کراچی ،اوپل لائیٹنگ اور ملر اینڈ فپس کے درمیان معاہدہ

کراچی ،اوپل لائیٹنگ اور ملر اینڈ فپس کے درمیان معاہدہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ’’اوپل لائیٹنگ پاکستان ‘‘ اور بین الاقوامی کمپنی ’’ ملر اینڈ فپس‘‘کے درمیان اشتراک عمل کا معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت پاکستان بھر میں خوش آئند حد تک کم بجلی خرچ کرنے والی لائیٹس دستیاب ہو سکیں گی۔ مذکورہ اشتراک عمل کی تقریب آج یہاں ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس سے اوپل لائیٹنگ پاکستان کے جنرل مینیجر کارپورٹ سیلز مسٹر یوسف صدیقی اور ملر اینڈفپس کے ڈایریکٹر مسٹر جہانزیب سید نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پراوپل سیلز کے جنرل مینیجر برائے ساؤتھ ریجن عارف الحسن، اوپل لائٹینگ کے مارکیٹنگ مینیجر عامر رشید، پراڈکٹ مینیجر احسن سید ، نیشنل سیلز مینیجر کاشف راؤ اور دیگر سینئر اہلکار بھی موجود تھے۔تقریب کے مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کر تے ہوئے یوسف صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں اوپل لائٹنگ کی ڈیمانڈ میں اضافہ کی وجہ صرف توانائی کی بچت کا پہلو ہی نہیں بلکہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ہونے والی ہماری پیش رفت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملر اینڈفپس کے اشتراک عمل سے کم بجلی خرچ کرنے والے معیاری بلب اور لائٹس پاکستانی عوام کو ارزاں نرخوں پر میسر آسکیں گے۔ یوسف صدیقی نے کہا کہ سائینسی اور تکنیکی مصنوعات کے شعبوں میں جدت طرازی کے ذریعے ویلیو ایڈیشن پید ا کی جاسکتی ہے جس کیلئے دنیا بھر صنعتی پالیسی کے اندر خصوصی ترغیبات رکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان کو بھی تجویز دی کہ جدت طرازی اور ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی کیلئے انڈسٹری کو خصوصی ترغیبات دی جائیں۔ملر اینڈفپس کے ڈائرایکٹر جہانزیب سید نے اپنے خطاب کے دوران امید کی کہ اوپل اور ملر اینڈفپس کے اشتراک سے پاکستان میں لائٹینگ کے شعبہ میں جدید اور معیاری مصنوعات کی وسیع تر اقسام میسر آسکیں گی۔تقریب میں پیش کی جانے والی ایک پریزنٹیش کے دوران بتا یا گیا کہ اوپل کمپنی نے مسلسل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے عمل سے جدت طرازی اختیار کرتے ہوئے نیک نامی کمائی ۔ یہی وجہ ہے کہ 1996 میں قائم ہونے والی کمپنی اس وقت 6000ملازمین اور مصنوعات کی لاتعداد اقسام پر مشتمل ہے۔اس وقت پاکستان کے علاوہ شنگھائی، زونگشان انڈسٹریل پارک اور ووجیانگ انڈسٹریل پارک ایران میں اوپل کے پیداواری یونٹ قائم ہیں جبکہ مجموعی طور پر یہ کمپنی دنیا کے پچاس ممالک میں کام کر رہی ہے اور پاکستان سمیت دنیاکے مختلف ملکوں میں اسکے 450 ریسرچ سنٹرز موجود ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...