاحب سیدھا جواب دے دیں کہ پیسہ باہر کیسے بھیجا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ دھرنے والوں نے ترقی روک دی اسکا کیا تعلق ہے ترقی سے، جمہوریت میں احتجاج سب کا حق ہے ،احتجاج جمہوریت کا حسن ہے، تمام مغربی ممالک میں پرامن احتجاج ہوتا ہے، اسے کہیں دہشت گردی قرار نہیں دیا جاتا،احتجاج کرنادہشت گردی کیسے ہو گئی؟۔ عمران خان نے کہاکہ حکومت بلیک میل نہیں کرتی مجرموں کو پکڑتی ہے، جمہوری ملکوں کے وزرائے اعظم نے استعفیٰ دیا، ایک طرف آپ کی کرپشن بچاؤ مہم ہے تو دوسری طرف پورا ملک ہے، میاں صاحب حسنی مبارک یا صدام حسین نہیں جو ہم رائیونڈ نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہاکہ ضمیروں کے سوداگر اپوزیشن کو خریدنے کی کوشش کریں گے تاہم یہ وقت بتائے گا کہ کوئی بکتا ہے یا نہیں ؟ ان کا مزید کہنا تھا اپوزیشن کے ٹی او آرز کی بنیاد پر وزیراعظم کے ساتھ میرا بھی احتساب کر لیں۔ عمران خان نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب آپ کرپشن بچاؤ تحریک میں کیسے چلے گئے؟۔ اکرم درانی کو چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ اکیلے آئیں انتظار کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا خواتین سے آئندہ بدسلوکی نہیں ہونے دیں گے، ہم لاہور اور اسلام آباد واقعہ پر تحقیقات کر رہے ہیں کل رپورٹ آجائے گی۔ 20 تاریخ تک ایسی تیاری کر رہے ہیں کہ خواتین پورے کارڈن میں ہونگی۔ عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ٹھیک کر رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول