مرمت کے نام پر کٹوتیوں کے باوجود راولپنڈی کی ریلوے کا لونیاں خستہ حالی کا شکار ، مکین پریشان

مرمت کے نام پر کٹوتیوں کے باوجود راولپنڈی کی ریلوے کا لونیاں خستہ حالی کا ...

 راولپنڈی ( رپورٹ:سید گلزار ساقی ) ریلوے ملازمین کی تنخواہوں سے کوارٹروں کی مرمت کے نام پر ہر ماہ 5سے 7فیصد کٹوتی کرنے کے باوجودکوئی کام نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے مکان بوسیدہ اور خستہ حالی کا شکارہو چکے ہیں ریلوے ڈویثرن سے ملحقہ ریلوے پولیس لائن کالونی ڈھوک رتہ ، لوکو شیڈ کالونی ،ڈیزل کالونی ، ٹریفک کالونی اور گارڈن روڈ کالونی میں ہزاروں کی تعداد میں ملازمین رہائش پذیرہیں موسم برسات شروع ہوتے ہی کوارٹروں کی چھتیں ٹپکنے کے باعث ان کے گھروں میں پڑا قیمتی سامان خراب ہوجاتا ہے نکاسی آب کے بہتر انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے نالیوں کا گند ا پانی گھروں میں داخل ہورہا ہے جس کی وجہ سے علاقہ مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں روزنامہ پاکستان سرو ے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ریلوے کوارٹرز کے رہائشیوں نے بتایا کہ اس کے والد ریلوے میں ملازم ہیں اوروہ گزشتہ ایک دہائی سے اپنی فیملی کیساتھ ریلوے پولیس لائن کالونی میں رہائش پذیرہیں مذکورہ کالونی کے مکین زندگی کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ محکمہ ریلوے اپنے ملازمین کی تنخواہوں سے ہر ماہ پانچ سے سات فیصدکوارٹروں کی مرمت کے نام پر کٹوتی کرتا ہے لیکن جب سے محکمہ ریلوے وجود میں آیا ہے اس وقت سے لیکر آج تک کوارٹروں کی مرمت یا تزئین و آرائش کا کام نہیں کرایاگیاجس کی وجہ سے برسات کے موسم میں بارشوں کے باعث کوارٹروں کی چھتیں ٹپکنے سے لوگوں کا اچھا خاصہ نقصان ہو جاتا ہے ریلوے کالونیوں میں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے گندگی اور تعفن کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری ڈویثرنل میڈیکل آفیسر (ڈی ایم او) کی ہوتی ہے جو میٹ کی سپر ویثرن میں تمام کالونیوں کا وزٹ کر کے جن کالونیوں میں گندگی اور غلاظت کے انبار ہوں وہاں صفائی کے انتظا مات کو حتمی شکل دینا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے مذکورہ ڈیپارٹمنٹ سرے سے فعال ہی نہیں ہے جبکہ محکمہ ریلوے میں سینٹری ورکرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جن لوگوں کوریلوے کالونیوں کی صفائی ستھرائی کا ٹاسک دیا گیا تھا وہ فیلڈ میں کام کرنے کے بجائے افسران کی کوٹھیوں پر مامور نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے گلیوں میں چھوٹی چھوٹی نالیوں کا آئے روز بند ہوجانامعمول بن گیا ہے جبکہ سیوریج کا گندہ پانی گھروں میں داخل ہو کر بیماریاں پھیلانے کا باعث بن رہا ہے ماضی کی نسبت ریلوے کے حالات بہت اچھے ہو گئے ہیں ریل خسارے سے نکل کر منافع بخش ادرہ بن چکا ہے لیکنریلوے ملازمین کی حالت زار اب بھی نا گفتہ بہ ہے۔ ریلوے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماؤں جیسا سلوک کیا جارہا ہے پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی کے باعث لوگ سیوریج ملا پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے بیشترافراد پیچیدہ امراض میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں پینے کے صاف پانی کی لائنیں جا بجا ٹوٹ پھوٹ کا شکارہونے کی وجہ سے گندے نالوں اور گٹروں کا پانی پینے کے صاف پانی میں شامل ہو کر گھروں میں سپلائی ہورہا ہے جس کی وجہ سے بچوں ،بوڑھوں اور خواتین میں معدے کے امراض تیزی سے پھوٹ رہے ہیں حکام بالا کی توجہ متعدد بار اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی لیکن جھوٹی یقین دہانیوں اور طفل تسلیوں کے باوجود اس مسئلہ کی جانب کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ریلوے ملازمین عاجز آچکے ہیں ریلوے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماؤں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ریلوے کالونیوں میں مقیم افراد کی سیکورٹی اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لئے کسی نے بھی آج تک کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سیشام ڈھلتے ہی اوباش اور منچلے نوجوان گتھوں کی صورت میں موٹر بائیک پر سوا ر ہو کر نہ صرف سٹریٹ کرائم کرتے ہیں بلکہ پرچھیننے اور مزاحمت پر فائرنگ کرنے جیسے واقعات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے حکام بالا کو چاہئے کہ وہ ریلوے کالونیوں میں سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کریں تاکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ڈویثرنل الیکڑک انجینےئر پاور کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریلوے کالونیوں میں لگے بجلی کے پول اور خراب سٹریٹ لائٹس کی تبدیلی کو یقینی بنائے تاکہ رات کی تاریکی میں لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن بدقسمتی سے یہاں تمام محکموں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے کالونیوں میں بجلی کے پول تو نصب کئے گئے لیکن چیک اینڈ بیلنس اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کچھ کالونیوں میں لگے بجلی کے کھمبوں سے کاپر کی قیمتی تاریں چرا لی گئیں ہیں یہی وجہ ہے کہ رات ہوتے ہی سارا علاقہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے جس کی وجہ سے سٹریٹ کرائم کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ریلوے کالونیوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ ڈویثرن میں تعینات حکام بالا کو کوارٹروں کی خستہ حالی بارے تحریری طور پر درخواستیں دے دے کر عاجز آچکے ہیں لیکن ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوتی اس لئے تنگ آکر ہم ہر سال خود ہی کوارٹروں کی مرمت اور وائٹ واش کرا لیتے ہیں ۔ریلوے حکام کو چاہئے کہ وہ ملازمین کی مشکلات کے پیش نظر پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے ہر ریلوے کالونی میں ایک عدد فلٹریشن پلانٹ کا قیام عمل میں لائیں تاکہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے حکام بالا کو چاہئے کہ وہ اپنے مفادات کو پس پشت رکھتے ہوئے ملازمین کی فلاح وبہبود کے لئے کام کریں ریلوے کالونیوں میں رہائش پذیر ملازمین بھی ان کی طرح انسان ہیں انہیں نچلے درجے کا نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں زندگی کی تمام تر سہولیات کی فراہمی کے لئے عملی اقدامات کر کے ان کے اندر موجود احاس کمتری کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر