بی بی سی کی متعصبانہ رپورٹنگ، سینئر شامی خاتون اینکر نے ادارے سے استعفیٰ دے دیا

بی بی سی کی متعصبانہ رپورٹنگ، سینئر شامی خاتون اینکر نے ادارے سے استعفیٰ دے ...
بی بی سی کی متعصبانہ رپورٹنگ، سینئر شامی خاتون اینکر نے ادارے سے استعفیٰ دے دیا

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی کی ایک سینئر خاتون اینکر نے شام میں جاری جنگ کی متعصبانہ رپورٹنگ کرنے پر برطانوی ادارے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

آرٹی نیوز کے مطابق شام سے تعلق رکھنے والے خاتون صحافی دیمہ عزالدین گزشتہ 8 برس سے بی بی سی سے وابستہ تھیں تاہم اب انہوں نے اپنے مادر وطن شام کے متعلق متعصبانہ رویہ رکھنے پر بی بی سی کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ اپنے فیس بک پیج پر دیمہ عزالدین نے لکھا کہ ” میں نے ایک سال بعد آن سکرین آنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم میں ایسا نہیں کرسکی۔ بی بی سی کے عظیم ادارے نے جو معیارات اپنائے ہیں وہ اول درجے کے میڈیا میں کمال کے ہیں لیکن میرے بی بی سی کو خیر باد کہنے کی راہ میں یہ چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتیں کیونکہ ان معیارات کا کبھی درست استعمال نہیں کیا جاتا۔ اب جب میں بی بی سی کو خیر باد کہہ رہی ہوں تو اس کی وجہ یہی ایک رویہ ہے کہ اپنی مرضی کے معیارات کا تعین کیا جاتا ہے۔ میرے زخمی مادر وطن پر بی بی سی کی خبروں نے مجھے اپنا راستہ الگ کرنے پر مجبور کیا“۔

واضح رہے کہ شامی باغیوں کی طرف سے الزام لگایا جاتا ہے کہ بشار الاسد کے مظالم کے خلاف بی بی سی کا رویہ متعصبانہ ہے اور بی بی سی بشارالاسد کے ساتھ ہمدردی جتاتا ہے۔ شامی باغی بی بی سی کے نامہ نگار آصف عبود پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ مظلوم لوگوں کے خلاف پراپیگنڈا کرتا اور بی بی سی کے پلیٹ فارم سے غلط خبریں پھیلانے کا کام کررہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی