سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ ، سونیا گاندھی اور را ہول گاندھی کی گرفتاری ،رہائی

سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ ، سونیا گاندھی اور را ہول گاندھی کی ...

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ ، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سمیت دیگر کوحراست میں لینے کے کچھ دیر بعد رہاکردیاگیاجس کے بعد کانگریس نے دوبارہ پارلیمنٹ کی طرف اپنا احتجاجی مارچ شروع کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آگسٹا سکینڈل پر کانگریس نے جنتا منتر سے پارلیمنٹ تک ’جمہوریت بچا?‘احتجاجی ریلی نکالی جس میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی ، نائب صدر راہل گاندھی اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ،اے کے انتھونی سمیت دیگر رہنما?ں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بی جے پی کی حکومت کے خلاف مظاہرے کے دوران پارٹی قیادت کو پولیس نے حراست میں لے لیا جس کے بعد کئی کارکنان پارلیمنٹ سٹریٹ تھانے کے مورچوں پر چڑھ گئے اور نعرہ بازی کی جبکہ پولیس کے روکنے پر ہاتھاپائی بھی ہوئی۔ بعدازاں پولیس نے گرفتارقیادت کو رہاکردیا اور احتجاجی مارچ اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔ سونیا گاندھی کاکہناتھاکہ اترا کھنڈ کے جنگلات جل رہے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے ، ریاست کے پاس حکومت ہی نہیں ، انسانیت کے لیے ہم نے اپنی جانیں اور خون دیا۔ زندگی نے کوشش کرنا سکھائی ، مسائل کا سامنا رہا۔سونیا گاندھی کاکہناتھاکہ آپ (بی جے پی) جتنا مرضی جمہوریت کیخلاف لڑلے ، کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

منموہن سنگھ کاکہناتھاکہ اترکھنڈ اور ارونا چل پردیش میں کانگریس کی حکو متوں کو عدم استحکام کا شکار کرکے مودی نے جمہوریت پر حملہ کیا، اب کانگریس کی دیگر ریاستی حکومتوں پر نظرجمالی ہے

مزید : صفحہ اول