گندم کو فوری طور پر گوداموں میں منتقل کیا جائے ، ناصر حسین شاہ

گندم کو فوری طور پر گوداموں میں منتقل کیا جائے ، ناصر حسین شاہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر خوراک سندھ سید ناصر حسین شاہ نے سیکرٹری خوراک اور ڈائریکٹر خوراک کو سختی سے ہدایات دی ہیں کہ صوبے میں ممکنہ بارشوں کے پیش نظر فوری طور پر خریدی گئی گندم کو کھلے مقامات سے ہٹا کر گوداموں میں منتقل کیا جائے اور جہاں گودام کی سہولیات نہیں وہاں اس گندم کو محفوظ بنانے اور انہیں بارش سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ جمعہ کو جاری اپنے ایک بیان میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ رواں سال سندھ حکومت کے محکمہ خوراک کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع سے 11 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی گئی ہے، جس میں سے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم کاشتکاروں اور آبادگاروں سے مل گئی ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر ہزاروں ٹن گندم مختلف سینٹرز پر پہنچائی جارہی ہے۔ انہوں نے سیکرٹری خوراک سجاد عباسی اور ڈائریکٹر خوراک سندھ محمد بچل راہو کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بھر میں جہاں جہاں بھی گندم کی خریداری کے سینٹرز پر خریدی گئی گندم کھلے آسمان تلے موجود ہے، اس تمام گندم کو فوری طور پر گوداموں میں منتقل کیا جائے اور ان کو ممکنہ بارشوں سے قبل محفوظ کیا جائے۔ انہوں نے ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع کے ڈی ایف ایس اور سینٹرز افسران بھی اس احکامات پر سختی سے عمل کرتے ہوئے گندم کو محفوظ بنائیں اور اس سلسلے میں کوتاہی کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ صوبائی وزیر خوراک سید ناصر حسین شاہ نے بعض اخبارات اور الیکٹرونکس میڈیا پر آنے والی ان خبروں کی بھی سختی سے تردید کی ہے کہ خریدی گئی گندم اعلیٰ معیار کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد باردانہ کے شفاف عمل پر اپنی سیاست چمکانے میں ناکام ہونے کے بعد اب اس طرح کی خبروں کے ذریعے سیاست چمکانا چاہتے ہیں لیکن ان کو اس میں بھی کسی صورت کامیابی نہیں ہوگی کیونکہ خریدی گئی گندم اعلیٰ معیار کی ہے اور یہ گندم ہمارے صوبے کے آبادگاروں اور کاشتکاروں کی دن رات محنت کا ثمر ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ رواں سال گندم کی سرکاری نرخوں پر خریداری کے مثبت اثرات اوپن مارکیٹ میں بھی نظر آرہے ہیں او ر آج بھی اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 1200 روپے من تک جا پہنچی ہے اور گندم کے کاشتکاروں کو رواں سال اپنی فصل کا بہتر معاوضہ ملا ہے اور وہ سرکاری اور اوپن مارکیٹ میں اپنی گندم کی فروخت کے بعد خوش ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر