آئین میں بنیادی حقوق کی واضح تفصیل، کوئی قانون انسانی حقوق کے خلاف نہیں بن سکتا: چیف جسٹس

آئین میں بنیادی حقوق کی واضح تفصیل، کوئی قانون انسانی حقوق کے خلاف نہیں بن ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کہا بنیادی انسانی حقوق کی واضح تفصیل آئین میں موجود ہے، کوئی قانون انسانی حقوق کے خلاف نہیں بن سکتا۔ ملک کا بڑا المیہ ہے کہ ہم بنیادی اور اہم معاملات پر کوئی متفقہ لائحہ عمل طے نہیں کر سکے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کی تفصیل آئین میں موجود ہے اور انسانی حقوق کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا، مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جبکہ قانون پر عملدرآمد کی ذمہ داری پورے معاشرے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، ہم مثبت ذہن اور سوچ پر بحث کرتے ہیں تو مثبت نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مسئلے کے حل کیلئے سب سے پہلے ملک کی آبادی پر توجہ دینا ہو گی کیونکہ ملک کی آبادی 19 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے اردو زبان کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری قومی زبان اردو ہے اور اس کا نفاذ بھی ضروری ہے لیکن 27 سال گزرنے کے بعد بھی اردو زبان کا نفاذ نہیں ہو سکا۔ دنیا بھر میں قانونی تعلیم قومی زبان میں دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے، قانونی تعلیم کی بہتری کیلئے بار کونسل سمیت وکلاءاور ججزز کو مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔

مزید : قومی /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...