بجٹ 2016-17ء ؁ عوام اور تاجر کسی ریلیف کی خوش فہمی میں نہیں‘ تاجر

بجٹ 2016-17ء ؁ عوام اور تاجر کسی ریلیف کی خوش فہمی میں نہیں‘ تاجر

ملتان(کامرس رپورٹر) میڈیسن مارکیٹ کے صدر حافظ اختر بٹ نے ’’پاکستان فورم‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ 2016-17ء ؁ کی آمد کے منتظر عوام اور بالخصوص تاجر کسی بھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کیونکہ ہمارے ملک میں کبھی ایسا بجٹ پیش کیا ہی نہیں جاتا جس سے کسی کو ریلیف کی توقع(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

ہو بجٹ وہ ہوتا ہے جس کو اپنے وسائل میں رہ کر بنایا جائے اور عوام کو ریلیف دیا جائے ہمارے ہاں تو بجٹ پیش کرنے کیلئے بھی آئی ایم ایف ورلڈ بنک و دیگر مالیاتی اداروں سے بھیک مانگ کر بنایا جاتا ہے اور انہی کے احکامات کی تعمیل کرنا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں ہر سال بجٹ کا گورکھ دھندا عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے دیا جاتا ہے سارا سال منی بجٹ کا تسلسل جاری رہتا ہے تمام روزمرہ زندی استعمال کی اشیاء جس میں اس چیز کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے جنہیں خریدنا ہر انسان کی مجبوری ہے۔ملک راشد نذیر نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اسی وجہ سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے جرائم میں تیزی ہوتی جارہی ہے ہمارا تعلق چونکہ انسانی زندگی زندگی بچانے والی ادویات سے ہے ان کی قیمتوں میں جو چندماہ پہلے صرف عدالتی حکم امتناعی کو بنیاد بنا کر لوٹا گیا اور لوٹا جا رہا ہے حکومت کی ناکام پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ہمارے علم میں یہ بات بھی ہے یہ لوٹ مار کا طریقہ کار بھی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی مشاورت سے کیا گیا وقاص بٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا جس ملک میں عوام صحت و علاج سے محروم ہو،دو وقت کی دوا سے عاجز ہو،خودکشیوں پر مجبور ہو،اس ملک کے حکمرانوں کو اس کا حساب دنیا و آخرت میں دینا ہوگا ۔شیخ عدنان نے کہا کہ بجٹ کے بارے میں بہتری یا ریلیف کے بارے میں سوچنا یا حکومت سے سہولیات کا مطالبہ کرنا میرے نزدیک زلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں لہٰذا وہ ہی آئے گا جسے آئی ایم ایف منظور کرے کہا کہ پاکستان میں عوام کی نہیں بلکہ حکمرانوں و آقاؤں کی سنی جاتی ہے،ہم احتجاجاً اس بارے میں اپنی کوئی تجاویز دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے لیکن اس موقع پر شیخ زاہد انصر نواز خان،حاجی محمد سہیل ،جمیل اور وقاص بٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر