محکمہ خوراک کی ’’گوسلو‘‘ پالیسی جاری، کاشتکار گندم اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور

محکمہ خوراک کی ’’گوسلو‘‘ پالیسی جاری، کاشتکار گندم اونے پونے داموں بیچنے ...

ملتان، وہاڑی، میلسی، مظفر گڑھ، لڈن، عبدالحکیم، قطب پور، ٹھٹھہ صادق آباد، راجن پور، مٹھن کوٹ، فاضل پور، بہاولپور، لودھراں، دھنوٹ، چوبارہ خانقاہ شریف، میر ہزار خان، جھوک اترا (سپیشل رپورٹر، نمائندگان) محکمہ خوراک کی ’’گوسلو‘‘ پالیسی نے کسانوں کو اپنی گندم اونے پونے داموں مارکیٹ میں فروخت کرنے پر مجبور کر دیا۔ گندم خریداری اور باردانہ تقسیم کے حوالے کاشتکاروں کی مشکلات کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ ملتان سے سپیشل رپورٹر کے مطابق محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایت پر محکمہ خوراک ملتا ن ڈوثرن کے اضلاع میں باردانہ اجراء اور گندم خریداری کا عمل مزید سست کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب گندم خریداری مراکز سے باردانہ کی فراہمی نہ ہونے سے گندم کے کاشتکار اپنی پیداوار اونے پونے فروخت کرنے پر مجبور ہوکر رہ گئے ہیں ۔ا س ضمن میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے محکمہ خوراک او ر ضلعی انتظامیہ کو گوسلو پالیسی کے تحت گندم خریداری مراکز 25مئی تک کھلے رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسانوں کے ردعمل سے بچتے ہوئے انھیں نمود ونمائش پر ٹرخانے کی پالیسی پر عمل درآمد کو یقنی بنایا جاسکے ۔ مذکورہ صورتحال کے پیش نظر گندم کے کاشتکاروں نے وزیر اعلی پنجاب سے مذکورہ صورتحال بارے فوری اصلاح احوال اور کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ وہاڑی سے بیورو رپورٹ اور نامہ نگار کے مطابق فوڈ افسران نے باردانہ کے 2ہزار تھیلے ( بوری) خرد برد اور 6ہزار تھیلے بنی شیل گودام سے وصول کرکے مرکز خرید گندم اڈہ غلام حسین پہنچانے کی بجائے راستہ میں ایک ڈیرہ پر اتارنے کے واقعہ بارے کوئی مقدمہ درج کروایا نہ ہی کسی کو معطل کیا گیا ہے۔اس حوالے سے جب ڈسٹرکٹ فو ڈ کنٹرولر اصغر علی سہو سے موقف دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سیکرٹری صاحب آئے ہوئے ہیں وہ اس حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر کسانوں کا شتکاروں کو میرٹ پر باردانہ کی تقسیم جاری ہے اور ٹارگٹ 15ہزار میٹرک ٹن ہے اور اب تک تقریباً آٹھ ہزار زمیندار مستفید ہوچکے ہیں ان خیالات کااظہاراگندم خرید پی آرسنٹر کے انچارج شہزاد قاسم نے پاکستان کسان اتحاد کے عہدیداران وممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقعہ پر جنرل سیکرٹری کسان اتحاد چودھری اعجاز اکبر، مہر محمد جاویداور سردار محمد ڈوگر ودیگر مو جو د تھے۔کسانوں محمد ارشاد ، محمد صدیق ، محمد حسین ، ذوالفقار لنگڑیال ، عبدالسلام جاویدنے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے باردانہ کے حصول کے لیے ایک ہفتہ قبل سی ڈی آرز جمع کروائیں ان سے بعد میں جمع کروانے والوں کو باردانہ دے دیا گیا ہے جبکہ انہیں روز کل آنے کو کہا جارہا ہے۔ آڑھتیوں اور بیوپاریوں کو دھڑلے روزانہ سینکڑوں بوریاں فی کس دیکر نواز اجارہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر فوری شنوائی نہ ہوئی تو وہ سنٹر کے سامنے گندم کا ڈھیر لگا کر آگ لگا کر تادم مرگ بھوک ہڑتال کردینگے۔ غلہ منڈی میلسی میں حکومتی سخت پابندی کے باوجود مختلف آ ڑھتیوں کی آ ڑ ھتوں سے پاسکو باردانہ نے سینکڑوں بوری گندم بھری جارہی ہے۔ میرٹ لسٹ کے بارے میں دوزمینداروں عبدالخالق خان میاں محمد ارشد نے بتایا کہ ہم نے آ رے واہن اور میلسی سینٹر میں پہلے روز میرٹ لسٹ میں پانچواں نمبر اور ستائیسواں درج کرایا لیکن دوسرے دن پتہ کیا تو ہما رے میرٹ لسٹ میں پانچ سو اور چار سو نمبروں پر میرٹ بنا ہوا تھا جس سے ثابت ہوا پاسکو پر چیز سینٹر ز پر شدید دھاندلی بد عنوانی اور کر پشن ہو رہی ہے۔ مظفر گڑھ سے نمائندہ پاکستان کے مطابق گندم خریداری مراکز پربار دانہ کی تقسیم کو شفاف بنایا جائے ، چھوٹے کاشتکاروں کو ترجیح بنیادوں پر باردانہ فراہم کیا جائے یہ بات کین کمشنر لاہور وقاص عالم نے مظفرگڑھ میں گندم خریداری مرکز ون اور ٹو کا معائنہ کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ڈی سی او مظفرگڑھ شوکت علی بھی ان کے ہمراہ تھے، انہوں نے مزید کہا کہ باردانہ کی تقسیم میرٹ پربلا امتیاز کی جائے اور کسی سفارش کو خاطر میں نہ لایا جائے، کسی بھی سطح پر کوئی بد عنوانی سامنے آئی تو ملوث اہلکاروں اور افسران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ لڈن سے نامہ نگار کے مطابق فورڈ سنٹر لڈن پر پہلے دن سے ہی کسانوں اور عملہ کی نہیں بن رہی ہے کسان شروع سے سراپا احتجاج ہیں کہ عملہ بیوپاریوں اور مڈل مین کو نواز رہا ہے جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کو باردانہ فراہم نہیں کیا جارہا ہے اسکے خلاف کسان روڈ بھی بلاک کرکے احتجاج کرچکے ہیں لیکن کسانوں کا احتجاج کسی کام نہیں آیا الٹا باردانہ کا ٹارگٹ کم کردیا گیا ہے ۔ عبدالحکیم سے نمائندہ خصوصی کے مطابق عبدالحکیم کے مرکز خریداری گندم سنٹر پر گندم لیکر آنے والی ٹریکٹر ٹرالیں والوں نے عبدالحکیم باگڑ روڈ جو کہ کمرشیل بازار بھی ہے کھڑی کر کے نہ صرف سڑک پر قبضہ کرلیا بلکہ ریل بازار ، ہسپتال اور ہائی اسکول روڈ کو بند کر دیا سڑک پر ٹرالیوں کے کھڑاہونے سے ٹریفک بلاک ہوگئی اور دوکانداروں کا ک کاروباربھی بند ہو گیا ۔ مرکزی انجمن تاجراں کے جنرل سیکرٹری چوہدری مدثر جمیل نے ڈی ایس پی ٹریفک سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم سے بھری تما م ٹرالیوں اور ٹرکوں کو ریلوے اسٹیشن والے گراونڈ اور پرانا غلہ گودام روڈ پر کھڑا کیا جائے۔ قطب پور سے نامہ نگار کے مطابق ترقی پسند کاشتکاروں چوہدری محمد ریاض ارائیں ،آفتاب خان بابر ،عمر خان بابر،میاں عبدالرزاق ارائیں ،ڈویژنل صدر پاکستان کسان اتحاد میاں مدنی ،نظام اللہ خاں پاندہ سیکریٹری انفارمیشن ،میاں شفیق ارائیں ،غلام مصطفی گوندل و دیگر نے کہا کہ کپاس کے بعد گندم کی فصل کا کوئی خریدار نہیں ملتا ۔حکومت کی امدادی قیمت کسانوں کے لیے نہیں بلکہ سرمایہ کار مڈل مینوں کے لیے ہوتی ہے ۔ادھر بنک منیجر پنجاب بنک نے بتایا کہ گندم خریداری کے لیے 52کروڑ روپے فنڈز دیئے گئے تھے جو محض 3دن میں 13کروڑ اب تک جاری کیے جا چکے ہیں اس طرح مختص کی گئے رقم نا کافی ہے مذید رقم فراہم کی جانا ضروری عمل ہے ۔ٹھٹھہ صادق آباد سے نمائندہ پاکستان کے مطابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر خانیوال ملک ممتاز وینس کی سرپرستی میں سنٹر کوآڈینٹر غلام مصطفی،فوڈ انسپکٹر رانا سرور،فوڈ سپر وائزر اقبال قریشی کی باردانہ فراہمی،گندم خریداری کے دوارن لوٹ مار ،کرپشن جاری ہے،سنٹر کوآڈینٹر غلام مصطفی کی جانب سے غریب چھوٹے کسانوں کو باردانہ دینے کی بجائے مڈل مین بیوپاریوں،آڑھتیوں میں باردانہ کی بندر بانٹ جاری ہے،جس کے باعث سینکڑوں غریب کسان دو ہفتوں بعد بھی باردانہ سے محروم ہیں۔ راجن پور سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق راجن پور میں گندم کا باردانہ حاصل کرنا کسانوں کے لئے جوئے شیر بن گیا،انتظامیہ کی جانب سے صبح دس بجے سے لائن میں بیٹھے کچھ کسانوں کو اگلے دن دس بجے باردانہ کے ٹوکن جاری کئے جاتے ہیں جبکہ اکثر کسان اتنی تکلیف اٹھانے کے باوجود خالی ہاتھ اپنے کھیتوں کو لوٹ جاتے ہیں،کسانوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کاشتکاروں کی بجائے اپنے من پسند اور سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے آڑھتیوں کو باردانہ فراہم کر رہی ہے اور وہ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ کسانوں محمد حبیب ،اللہ نواز ،محمد سیال ،واحد بخش ودیگر کا کہنا تھا کہ ای ڈی اوزراعت اپنی کوٹھی واقع حکیم کالونی روڈ پر آڑھتیوں سے ٹوکن لے کر فوڈ سنٹر پر آکر کمرہ بند کراکر اپنے ماتحت انچارج فوڈ سنٹرجاویداقبال سے زبردستی کٹواتا ہے اور روزانہ لاکھوں روپے وصول کر نے میں مصروف ہے۔ اس موقع پر کسانوں نے ای ڈی اوزراعت کے خلاف نعرے بازی بھی کی ۔ مٹھن کوٹ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق فوڈ سنٹر مٹھن کوٹ پر مو جو دہ سیز ن میں 2لا کھ بوری گندم خرید کرنے کا ٹا ر گٹ مقرر کیا گیا ہے اب تک پچاس فیصد باردانہ ایک لاکھ بوری کسانوں میں تقسیم کر دی گئی ہے اور پچاس ہزا ر بو ری گندم کاشتکاروں اور زمینداروں سے خرید کی جا چکی ہے خر ید ی ان خیالا ت کا اظہار فوڈ انسپکٹر محمد ارشد قر یشی نے صحا فیو ں سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا ۔ کا شتکا رو ں زمیندارو ں سے گند م کا ایک ایک دا نہ خر ید کیا جا ئے گا اس موقع پر فوڈ انسپکٹر کاشف ندیم کھتران فاروق خان قریشی، صدیق خان قریشی،سید عاصم شاہ اور دیگر بھی موجود تھے۔فاضل پور سے نامہ نگار کے مطابق کاشتکار شوکت حسین،حضور بخش،محمد نواز،ریاض احمد،نذر حسین، غلام حیدر و دیگر کہا کہ محکمہ خوراک فوڈسنٹر فاضلپور میں کاشتکاروں میں بوریوں کی تقسیم کومنصفانہ بنانے کیلئے DCO راجن پور نے انتظامات تو کر دئیے ہیں ۔ لیکن اس انتظاما ت میں چھو ٹے کاشتکاروں کا بہت بڑا نقصان ہو ا ہے ۔ او ر سارا دن دھکے کھاکھا کر شام کو گھروں کو واپس لو ٹ جا تے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصفا نہ اور میرٹ کی بنیاد پر بوریوں کی تقسیم صرف نام کی حدتک ہیں ، عملی طور پر کام نہیں ہورہاہے ۔ بہاولپور سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق گندم کی خریداری کے سلسلے میں حکومتی پالیسی کے مطابق کاشتکاروں کوباردانہ کی تقسیم کاسلسلہ جاری ہے بہاولپورڈویژن بھرکے70 خریداری مراکز پر50 فیصد سے زائد باردانہ تقسیم اور25 فیصدگندم خرید کی جاچکی ہے مڈل مین کے کردارکوختم کرنے کیلئے چھوٹے کاشتکاروں کوترجیح بنیادوں پرمیرٹ کے مطابق بادرانہ فراہم کررہے ہیں ان خیالات کااظہار ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک بہاولپورریجن چوہدری محمداجمل نے ایڈیشنل ڈائریکٹر خوراک پنجاب عارف رضابخاری ڈی ایف سی بہاولپورچوہدری تنویرنصرت وڑائچ کے ہمراہ گندم خریداری سنٹربنی شیلز کامعائنہ کرتے ہوئے کیاانہوں نے گندم خریداری کاریکارڈ گندم سے بھری ٹرالیوں پرلوڈ گندم کے معیار اورباردانہ رجسٹرکوبھی چیک کیاانہوں نے اے ایف سی انتصار حسین بخاری کوہدایت جاری کیں ۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر بہاولپور تنویر نصرت وڑائچ نے کہا ہے کہ ضلع بھر میں محکمہ خوراک کے28 سنٹروں پر بادانہ کی تقسیم اور گندم کی خریداری جاری ہیں اب تک 25 فیصد ٹارگٹ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس ماہ کے آخر تک 100 فیصد ٹارگٹ کو انشاء اللہ پور ا کر لیاجائیگا۔انہوں نے کہا اب تک یزمان اور احمد پور شرقیہ میں سرکاری بادانہ میں گندم کی بھرائی کرتے ہوئے تین بیوپاریوں کیخلاف مقدمات درج کرواکر ان سے بادانہ قبضہ میں لے لیا گیا ہیں ۔لودہراں سے نما ئند ہ پا کستا ن کے مطابق لودہراں میں گندم خریداری سنٹروں خصوصاََ جلہ آرائیں ، چک ہمتہ ، اڈا پرمنٹ جندو موڑ ، آدم وہین ، اور دیگر ملحقہ سنٹر وں پر تعینات عملہ اپنے رشتہ داروں اور آڑھتیوں بیوپاریوں کو نوازنے میں مصروف عمل ہے ۔ باردانہ کی فراہمی حقیقی کسانوں کی بجائے آڑھتیوں اور بیوپاریوں کو دی جانے لگی ہے ۔ اور رشوت کے بغیر حقیقی کسانوں کو باردانہ نہ مل رھا ہے ۔ گذشتہ روز جلہ آرائیں ، چک ہمتہ ، اور پرمنٹ خریداری سنٹروں پر کسانوں نے احتجاج کیا۔ کہ مراکز خریداری پر ہونے والی کرپشن کو ختم کیا جائے ۔دھنوٹ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق پاسکو سنٹر لائلپور (پیر جیون)پر باردانے کی غیر منصفانہ تقسیم کا سلسلہ جاری،حکومتی احکامات نظر انداز کرتے ہوئے سپر وائزرودیگر عملے نے باردانے کی بندر بانٹ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، معلوم ہوا ہے کہ پاسکو عملہ200روپے فی بوری رشوت لے کر رات کی تاریکی میں باردانہ جاری کررہے ہیں،دھنوٹ اور گردو نواح کے کاشتکاروں محمدیامین،رانا محبوب ،شاہد آرائیں،شان محمد،محمد ایوب،محمد طارق و دیگر افراد نے پاسکو عملے کے خلاف شکایت کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ،اصل کاشتکار باردانے کے لیے خوار ہو رہے ہیں،مڈل مین اور بااثر لوگ دھڑلے سے باردانے لے کر جارہے ہیں،کاشتکاروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور پاسکو کے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے،باردانے کی غیر منصفانہ تقسیم پر کاشتکار آج 11بجے دن پریس کلب دھنوٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔چوبارہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق موضع چوبارہ کے درجنوں کسانوں نے پریس کلب چوبارہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ چوبارہ مرکز خریداری گندم ہمارے لیے وبال جان بن گیا ہے۔ گزشتہ 10 روز سے فوڈ سنٹر پر قرعہ اندازی میں آنے والے کسان ایک ہفتہ سے صبح 8 تا شام 4 بجے تک لائنوں میں کھٹرے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور شام کو خالی ہاتھ مایوس ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔ محمد حسین ٹانوری موضع خیرے والا و دیگر کئی کسان جن کا ایک ہفتہ پہلے قرعہ اندازی میں نام آ چکا تھا ایک ہفتہ سے وہ لائنوں میں کھڑے کھڑے مایوس ہو کر واپس گھروں میں چلے گئے ہیں لیکن انکو تا حال بار دانا ایشو نہ ہو سکا کسانوں نے ڈی سی او لیہ رانا گلزار صاحب کمشنر ڈیرہ غازی خان ، ریجنل ڈائریکٹر ریٹائرڈ کیپٹن امجد شعیب ترین صاحب سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ سنٹر چوبارہ عملہ کے خلاف فوری کاروائی کرتے ہوئے پسماندہ علاقے کے غریب کسانوں کو بمطابق پالیسی فوری بار دانہ فراہم کیا جائے ۔ خانقاہ شریف سے نمائندہ پا کستان کے مطابق خانقاہ شریف فوڈ سنٹر پر فوڈ انسپکٹر اور کو آرڈینیٹر کی ملی بگھت میر ٹ کی دھجیاں اڑانے لگے فوڈ سنٹر کا عملہ حکومتی رکن اسمبلی کے چہیتوں کے نام پہلے لسٹوں میں لگنے لگے کئی روز دھکے کھانے کے بعد غریب کا شتکار اپنے نمبر کی جگہ کسی اور کا نمبر آنے پر فائلیں واپس لے کرمایوس گھروں کو لو ٹنے لگے۔میرہزار خان سے نامہ نگار کے مطابق کاشتکاران محمد محسن خان ، محمد شفیع خان ،محمد حنیف خان ،الطاف احمد خان ،نائب ناظم یونین کونسل میرہزار خان ملک حفیظ اللہ کلو ،کونسلرز غلام عباس بیدار فریدی ،محمد ایوب ،فیض رسول ،عبدالجبار ،و دیگر نیپاسکو سنٹر میرہزار خان کے انچارج کی کرپشن اور لوٹ مار اور سردار منوں خان کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت مقدمہ درج کرانے کے خلاف احتجاج کی کال دے دی جس میں تمام علاقہ کے کاشتکاران اور دیگر شہری احتجاج میں شریک ہونگے ۔جھوک اُترا سے نمائندہ پاکستان کے مطابق سرائیکستان قومی اتحاد کے صوبائی صدر کسان ونگ سردار محمد امین خان میرانی نے اپنی رہائش گاہ پر اپنے عہدیداروں اور کسانوں کے وفد سے ملاقات کی اور سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کسان بدحالی کا شکار ہے ۔باردانہ کے معاملے میں باردانہ نہ ملنے کی صورت میں کسان پھر سے سندھی کیڑے کا شکار ہو گیا کیونکہ گورنمنٹ نے 1300فی من کا ریٹ تو بنا رکھا ہے ناقص پالیسی اور بیورو کریسی کی وجہ سے 1000روپے پر آڑھتی کو باردانہ مل رہا ہے۔ اس موقع پر تحصیل صدر مہر حسین چنگوانی، فیض کریم بھٹی، مہر حسین کھکھ، اجمل کھکھ، عبدالحکیم خان لغاری، کریم بخش میرانی، محسن ارائیں، محمد یاسر لغاری، رحیم بخش گبول، عابد میرانی، نظام میرانی بھی موجود تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...