جوڈیشل کمپلیکس فیز ٹو میں واٹر کولر نہ لگنے سے وکلاء اور وسائل آلودہ پانی پینے پر مجبور

جوڈیشل کمپلیکس فیز ٹو میں واٹر کولر نہ لگنے سے وکلاء اور وسائل آلودہ پانی ...

لا ہور (نامہ نگار)جوڈیشل کمپلیکس فیزٹو میں صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے سائلین وکلااورعدالتی اہلکار گندہ پانی پینے پر مجبور ، نئی بلڈنگ میں ایک بھی واٹر کولر نہیں لگایا گیاجس کے باعث سائلین اور وکلاء مختلف بیماروں میں مبتلا ہونے لگے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق 2015ء میں جوڈیشل کمپلیکس فیز ٹو کی عمارت تیار کی گئی اور تمام دفاتر کو اس بلڈنگ میں یکجا کردیا گیا لیکن عمارت میں پانی کے کولرلگانے کے لئے کہیں بھی کنکشن نہیں دیا گیا اور نہ ہی جوڈیشل کمپلیکس میں کوئی کولرنصب کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے آنے والے سائلین وکلا اور عدالتی اہلکار باہر سے پانی خرید رہے ہیں جبکہ جو افراد بوتلوں کا مہنگا پانی نہیں خرید سکتے انہیں گندا پانی پینا پڑتا ہے جس سے وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ،اس ضمن میں وکلا پاکستان بار کونسل میڈیا سیل کے کوآرڈینیٹر مدثر چودھری،مرزا حسب اسامہ، مجتبیٰ چودھری، ارشاد گجر اور شاہد ندیم کا کہنا تھاکہ عمارت کو خوبصورتی سے تعمیر کیا گیا ہے لیکن گرمی میں شہریوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے جیسی بنیادی ضرورت کا خیال نہیں رکھا گیاہے جو کہ انتہائی ظلم ہے ،علاوہ ازیں جوڈیشل کمپلیکس فیز ٹو میں آنے والے سائلین ندیم، اشرف،نبیل نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نئی عمارت میں پانی کے لئے کولربھی لگوا کردیے جائیں تاکہ وکلاء سمیت عوام الناس کو درپیش مشکلات کم ہو سکیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...