متحدہ کے آفتاب احمد کی موت، رینجرز کی تفتیش پر عدم اعتماد ظاہر ہوا

متحدہ کے آفتاب احمد کی موت، رینجرز کی تفتیش پر عدم اعتماد ظاہر ہوا

تجزیہ: چودھری خادم حسین

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنونیئر ڈاکٹر فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹر آفتاب احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ایک نئی صورت حال پیدا کی ہے۔ آرمی چیف نے تحقیقات پر مامور اہلکاروں کو معطل کر کے تحقیق کا حکم دیا اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، لیکن وزیر داخلہ چودھری نثار کے مطابق رینجرز والے بہتر تحقیق نہیں کر سکتے، دوسری طرف وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی نوٹس لیا اور اس واقع کی عدالتی تحقیقات تجویز کرتے ہوئے وزیر داخلہ سے کہا ہے کہ وہ سندھ کی صوبائی حکومت اور رینجرز حکام سے رابطہ کر کے عدالتی تحقیقات کا اہتمام کریں کہ یہ ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔

آفتاب احمد نوے روزہ ریمانڈ پر رینجرز کی تحویل میں تھا اور اس سے تفتیش ہو رہی تھی، اِس دوران اسے ہسپتال لایا گیا جہاں وہ جاں بحق ہو گیا۔ اس پر متحدہ نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کی تحقیقات کرائی جائے، اس سلسلے میں ڈاکٹر فاروق ستار کی کور کمانڈر سے بھی بات ہوئی اور انہوں نے غیر جانبدارانہ تفتیش اور تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر منصفانہ تحقیقات کے نتائج برآمد ہوئے اور ہمیں بتائے گئے تو ہم قبول کر کے زبانوں کو سی لیں گے، تاہم وزیراعظم کے نوٹس لینے اور وزیر داخلہ کے بیان کے بعد تو صورت حال میں غیر معمولی تبدیلی نظر آئی ہے۔ بظاہر بوجھ صوبائی حکومت پر منتقل کیا گیا ، لیکن یہ عسکری حلقے پر عدم اعتماد بھی ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ کیا گیا کہ عسکری حکام سے بات کی جائے،لیکن وزیر داخلہ کا یہ کہنا معنی خیز ہے کہ رینجرز ایسے واقعات کی تفتیش یا تحقیق کی اہل نہیں، اس کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ فوج اور حکومت کے درمیان کوئی بُعد یا فاصلہ نہیں، اس حوالے سے سندھ کی صوبائی حکومت نے خاموشی اختیار کر لی، ان کے مطابق رینجرز نے خصوصی اختیارات کے تحت کاررروائی کر کے گرفتار کیا اور اب موت کے بعد تحقیق بھی شروع کر دی ہے، اِس لئے مداخلت کی ضرورت نہیں کہ سندھ حکومت پربھی تو دباؤ ڈال کر یہ اختیارات دلائے گئے تھے۔ آفتاب احمد کی موت یوں سیاسی ایشو بن گئی جسے ایم کیو ایم ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

دوسری طرف سید خورشید شاہ اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے موقف میں اختلاف آیا ہے۔ سید خورشید شاہ مشاورت کی بات کرتے اور کہتے ہیں کہ اپوزیشن نے ٹی او آرز دے دیئے، اب یہ حکومت کا کام ہے وہ ان کو دیکھ کر اپوزیشن سے مذاکرات اور مشاورت کر کے ایک اور متفقہ ٹی او آرز بنا لئے جائیں، جبکہ حکومت نے یہ خط مع ٹی او آرز اپنے وکلاء کو بھیج دیئے۔ اس رپورٹ کے بعد خط کا جواب دیا جائے گا۔ بہرحال فریقین کی طرف سے اپنا اپنا موقف رکھتے ہوئے بھی مذاکرات کی بات تو کی جا رہی ہے اور یہ حوصلہ افزا ہے، پوری قوم کی نگاہیں لگی ہیں اور سب مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

ادھر کرپشن کہانی عام ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں کے اندر بھی دو آرا بن گئی ہیں۔ ایک رائے اب صرف وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن) کے احتساب پر زور دیتی اور بات کو بڑھانے تک چلی جا رہی ہے، اس رائے کے مطابق یہ مناسب موقع ہے تاہم ایک دوسری رائے کرپشن کے خاتمے کی بھی ہے اور جماعتوں کے سرکردہ لوگ احتساب چاہتے ہیں۔خود پیپلزپارٹی میں اب بہت بھاری اکثریت پارٹی کے اندر کرپٹ لوگوں کا جماعتی سطح پر احتساب چاہتی ہے اور ان کے خیال میں تنظیم نو کے دوران ایسے بدنام حضرات سے نجات حاصل کر لینا لازم ہو گیا ہے ۔ یہ موقف تنظیم نو کے عمل کو بھی متاثر کر سکتا ہے کہ جن پر کرپشن کا الزام ہے، ان میں سے بعض رہنما آرگنائزنگ کمیٹیوں میں ہیں۔ اس سلسلے میں سابق سینیٹر، جیالے اور پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہنے والے جہانگیر بدر نے ترجمانی کی۔ ان کا ایک مضمون انگریزی اور اُردو اخبارات کی زینت بنا ہے جس میں انہوں نے کرپشن فری معاشرے کی وکالت کی، ان کی طرف سے دلیل لائی گئی کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے فوج کے اہم اراکین کے خلاف کارروائی سے یہ ثابت ہوا کہ اب فوج کے حوالے سے مقدس گائے والا فلسفہ باقی نہیں رہا، وہ کہتے ہیں کہ اگر اب فوج مقدس گائے نہیں تو کوئی سیاست دان یا سیاسی جماعت بھی نہیں ہو سکتی، اِس لئے سیاسی جماعتوں کے لئے یہ بہترین وقت اور موقع ہے کہ وہ اپنے اندر خود احتسابی کا عمل جاری کریں۔ یہ مضمون بذات خود کرپشن مخالف ذہن کی عکاسی کرتا ہے اور جہانگیر بدر کے اس موقف کو پذیرائی ملے گی۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...