عراق میں دولت اسلامیہ کے زیر قیضہ علاقوں سے اجتماعی قبریں دریافت

عراق میں دولت اسلامیہ کے زیر قیضہ علاقوں سے اجتماعی قبریں دریافت
عراق میں دولت اسلامیہ کے زیر قیضہ علاقوں سے اجتماعی قبریں دریافت

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک ) عراق میں دولتِ اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں 50 سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں ۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ایلچی کے مطابق عراق میں دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں رہنے والے بعض علاقوں میں اب تک 50 سے زائد اجتماعی قبریں دریافت کی جا چکی ہیں جو دولتِ اسلامیہ کے سنگین جرائم کا ثبوت ہیں۔

جان کوبس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ یہ اجتماعی قبریں حالیہ مہینوں کے دوران عراقی فورسز کی جانب سے ان علاقوں کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے بعد سامنے آئی ہیں تاہم بین الاقوامی برادی کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوﺅ ں کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

شمالی عراق میں سنجار، مغربی عراق میں انبار اور شاملی علاقے تکریت کے مقامات پر اجتماعی قبروں سے بھی انسانی باقیات ملے جن لوگوں کو ناشنہ بنایا گیا ان میں قبائلی، عراقی فوجی، عورتیں اور اقلیتی گروہپ یزیدی کے لوگ شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا میں دولتِ کی جانب سے عراقی شہریوں کے اغوا، ریپ ، تشدد اور قتل کے واقعات قابل مذمت ہیں اور وہ ایسا کر کے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم حتیٰ کہ نسل کشی کے مرتکب ہو رہے ہیںتاہم اس گروہ کو صرف فوج کے ذریعے شکست نہیں دی جا سکتی بلکہ شدت پسندی کی جڑ کو ختم کرنا ضروری ہے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

جان کبوس کا کہنا تھا کہ عراق کا انسانی بحران دنیا کا بدترین بحران ہے جہاں ایک کروڑ یعنی ملک کی ایک تہائی آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔

عراقی حکومت نے رمادی کے بعض حصوں کا قبضہ دسمبر 2015 میں دوبارہ حاصل کیا تھا جس پر دولتِ اسلامیہ نے مئی میں قبضہ کر لیا تھا۔شہر کے بعض حصوں میں فروری 2016 تک مزاحمت جاری رہی تاہم اس کے بعد یہ مکمل طور پر حکومت کے اختیار میں آگیا۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...