”مجھے شک ہے کہ پاکستانی ٹیم مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث تھی“

”مجھے شک ہے کہ پاکستانی ٹیم مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث تھی“
”مجھے شک ہے کہ پاکستانی ٹیم مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث تھی“

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مکی آرتھر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مکی آرتھر ماضی میں پی سی بی کے ساتھ ایک تنازعے میں بھی ملوث رہ چکے ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

اکتوبر 2010ءمیں مکی آرتھر نے جنوبی افریقی ویب سائٹ نیوز 24 کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی ٹیم پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا اور ان کا یہ بیان پوری دنیا کے میڈیا میں شائع ہوا۔ اپنے اس انٹریو میں انہوں نے 2007ءمیں جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان پاکستان میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں شک ہے کہ پاکستانی ٹیم اس سیریز میں مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث تھی ۔ اس وقت پاکستانی ٹیم کی قیادت شعیب ملک کے سپرد تھی۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

مکی آرتھر نے اس انٹرویو میں پانچویں اور فیصلہ کن میچ کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستانی ٹیم کو جیتنے کیلئے 234 رنز درکار تھے اور ایک مرحلے پر اس نے صرف 6 وکٹوں پر 209 رنز بنا لئے تھے لیکن پھر پوری ٹیم 219 رنز پر آو¿ٹ ہوگئی۔مکی آرتھر نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ ان کے پاس اس الزام سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہیں لیکن کھیل کی سمجھ بوجھ یہ بتا دیتی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔

اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مکی آرتھر کو لیگل نوٹس بھیجا تھا جس پر انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ انہوں نے اس انٹرویو میں ایسی کوئی بات نہیں کہی اور ان کے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کیا گیا۔

مزید : کھیل