مخصوص بلدیاتی نشستوں پر انتخابات روکے جائیں،،شہریار مہر

مخصوص بلدیاتی نشستوں پر انتخابات روکے جائیں،،شہریار مہر

کراچی(اسٹاف رپورٹر )مسلم لیگ فنکشنل کے رکن سندھ اسمبلی شہر یار مہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن کو مخصوص بلدیاتی نشستوں پر انتخاب کے عمل سے روکے ۔ اس سلسلے میں ہم چند روز میں سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کریں گے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعہ کے روز سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی لیڈر نند کمار، رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی اور دیگر رہنما بھی بھی موجود تھے۔شہریار خان مہر نے کہا کہ مخصوص بلدیاتی نشستوں کے انتخاب کے حوالے سے سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کی گئی حالیہ ترامیم کے تحت ایکٹ کا سیکشن 18 ۔ اے بحال کر دیا گیا ہے لیکن اس میں مخصوص نشستوں کے انتخابات میں آزاد امیدواروں کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ اس سیکشن کی بحالی کے بعد سے آزاد امید واروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے سلسلے میں سات روز د یئے جانے چاہئے تھے۔پورے سندھ میں 600آزاد امیدوار ہیں جس کی وجہ سے لیبر، نوجوانوں،اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر نمائندگی سخت متاثر ہوگی ۔ ۔شہر یار مہر نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ۔جس طرح سے ایکٹ کی شق 18اے پر نظر ثانی کی گئی ، اس حوالے سے ترمیمی بل سندھ اسمبلی میں لایا جانا چاہئے تھالیکن سندھ حکومت نے بد نیتی سے کام لیا اور جلد بازی میں مخصوص نشستوں پر انتخاب کے شیڈول کا اعلان کردیا۔یہ سب اس لئے کیا گیا کہ جب 600آزاد امیدوار متاثر ہوں گے۔ وہ عدالت جائیں گے اور اپیل کریں گے کہ ان انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء میں افسران کی تبدیلی اور سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے عدلیہ نے جو احکامات دیے تھے اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں وہ اپنے احکامات کی خلاف ورزی کا نوٹس لے۔ایک سوال کے جواب میں شہر یار مہر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کس طرح سے کرپشن کے خلاف مہم چلارہے ہیں پہلے تو وہ کرپشن کے خلاف مہم اپنے گھر سے شروع کریں، وہ کیسے میٹر ریڈر سے تھوڑے سے عرصے میں حکومت اور پارلیمنٹ میں آنے کے بعد 50ارب روپے کے اثا ثوں کے مالک بن گئے سب سے پہلے تو وہ اس کا حساب دیں ، اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے 8سالہ دور حکومت میں سندھ میں4000ارب روپے کی جو کرپشن ہوئی ہے ، اس کا بھی جواب دیا جانا چاہئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر