ملتان میں سکولوں کے سامنے مضر صحت اشیاء کی فروخت، بچے گیسٹرو کا شکار ہونے لگے

ملتان میں سکولوں کے سامنے مضر صحت اشیاء کی فروخت، بچے گیسٹرو کا شکار ہونے لگے

ملتان( رپورٹ :اعجاز مرتضیٰ)حکام کی غفلت کے باعث ملتان میں سکولوں کے باہر مضر صحت اشیا کی فروخت کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچے گیسٹرو میں مبتلا ہونے لگے ‘روزانہ سیکڑوں بچے متاثر ہورہے ہیں ‘ہسپتال گیسٹرو کے مریض بچوں سے بھر گئے‘ ملتان میں کٹے پھل فروخت کرنے پر دفعہ 144نافذ ہے ‘لیکن اس دفعہ کو ہوا میں اڑا دیا گیاہے‘قانون محض کاغذوں میں رہ گیا ہے‘ عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا جس کے باعث سکولوں کے با ہر کٹے اور گلے سڑے پھل ‘برف کے گولے سمیت مضر صحت چپس فروخت ہو رہی ہے‘ جس کو کھانے سے بچے گیسٹرو میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ہسپتال گیسٹرو کے مریض بچوں سے بھر گئے ہیں‘ تفصیل کے مطابق سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں گیسٹرو کے روزانہ سیکڑو ں مریض رپورٹ ہو رہے ہیں‘ نجی کلینکس جانے والے بچے ان کے علاوہ ہیں‘ محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر بیٹھ گئی ہیں اور بچوں کو مضر صحت اشیا فروخت کرنے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے‘ملتان میں دفعہ 144کے تحت لازم ہے کہ کٹے پھلوں سمیت مضر صحت اشیا فروخت کرنے والوں کیخلاف گرینڈ آپریشن کیا جائے لیکن محکمہ صحت اس حوالے سے کردار ادا نہیں کر رہا ‘محکمہ صحت کی ٹیموں نے آنکھیں بند کر لی ہیں ‘مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے‘یہ جانتے ہوئے کہ گیسٹرو جان لیوا مرض ہے‘بچوں کو بچانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ‘وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ بچوں کو مضر صحت اشیا فروخت کرکے ان کی صحت سے کھیلنے والوں کیخلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے لیکن ان ہدایات کی کوئی پروا نہیں کی جارہی اور سکولوں کے باہر مضر صحت اشیا فروخت ہو رہی ہیں ‘دہی بھلے ‘گول گپے‘ کٹے اور گلے سڑے پھل ‘ پاپڑیاں‘برف کے گولے‘آلو کی چپس اور دیگر اشیا فروخت ہو رہی ہیں‘ریڑھیوں والے چھٹی کے وقت نمودار ہو جاتے ہیں اور بچوں کا رش لگ جاتا ہے‘گول گپے اور دہی بھلے والوں سمیت ریڑھی والے پلیٹیں گندے پانی میں دھوتے ہیں‘ایک ہی بالٹی میں گندے پانی میں تمام پلیٹیں ڈبو کر نکال لیتے ہیں اور پھر ایک ہی گندے کپڑے سے پلیٹیں صاف کرکے بچوں میں بیماریاں پھیلا رہے ہیں‘آلو کی چپس جس تیل میں تیار ہوتی ہے وہ اگر بنتے دیکھ لیا جائے تو ابکائی آجائے‘ کھلے آسمان تلے رکھے بڑے کڑاہوں میں مرغی کی انتڑیوں کا تیل نکالا جاتا ہے‘جس میں مٹی ‘مکھیوں سمیت حشرات الارض گرے ہوتے ہیں جو آئل میں مکس ہو جاتے ہیں‘ملتان کے نواحی علاقوں میں مرغی کی انتڑیوں سے تیل نکالنے کے کارخانے قائم ہیں ‘یہ تیل انتہائی سستا دستیاب ہے ‘متعلقہ افسر و اہلکار منتھلی کے بدلے انہیں کھلی چھٹی دئیے ہوئے ہیں‘روزانہ سیکڑوں بچے چلڈرن کمپلیکس‘نشتر ہسپتال ‘سول ہسپتال سمیت مختلف ہسپتالوں میں رپورٹ ہو رہے ہیں‘نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں علاج کے لئے جانے والے بچے ان کے علاوہ ہیں ‘شہریوں نے وزیر ا علیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ خوفناک صورتحال کا نوٹس لے کر سخت ایکشن لیا جائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...