موسمیاتی تبدیلیاں ،پالیسی پر عملدرآمد کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم

موسمیاتی تبدیلیاں ،پالیسی پر عملدرآمد کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں صوبائی ایکشن کمیٹی بنادی گئی ہے جبکہ ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ کی سربراہی میں ایک ورکنگ گروپ بھی قائم کردیا گیا ہے جس کا کام اُن صوبائی اُمور کی نشاندہی کرنا ہوگا جو براہ راست موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں آتے ہیں۔ اس بات کا اعلان ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ (سندھ ای پی اے)کے ڈائریکٹر جنرل نعیم احمد مغل نے سندھ ای پی اے ، لیڈ پاکستان اورپلاننگ اینڈ ڈیولمپنٹ ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کے اشتراک سے موسمیاتی تبدیلی میں تخفیف اور بچاؤ کے طریقوں پر یہاں جمعرات کے روز پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں ختم ہونے والی دو روزہ تربیتی ورکشاپ میں اپنی پریزینٹیشن دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ورکشاپ کے مندوبین کو بتایا کہ دنیا میں ظاہر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ہمارا ملک دنیا کے ان دس ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جسے ماحولیاتی تغیر کے سب سے زیادہ نقصانات ہوسکتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ملک میں پائیدار ترقی، قدرتی وسائل کی بچت اور ماحول سے مطابقت رکھنے والے طرز زندگی کا کم و بیش نہ ہونا ہے۔ نعیم مغل نے کہا کہ ہماری زرعی معیشت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں جدید طریقوں کے باوجود اوسط زرعی پیداوار میں اضافہ قابل ستائش سطح پر نہیں جاسکا ہے۔ورکشاپ میں حکومت سندھ کے محکموں بشمول، آب پاشی، جنگلات، ماہی پروری، بندرگاہوں، مویشی مال، ذرائع آمد ورفت، ماحولیات، ٹھوس فضلے کے انتظام سے تعلق رکھنے والے محکموں کے متعلقہ افسران کو موسمیاتی تبدیلیوں اور اُن سے بچاؤ کے طریقے و احتیاطی تدابیر کے بارے میں تفصیلی آگہی دی گئی۔ نعیم مغل نے ورکشاپ کے مندوبین کو بتایا کہ مقررہ حدود سے زائد کاربن گیس کا فضا میں اخراج موسمیاتی تبدیلی کی اہم وجہ ہے جبکہ کاربن کے اخراج کی بنیادی وجہ زندگی کو سہل اور پر آسائش بنانے کے لیے فوسل فیول(پٹرول، گیس، کوئلہ) کا کارخانوں، گاڑیوں اور بجلی گھروں میں بڑھتا ہوا استعمال ہے، جسے کنٹرول کئے بغیر ماحولیاتی تغیر میں قابل قدر تخفیف قدرے مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاربن گیس کے اخراج کے زیادہ ذمہ دار وہ ترقی یافتہ ممالک ہیں جہاں سہولت اور آسائش کے حصول کا اکثریتی ذریعہ مشین ہے، جبکہ کاربن کے اخراج کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی سزا پاکستان اور دیگرا یسے ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں جن کے پاس پائیدار ترقی اور قدرتی وسائل کے بچاؤ کے لیے جدید اور مہنگے طریقے میسر نہیں ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سابق سیکریٹری محکمہ جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات جناب شمس الحق میمن نے سندھ کو درپیش ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں سے تعلق رکھنے والے مسائل پر روشنی ڈالی اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمہ جہت کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ سینٹر فار انوائرنمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ ناصر علی پنھور نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کو اس وقت شدت بھرے موسمیاتی رجحانات بشمول خشک سالی، شدید گرمی اور طوفانوں کا سامنا ہے جن کی بنیادی وجہ تیز ہوتی موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم لیڈ پاکستان کے نمائندے عباد الرحمٰن نے پائیدار ترقی کے اہداف پر پریزینٹیشن دیتے ہوئے عوامی خدمات پر مامور اہلکاروں کے کردار اور افادیت پر روشنی ڈالی۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈاکٹر نعمان احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم یافتہ طبقات کی نظر میں اب تک موسمیاتی تبدیلیوں کی اہمیت و سنگینی ہنوز واضح نہیں ہے اسی لیے بہت سے خطوں میں اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے جس کی جیتی جاگتی مثال وینزویلا کی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں نے اپنی حشر سامانیاں دکھانی شروع کردی ہیں۔ ورکشاپ سے ایف پی سی سی آئی کے نمائندے گلزار فیروز، رفیع الحق اور ڈاکٹر شوکت حیات نے بھی خطاب کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...