لاہور ہائیکورٹ بار کا اجلاس ، پانامالیکس میں شامل شخصیات کیخلاف بلا تفریق احتساب کی قرار داد منظور

لاہور ہائیکورٹ بار کا اجلاس ، پانامالیکس میں شامل شخصیات کیخلاف بلا تفریق ...

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ بار نے وزیر اعظم نواز شریف سیاستدانوں ،بیوروکریٹس ،سابق جرنیلوں اور ججوں سمیت پانامالیکس میں ملوث تمام شخصیات کے خلاف بلاتفریق احتساب کے حق میں قرار داد منظور کر لی ، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرنے چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کے بیٹے کی کراچی میں مبینہ کرپشن کے الزامات کی انکوائری کے لئے وکلاء کی کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کر دیاہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار کا جنرل ہاؤس اجلاس صدر ہائیکورٹ بار رانا ضیاء عبدالرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس اللہ بخش گوندل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ، راحیل کامران چیمہ ایڈووکیٹ اور ملک زیشان احمد اعوان ایڈووکیٹ کی پیش کردہ قراردادوں پر غور و خوض کرنے کے لئے طلب کیا گیا۔ اجلاس میں سردار طاہر شہباز خان نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، محمد انس غازی سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، سید اسد بخاری فنانس سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، لاہور کے علاوہ وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ محمد انس غازی سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ پاناما لیکس کے ذریعے سیاستدانوں ، بیورکریٹس ، ججزاور جرنیلوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان لوگوں نے ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک اپنے اثاثہ جات بنائے۔ عوام بدحالی اور غربت کا شکار ہیں لیکن یہ بے رحم اور لٹیرے ملک کو لوٹنے میں مشغول رہے۔ اجلاس سے عاصمہ جہانگیر سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن ، بیرسٹر علی ظفر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، چودھری محمد حسین وائس چیئر مین پنجاب بار کونسل ، اعظم نذیر تارڑ ممبر پاکستان بار کونسل ، عابد ساقی ممبر پاکستان بار کونسل، اسد منظور بٹ سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن، شفقت محمود چوہان سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، لاہور،فرہاد علی شاہ ممبر پنجاب بار کونسل ، احمد اویس سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، لاہور، رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے خطاب کیا۔مقرر ین نے کہا سیاستدانوں اور بیوروکریٹس پر ہمیشہ کرپشن کے الزامات لگتے رہے۔ پاناما لیکس نے بے شک بد دیانت اور لٹیروں کو بے نقاب کیا لیکن پوری دنیا سے پانامالیکس نے صرف ایک جج کا ذکر کیا جس کا تعلق پاکستان سے ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان خان کی اپنی جانب یا ادارہ کی جانب سے کوئی واضح موقف نہ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ کسی صورت برداشت نہیں کرتے کہ کرپشن کے حوالہ سے ہم دوسرے اداروں پر تنقید کریں اور اپنے ادارہ کے جج کے متعلق آواز نہ اٹھائیں۔پاناما لیکس میں جن لوگوں کے نام ہیں ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون محتسب اعلیٰ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج کو جاری کردہ نام نہادنوٹس خلاف قانون و آئین ہیں اور وکلاء برادری اس کی پر زور مذمت کرتی ہے۔ مقررین نے کہاکہ 70کی دہائی میں ہائیکورٹ کے ایک جج شیخ شوکت نے ملک کے اندر رجسٹرڈ کمپنی کو ظاہر نہ کیا جس کی بناء پر انہیں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے لیکن جسٹس فرخ عرفان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209کے تحت کاروائی نہیں ہورہی ہے۔ کیونکہ انہیں کچھ ججز کی پشت پناہی حاصل ہے۔مقررین نے کہا کہ کچھ جج پارسائی کا لبادہ اوڑھ کر وکلا ء اور خاص کر نوجوان وکلاء کی بے عزتی کرتے ہیں ایسے ججز کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے اور ان کا طبی اور نفسیاتی معائنہ کروایا جانا چاہیے۔ احمد اویس سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کو یکسانیت سے احتساب کرنا چاہیے۔2005ء میں سپریم کورٹ نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف ایک فیصلہ میں سخت ترین ریمارکس دیے مگر کارروائی نہ کی گئی۔ جبکہ آج کچھ ہائیکورٹ ججز کو اسی بنیاد پر آرٹیکل209کی کارروائی کا سامنا ہے۔ تمام مقررین نے وکلاء بالخصوص نوجوان وکلاء کے ساتھ ججز کے نامناسب رویہ کی پر زور مذمت کی۔جن ججز کے ناروا اور نامناسب رویے کی مذمت کی گئی ان میں جسٹس شاہد حمید ڈار اور جسٹس مس عالیہ نیلم سر فہرست ہیں۔ آخر پر رانا ضیاء عبدالرحمن صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس میں جن جن سیاستدانوں اور ان کے خاندانوں کا ذکر ہے ان کے بارے میں مکمل چھان بین کرتے ہوئے کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس میں ہمارے ہائیکورٹ کے جج کا نام آنا باعث ندامت ہے لہٰذا سپریم جوڈیشل کونسل فی الفور مذکورہ جج کے بارے آرٹیکل 209کی کاروائی شروع کرے۔محمد انس غازی سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے متذکرہ بالا قرار داد رائے شماری کے لئے ایوان کے سامنے پیش کیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔البتہ راحیل کامران چیمہ ایڈووکیٹ کی قرارداد میں ایک ترمیم منظور کی گئی کہ جسٹس فرخ عرفان خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں فی الفور کارروائی شروع کی جائے اور جج موصوف کے خلاف کارروائی کے فیصلے تک عدالتی امور سر انجام نہ دیں دیگر صورت میں اس عدالت کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول